سوشیل میڈیا کا غلط استعمال ۔ اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کا قتل

غازی آباد اُترپردیش میں ایک بزرگ کے ساتھ مارپیٹ اور ان کی داڑھی کاٹنے‘انہیں غیر اسلامی نعرہ لگانے کے لئے مجبور کرنے سے متعلق ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا جس پر راہول گاندھی نے تک شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔جس کے جواب میں آدتیہ ناتھ نے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔

اس ویڈیو کا سچ سامنے آیا ہے اور یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے کہ بزرگ کو مار پیٹ کرنے والے، ان کی داڑھی تراشنے وا لے ہمارے اپنے نوجوان ہیں۔آپسی اختلافات کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

یہ حقیقت ہے کہ اترپردیش میں مسلمانوں پر ظلم و ستم، ماب لنچنگ جیسے اَن گنت واقعات پیش آئے ہیں۔خود حکومت اترپردیش کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، تاہم جب غازی آباد جیسا واقعہ پیش آتا ہے اور پولیس و حکومت کی جانب سے نہ صرف اس کی وضاحت کی جاتی ہے اور ویڈیو وائرل کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ٹوئیٹر کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کیا جاتا ہے تو ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔

بزرگ پر حملہ کرنے والے یقینا ”اُلو کے پٹھے“ ہی رہے ہوں گے جنہوں نے یہ ویڈیو وائرل بھی کیا، کیوں کہ ایک ایسے وقت جب سوشیل میڈیا سے متعلق سخت قوانین نافذ کئے جارہے ہیں اور کسی بھی ویڈیو کی سچائی کا پل بھر میں Fact Check کے ذریعہ پتہ چل جاتا ہے، ان کی یہ حرکت   ” آبیل مجھے مار“ جیسی ہے۔

سوشیل میڈیا سے متعلق قوانین صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ تمام ترقی یافتہ ممالک نے بھی نافذ کئے ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف سوشیل میڈیا سے اظہار خیال کی آزادی کے نام پر ہر قسم کی بکواس، غلط اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں تو دوسری طرف یہ پلیٹ فارمس خود حکومتوں کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

چنانچہ امریکہ، کناڈا اور دوسرے ممالک نے فیس بک، گوگل، ٹوئیٹر جیسے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس کو پابند کیا ہے کہ وہ ان پلیٹ فارمس سے پوسٹ کئے جانے والے مواد کی جانچ خود کریں۔

ہندوستان نے بھی ایسی پابندی عائد کی ہے۔واٹس اَیپ، ٹوئیٹر سے ٹکراؤ جاری ہے۔چین سے اختلافات کے دوران Tik-Tok پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

سوشیل میڈیا سے متعلق نئے قوانین کے نفاذ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔خودکشی ہو کہ قتل عام، ان واقعات کو سوشیل میڈیا پر لائیو پوسٹ کیا جارہا ہے۔

ہندوستان نے 25/فروری 2021ء سے انفارمیشن ٹکنالوجی کے تحت INTER MEDIARY GUIDELINES & DIGITAL MEDIA ETHICS CODE لاگو کیا ہے۔اس کے تحت واٹس اَیپ میسجیس کوخواہ کتنے ہی بار فارورڈ کیے جائیں سب سے پہلے بھیجنے والے تک رسائی کو ممکن بناتا ہے۔

فیس بک نے بھی ہندوستان کے لئے ایک نیا انٹرفیس تیار کیا ہے جبکہ ٹوئیٹر نے بھی بہت سارے نئے اصولوں سے اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ اس کی جارحانہ پالیسی اپنی جگہ برقرار ہے۔ فیس بک‘ واٹس اَیپ، گوگل اور ٹوئیٹر ہندوستان سے ٹکراؤ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔

