فیمینیزم یا نسائیّت مخصوص عقیدہ و رویہ کا نام، عطیہ فاطمہ کی تصنیف” عصمت چغتائی کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی حسیّت ” کا اجراء

فیمینیزم یا نسائیّت مخصوص عقیدہ و رویہ کا نام
عطیہ فاطمہ کی تصنیف” عصمت چغتائی کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی حسیّت ” کا اجرا و تجزیاتی اجلاس
پروفیسر اشرف رفیع، ڈاکٹر سید مصطفیٰ کمال، علامہ اعجاز فرخ، ڈاکٹر اودیش رانی، ڈاکٹر رؤف خیر کا خطاب

حیدرآباد: 3۔جنوری ( رپورتاژ /سحرنیوزڈاٹ کام)

گذشتہ دنوں نسائی حسیّت سے متعلق اہم تحقیقی تصنیف ’’ عصمت چغتائی کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی حسیّت ‘‘ کا اجرا و تجزیاتی اجلاس منعقد ہوا ۔جس کا اہتمام اردوکلچرل اینڈ ہریٹیج فاوندیشن نے کیا۔ اردو ادب میں نسائی حسیّت کے موضوع پر اولین تحقیقی مقالہ ہے جو تاخیر سے کتابی شکل میں منظر عام پر آیا جس کی مصنفہ عطیہ فاطمہ ہیں۔

دانشوروں نے کتاب کا بصیرت افروز اور سیر حاصل جائزہ لیا۔ استاد الاساتذہ پروفیسر اشرف رفیع سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ نسائی حسیّت عصمت چغتائی سے پہلے پیشرو قلمکاروں کی تحریروں میں ملتی ہے لیکن عصمت چغتائی نے اوسط طبقہ کی خواتین پر بہت لکھا ہے عورت اور سماج سے جڑے ہرمسئلہ کو اٹھایا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ عطیہ فاطمہ نے عصمت چغتائی کی تحریروں کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور نازک مقامات سے آسانی سے گزر گئیں جو کسی طالب علم کی تحقیق اور تنقید کا ہنر ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ نے انتھک محنت تحقیق کا حق ادا کیا ہے۔ تحقیق کے لیے مختص دو سال کے عرصہ میں ویدک دور سے لیکر عصمت چغتائی تک ناولوں اور افسانوں کو پڑھ کر اس کا باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ انھوں 1990ء کی دہائی میں ایم فل کے لیےداخل کیا تھا اس وقت تحقیق کا معیار بلند تھا۔موجودہ دور میں ہر جامعہ میں تحقیق کا معیاد پست ہوا ہے۔

ڈاکٹر سید مصطفیٰ کمال مدیر شگوفہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ کتاب تنقید، تجزیہ اور زبان کے اعتبار سے اچھی کتاب ہے۔فیمینیزم یا نسائیت مخصوص عقیدہ و رویہ ہے۔ یہ عقیدہ و رویہ کسی ادیب یا شاعر کی تخلیقات میں نمایاں نظر آتا ہے تو قاری اس جانب متوجہ ہوتا ہے، عصمت چغتائی مقبول ادیبہ ہیں جن کی تحریریں اپنے عہد کا مکمل جائزہ ہے۔ان کے کردار سماج کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ عصمت چغتائی نے جس بے باکی اور سچائی سے لکھا اسی انداز میں عطیہ فاطمہ نے تحقیقی کام انجام دیااور اسی رویہ کو برقرار رکھا۔ عصمت چغتائی کی ناولوں اور افسانوں میں نسائی حسیّت کی جو خوبیاں ہیں اس کا جامع اور خوب صورت انداز میں مصنفہ نے جائزہ لیا ہے۔

ممتاز مورخ و دانشور علامہ اعجاز فرخ نے کہا کہ عصمت چغتائی کا قلم ایسا نشتر ہے جس کی تیز نوک کی چبھن کا احساس بھی نہ ہو اور خون بھی بہہ جائے ایسا قاتل کبھی دیکھا نہ سنا۔ عصمت کی شخصیت عجیب تھی جب لکھتیں تب رکابی میں برٖف کی ڈلیاں رکھتیں برف کی ایک ایک ڈلی منہ میں ڈالتیں اور لکھتی جاتیں آتش اور برف کا ایسا میل نہیں دیکھا۔ نسائی حسیّت ہر وجود سے دوسرے وجود میں الگ الگ ہوتی ہے لیکن جو محرومی جس کے ساتھ رہی ہو اسے ادبی حسیّات کی کسوٹی پہ پرکھ کر عصمت چغتائی نے پیش کیا ہے۔

علامہ نے کہا کہ عصمت چغتائی کی حسیّت کو کسی ایک زاویہ سے سمیٹ کر بیان کرنا مشکل ہے، عطیہ فاطمہ کے قلم میں لکھنے کی عجیب طاقت ہے جب وہ کسی موضوع کو ماحول کو یا منظر کو گرفت میں لیتا ہے تو مضبوطی سے جکڑے رکھتا ہے۔ ناولوں اور افسانوں میں نسائی حسیّت تلاش کرنا ایک نازک موضوع تھا اس سے گزرنا آسان کام نہیں تھا۔

