راہول گاندھی جب قلی بن گئے، آنند وہار اسٹیشن پر قلیوں سے ملاقات
قلی کا ڈریس پہنا، بیچ لگایا اور مسافروں کا سامان بھی اٹھایا،مسائل سے واقفیت
نئی دہلی : 21۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
سابق صدر آل انڈیا کانگریس AICC# و رکن پارلیمان وائناڈ، کیرالہ راہول گاندھی دہلی کے آنند وہار ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔جبکہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس جاری ہے۔جہاں انہوں نے قلیوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔اس موقع پر راہول گاندھی کو قلیوں نے اپنا ڈریس بھی پہنایا اور راہول گاندھی کے ہاتھ پر قلی نمبر 105 کا بیچ (Billa) بھی باندھا جیسا کہ قلی باندھتے ہیں۔ اس موقع پر قلی نظر آنے والے رکن پارلیمان راہول گاندھی نے مسافرین کا لگیج بھی اپنے سر پر اٹھایا۔اس دورہ کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔
انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے ویڈیو اور تصاویر ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا گیاہے کہ” عوام کے ہیرو راہول گاندھی جی نے آج دہلی کے آنند وہارریلوے اسٹیشن پر اپنے پورٹر (قلی) دوستوں سےملاقات کی۔حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہواتھاجس میں ریلوے اسٹیشن کے پورٹر دوستوں نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔آج راہل جی ان کے درمیان پہنچے اور ان کی باتیں سنیں،کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ بھارت جوڑو کا سفر جاری ہے۔
دوسری جانب سیاسی ماہرین اور آزاد صحافیوں کا کہناہےکہ سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی راہول گاندھی کی مقبولیت کا گراف کنیا کماری سے کشمیر تک منظم کی گئی ان کی 4،000 کلومیٹر طویل تاریخی پیدل یاترا بھارت جوڑو کے بعد سے لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔
گجرات کی عدالت کی جانب سے 24 مارچ کو راہول گاندھی کو مودی کنیت معاملہ میں دو سال کی سزاء کے بعد انہیں لوک سبھا کی رکنیت سے ناہل قرار دیا گیا تھا(بعدازاں 4 اگست کو سپریم کورٹ نے اس سزاء پر روک لگا دیا،جس کےبعد ان کی رکنیت بحال کی گئی تھی)کے بعد سے راہول گاندھی نے ایک نیا سلسلہ شروع کردیاکہ وہ مختلف ریاستوں میں تمام شعبہ جات سےوابستہ عوام سے اچانک ملاقات کر تےہوئے انہیں درپیش مسائل سے واقفیت حاصل کر رہے ہیں۔
راہول گاندھی نے چند ماہ قبل ایک عام انسان کی طرح چندی گڑھ تک ایک ٹرک میں سفر کرکے ساتھ ہی دھابوں پر ڈرائیورزسےملاقات کرتے ہوئے انہیں درپیش پریشانیوں سے واقفیت حاصل کی۔پھر موٹر سیکل میکانکس سے ملاقات کی،کوچنگ سنٹرز کےطلبہ سے بھی ملاقات کی۔ گذشتہ ماہ جون میں اپنے دورہ امریکہ کےموقع پر بھی راہول گاندھی نے وہاں ایک ٹرک میں سفر کیا تھا۔
بعدازاں نسلی تشدد سے شدیدمتاثر شمالی ریاست منی پور کا بھی راہول گاندھی دورہ کرتےہوئے ریلیف کیمپس میں پہنچ گئے تھے اور متاثرہ مرد و خواتین اور بچوں سےملاقات کرتےہوئے انہیں حوصلہ دیا۔راہول گاندھی نے 8 جولائی کو ریاست ہریانہ کےسونی پت کے گاؤں مدینا میں دھان کےکھیتوں کے دورے کےدوران خاتون زرعی مزدوروں اور کسانوں سےتفصیلی بات چیت کی۔ان کےساتھ فصل بھی بوئی ، کھیت میں کسانوں کو بٹھا کر ٹریکٹر بھی چلایا۔ان زرعی مزدور خواتین کے ساتھ گھل مل گئے اوران کے ساتھ بیٹھ کر ان کا کھانا بھی کھایا۔
بعدازاں ان خواتین کو دہلی طلب کرتے ہوئے ان کو سیر کروائی اور اپنے گھر کھانے پر بھی مدعو کیا تھا۔پھر اس کے بعد گذشتہ ماہ صبح 4 بجے راہول گاندھی دہلی کی سب سے بڑی آزاد پور منڈی پہنچ گئے۔وہاں کسانوں اور سبزی فروشوں سے ملاقات کی ۔پھر راہول گاندھی نے لداخ کا طویل دورہ بھی کیا اور وہاں کے عوامی و سماجی نمائندوں کے علاوہ عوام سے راست ملاقات کی۔
اس طرح کے دوروں کےذریعہ راہول گاندھی جہاں کانگریس پارٹی کے کیڈر میں جوش پیدا کررہے ہیں وہیں عام آدمی کی پسند بنتے جارہے ہیں۔ جبکہ میڈیا پر انہیں کوئی جگہ نہیں دی جا رہی ہے۔تاہم سوشل میڈیاکے تمام پلیٹ فارمز پر راہول گاندھی کی خوب تعریف کی جارہی ہے۔اب تو راہول گاندھی کا یوٹیوب چینل بھی بنا دیا گیا ہے۔جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
” یہ بھی پڑھیں "