کیوں کہ نصف سے زیادہ ہندوستانی آبادی اس کے صارفین پر مشتمل ہے۔85 فیصد ہندوستانی یوٹیوب، 75.7 فیصدفیس بک،75 فیصد واٹس اَیپ، 71فیصد انسٹا گرام، 55 فیصد فیس بک میسنجر، 50 فیصد ٹوئیٹر استعمال کرتے ہیں۔ Halo، ٹیلیگرام، اسناپ چیاٹ‘ لنکڈ ان جیسے پلیٹ فارمس کے صارفین 22 فیصد تا 40 فیصد ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کا زیادہ تر وقت سوشیل میڈیا پر گزرتا ہے۔اس کا صحیح استعمال ہو تو ایک انقلاب آسکتا ہے۔ مذہبی، تعلیمی، تہذیبی ثقافتی، شعبوں میں اس کا استعمال ہمیں ایک نئی طاقت عطا کرسکتا ہے۔ویسے بہت سارے افراد اور ادارے اس کا مثبت اور تعمیری استعمال کر رہے ہیں، مگر مٹھی بھر افراد اس کا غلط استعمال کرتے ہیں تو پوری قوم کے منہ پر کالک لگ جاتی ہے۔

سوشیل میڈیا کا غیر حضرات ان کی تنظیمیں اپنے اتحاد و استحکام کے لئے استعمال کررہی ہیں۔اور ہم میں سے بیشتر نے اس نعمت کو لعنت بناکر رکھ دیا ہے۔مسلکی جھگڑے،ایک دوسرے کی کردار کشی،غلط خبروں کو وائرل کرنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔

نیپال کے واقعات کی ویڈیو کو کبھی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے طور پر پیش کردیتے ہیں تو کبھی کسی اور ملک کے واقعات کو اپنے ملک کے واقعات بناکر پیش کردیا جاتا ہے۔اس سے ان خبطیوں کو شاید ذہنی سکون ملتا ہوگا،مگر لاکھوں مسلمانوں کا سکون برباد ضرور ہوجاتا ہے۔

سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس کے غلط استعمال نے کئی نوجوانوں کے کیریئر کو برباد کردیا ہے۔”یوٹیوب“ کا اس قدر بے جا استعمال ہورہا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ہر قسم کی بکواس اور ہر قسم کا واہیات پن کا اس کے ذریعہ ہمارے نوجوان مظاہرہ کررہے ہیں۔

یقینا ان کو ایک نئی پہچان ملنے لگی ہے مگر جب برا وقت آتا ہے تو یہی پہچان عذاب جان بن جاتی ہے۔ کتنے نوجوانوں کے خلاف غداری اور ہتک عزت کے مقدمات درج کئے گئے جانے کتنوں کو قید و بند کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں۔اگر حق کی آواز اٹھائی جارہی ہے تو پھر بھی قوم کی ہمدردی تو ساتھ ہوسکتی ہے، قوم ساتھ نہیں ہوسکتی۔ہاں جمعیتہ علماءہند جیسے ادارے ضمانت کا انتظام کرنے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں۔

اگر اپنی اَنا کی تسکین کے لئے کسی کی کردار کشی کی جارہی تو چند لوگ مروت میں ساتھ دے سکتے ہیں، مگر دل ہی دل میں وہ آپ کو اچھا نہیں سمجھتے اور سمجھنا بھی نہیں چاہئے، کیوں کہ برائی کی حمایت کرنے والا بھی گناہگار ہی ہوتا ہے۔

ایک دور تھا جب سر عام چھیڑ خانی ہوتی، کبھی اہلیان محلہ تو کبھی پولیس سزا دیتی تو لڑکوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی شرمندگی ہوتی۔اب سوشیل میڈیا کے ذریعہ یہ چھیڑ خوانی ہونے لگی ہے اور نوجوانوں سے زیادہ عمر رسیدہ حضرات اس میں ملوث ہیں۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو حرکت وہ کررہے ہیں ہوسکتا ہے کہ ان کے خاتون اہل خانہ سے بھی کوئی ایسی ہی چھیڑ چھاڑ کررہا ہو۔

