پنجاب میں کانگریس پھر بحران کا شکار، صدرپردیش کانگریس نوجوت سنگھ سدھو نے استعفیٰ دیا

پنجاب میں کانگریس پھر بحران کا شکار
صدر پنجاب پردیش کانگریس نوجوت سنگھ سدھو نے استعفیٰ دیا

چندی گڑھ:28۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست پنجاب میں برسراقتدار کانگریس پارٹی آج اس وقت دوبارہ بحران کا شکار ہوگئی جب پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔

نومنتخب چیف منسٹر پنجاب چرنجیت سنگھ چنّی کی جانب سے نومنتخب وزراء میں وزارتوں کی تقسیم کے فوری بعد نوجوت سنگھ سدھو نے اپنا استعفیٰ ٹوئٹر پر پوسٹ کردیا۔

یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگا کہ 18 ستمبر کو چیف منسٹر پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ اچانک اپنے عہدہ سے مستعفی ہوگئے تھے اور انہوں نے ریاستی گورنر بنواری لال پروہت سے ملاقات کرکے اپنے استعفیٰ کا مکتوب حوالے کیا تھا۔

اور کئی دنوں سے پنجاب کانگریس میں چیف منسٹر کیپٹن امریندرسنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان جاری رسہ کشی کو اس استعفیٰ کی وجہ بتائی گئی تھی!!

Photo Courtesy : Navjot Singh Sidhu’s Twitter Handle

کیپٹن امریندر سنگھ کے استعفیٰ کے دوسرے ہی دن 19 ستمبر کو پنجاب کے چیف منسٹر کی حیثیت سے چرنجیت سنگھ چنّی کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا چونکہ آئندہ 6 ماہ میں ملک کی مختلف ریاستوں میں جہاں بی جے پی اقتدار پر ہے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں تو سیاسی پنڈتوں نے چرنجیت سنگھ چنـی کے انتخاب کو کانگریس کا ایک ماسٹر اسٹروک کہا تھا۔

کیونکہ ان کا تعلق دلت طبقہ سے ہے اور چرنجیت سنگھ چنی نے پنجاب کے پہلے دلت چیف منسٹر بننے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا اور پنجاب میں 35 فیصد دلت رائے دہندےموجود ہیں اور اس کا اثر اترپردیش میں ہونے والے انتخابات پر بھی پڑسکتا ہے اور نڈھال و بے حال کانگریس کو کچھ طاقت حاصل ہوسکتی ہے!!

لیکن آج صدر پنجاب کانگریس کی حیثیت سے نوجوت سنگھ سدھو کے استعفیٰ نے کانگریس کو دوبارہ پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

ٹوئٹر پر صدر کل ہند کانگریس کمیٹی مسز سونیا گاندھی کے نام پوسٹ کردہ اپنے استعفیٰ کے مکتوب میں نوجوت سنگھ سدھو نے لکھا ہے کہ ” انسان کے کردار کا خاتمہ سمجھوتے کے کونے سے ہوتا ہے، میں پنجاب کے مستقبل اور پنجاب کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا، چنانچہ میں پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دیتا ہوں اور کانگریس کی خدمت جاری رکھوں گا”۔

پنجاب کانگریس صدر کی حیثیت سے نوجوت سنگھ سدھو کے استعفیٰ کے نصف گھنٹہ بعد حالیہ سابق چیف منسٹر پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” میں نے آپ سے کہا تھا کہ وہ ایک مستحکم آدمی نہیں ہے اور سرحدی ریاست پنجاب کے لیے موزوں نہیں ہے "۔ 

ذرائع کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو ڈپٹی چیف منسٹر سکھجیندر سنگھ رندھاوا کو وزیر داخلہ کا قلمدان دئیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ قلمدان روایتی طور پر وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہئے!

کیپٹن امریندر سنگھ کے استعفیٰ کے بعد چیف منسٹر کے عہدہ کے لیے رندھاوا کے نام کی زیرگشت کے وقت بھی سدھو نے اشاروں میں اس کی مخالفت کی تھی۔

مانا جارہا تھا کہ اس وقت نوجوت سنگھ سدھو کے سر پر چیف منسٹر پنجاب کے عہدہ کا تاج رکھا جائے گا تاہم قرعہ فال چرنجیت سنگھ چنی کے نام نکل آیا جس کے بعد اطلاع تھی کہ سدھو پارٹی ہائی کمان کے اس فیصلے سے ناراض ہیں؟

یاد رہے کہ 117 رکنی پنجاب اسمبلی میں کانگریس کے 80 ارکان اسمبلی ہیں اور آئندہ 6 ماہ میں پنجاب ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں جہاں کانگریس کو اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی سے سخت مسابقت کا سامنا ہے! ایسے میں پنجاب کانگریس میں آپسی سرپھٹول سے کانگریس کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان جتایا جارہا ہے؟! 

 

پنجاب میں امریندرسنگھ کے استعفیٰ اور چرنجیت سنگھ چنی کے انتخاب پرمشتمل سحر نیوز ڈاٹ کام کی تفصیلی خبر اس لنک پر "

چرنجیت سنگھ چنّی ہونگے پنجاب کے نئے چیف منسٹر، کل لیں گے حلف