ڈاکٹر اودیش رانی نے کہاکہ عورت پیدائشی طور پر شاعر و ادیب ہوتی ہے وہ لوری کے ذریعہ بچوں کوسُلاتی ہے اور کہانی سنا کر ان کی تربیت کرتی ہے جو ادب کی تخلیق میں بنیاد ہے۔عصمت چغتائی نے ہندستانی عورت کے بارے میں لکھا ہے جس کا عطیہ فاطمہ نے اپنی کتاب میں خوبصورتی سے تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں عصمت چغتائی اپنی خوبیوں کے ساتھ بھر پور نظر آتی ہیں۔ عطیہ فاطمہ نے قدیم وید ک دور سے لیکر عصمت چغتائی کے عصر تک عورت کے مقام کا بھر پور جائزہ ہ لیا ہے۔

شاعر و نقاد ڈاکٹر رؤف خیر نے کتاب کے ہر ایک باب کا مفصل جائزہ لیا  اور انھوں نے کہا کہ عصمت چغتائی کے ناولوں میں در آنے والے کرداروں کا عرق ریزی سے عطیہ فاطمہ نے جائزہ ہ لیکر نسائی حسیّت کا جواز پیش کیا ہے۔عطیہ فاطمہ نے اس موضوع کے ساتھ بھر پور انصاف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر جتنا بھی لکھا گیا ہے اس میں عطیہ فاطمہ کی تحقیق نہ صرف اولیت کا درجہ رکھتی ہے بلکہ ان سب کا سرچشمہ ہے۔

مصنفہ عطیہ فاطمہ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ استاد محترم پروفیسر مغنی تبسم صاحب نے مقالہ کا عنوان تجویز کیا۔ یہ موضوع اردو فکشن کی تحقیق و تنقید میں نیا تھا اس سےقبل اس پر کام نہیں ہوا تھا۔ اس وقت وہ سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں جو آج ہیں موضوع پر مواد نہ کے برابر تھا اور اس کا حصول مشکل مرحلہ تھا جس کے لیے کتب خانوں کی خاک چھان کر چند ایک انگریزی کتابوں سے استفادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب مقالہ مکمل ہو ا تو یہ بعد کے لکھے جانے والے مقالوں کے لیے سرچشمہ بنا۔

عطیہ فاطمہ نے کہا کہ نگران کار پروفیسر بیک احساس کی نگرانی میں لکھا جانے والا یہ پہلا مقالہ تھا۔ اس وقت عصمت کو پڑھنا شجر ممنوعہ سمجھا جاتا تھا۔شادی سے انکار عصمت چغتائی کی پہلی بغاوت تھی،انھوں نے اپنے ارد گرد سے کردار اخذ کر کے اپنی کہا نیوں میں پیش کیا ہے۔مقالہ لکھنے کے دوران ان کی کہانیوں کے کردار آس پاس نظر آئے۔ سعودی عرب میں طویل عرصہ تک قیام مقالہ کی اشاعت میں تاخیر کا باعث بنا۔اب اردو کلچر ل ہیریٹیج فاونڈیشن کے بانی و صدر آرکیٹیکٹ محمد عبدالرحمن سلیم کی شخصی دلچسپی اور اصرا ر کی وجہ سے تقریب کا اہتمام ممکن ہوسکا۔

صدر اجلاس آرکیٹیکٹ محمد عبدالرحمٰن سلیم بانی و صدر اردو کلچرل ہیریٹیج فاونڈیشن و یو سی ایچ ایف ٹوسٹ ماسٹرس کلب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسٹیج پر دانشوروں کے ساتھ ان کی موجودگی خوش قسمتی ہے۔ نوجوان نسل کے لیے فاونڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ فاونڈیشن کا مقصد اردو زبان و ادب اور کلچر کا فروغ نشر و اشاعت و ترویچ ہے اوریہ پروگرام بھی اسی کی کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاونڈیشن طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کو ابھارنے مختلف کالجوں اور اسکولوں میں تقریری ، تحریری اور نظم خوانی کے مقابلوں کا اہتمام کرتا ہے۔ فاونڈیشن کی جانب سے ملک اور بیرون ملک کئی کتابوں کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا ۔ عطیہ فاطمہ کی یہ کتاب بہت قیمتی ہے جو پڑھنے کے لائق ہے۔

ابتدا میں آرکیٹیکٹ عمران احمد سلیم کنونیر جلسہ و جنرل سیکریٹری فاونڈیشن نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور فاونڈیشن کے اغراض و مقاصد سے واقف کروایا، عطیہ مجیب عارفی نے موثر و دلچسپ انداز میں کاروائی چلائی ۔ جلسہ کے ایک اور مقرر ڈاکٹر ایم اے قدیرکا ارسال کردہ مضمون غوث ارسلان نے پڑھ کر سنایا جو کسی وجہ سے شرکت سے قاصر رہے ۔اختتام مختصر شعری نشست پر ہوا جس میں آرکیٹیکٹ محمد عبدا لرحمٰن سلیم، ڈاکٹر رؤف خیر، سردار سلیم، خالد بصیر اور عطیہ مجیب عارفی نے اپنے کلام سے نوازا۔