سوشیل میڈیا کو اظہار خیال کی آزادی کا پلیٹ فارم کہا گیا ہے۔ہم نے بچپن میں پڑھا تھا کہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کی آزادی متاثر نہ ہو۔جب دوسروں کی آزادی متاثر ہوتی ہے تو پھر اس کا ردعمل بھی ہوتا ہے، اگر فریق خاتون ہے تو اس کے ساتھ ہمدردی فطری ہے۔

بہرحال! غازی آباد ہو یا حیدرآباد ایسے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ کوئی ”غیر“ ہمارے خلاف زہر اُگلتا ہے تو فوری ہمارا ایمان تازہ ہوجاتا ہے اور ہم سوشیل میڈیا پر جہاد شروع کردیتے ہیں۔اب ہم ان کا کیا کریں جو اپنے ہی کلمہ گو بھائی، بہنوں کی کردار کشی کرتے ہیں،

ایک دوسرے کے مسالک کا مذاق اڑاتے ہیں، افسوس صد افسوس! کورونا کی دو لہروں نے بھی ہمیں نہیں سدھارا‘ ”غیر“ ہمارے کسی بھائی کو مارتے ہیں، برا سلوک کرتے ہیں تو ہمارا غم و غصہ فطری ہے مگر اب کیا کریں کہ شاہ علی بنڈہ کے زبیر علی کو قتل کردیا جاتا ہے اور قاتل کوئی اور نہیں عبداللہ، مظفر، طارق نامی نوجوان ہیں۔اٹھارہ سے بائیس برس کی عمر کے یہ نوجوان شراب نوشی بھی کرتے ہیں، آوارہ گردی بھی کرتے ہیں اور اس عمر میں قتل کا ارتکاب بھی۔

بہادرپورہ میں ایک نوجوان اعجاز کا قتل ہوجاتا ہے اور اس کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوتے ہیں رفیق، عکاز، احمد اورعنایت۔ ہمارے معاشرہ کے نوجوانوں میں یہ جارحیت پسندی کا رجحان کیوں پیدا ہونے لگا۔

اس کے لئے ذمہ دار والدین بھی ہیں اور وہ عزیز و اقارب بھی جو ان نوجوانوں کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کی اصلاح کی کوشش نہیں کئے۔

جب پولیس قاتلوں کے نام کا اعلان کرتی ہے تو کیا قوم کا سر شرم سے نہیں جھک جاتا۔ والدین کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتے رہیں۔سماجی بائیکاٹ ہوگا اور محلہ تبدیلی کے لئے مجبور ہوجائے۔

مسلم معاشرہ کے وہ نوجوان جو بلاقصور فرضی الزامات کے تحت برسوں جیلوں میں رہے اور جب جیلوں سے رہا ہوئے تو نوجوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ مسلم سماج کا رول کس قدر بے رحمانہ ہوتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ بے قصور ہیں، ان سے رشتہ ناطہ ختم کرلیا جاتا ہے کہ کہیں ان کی بلا ان پر نہ آجائے۔جو نوجوان اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے قاتل ہیں، کیا اس سے سماج ہمدردی کرسکتا ہے؟ بالکل نہیں!

ان نوجوانوں کو سزا ان کے سا تھ ساتھ ان کے والدین، بہن، بھائی کو ملتی ہے۔اگر ہم وقت پر اپنے بچوں کی صحیح دیکھ بھال کرلئے ہوتے، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے، ان کی مشکوک حرکتوں پر روکتے، ٹوکتے، ان کے موبائل پر نظر ہوتی،واٹس اَیپ میسجس کبھی کبھار دیکھ لیتے مگر ایسا ممکن نہیں۔

ہم اپنے بچوں کے لیے ہر قسم کے آرام اور آسائش کا انتظام کردیتے ہیں اور ان کی جانب سے بے فکر ہوجاتے ہیں، اس کا نتیجہ ساری زندگی اپنے بچوں کے مستقبل کی فکرمندی میں گزر جاتی ہے۔

 

مضمون نگار:
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی حیدرآباد
۔ فون:9395381226