میدک ضلع : ہسپتال منتقل کی جارہی حاملہ خاتون کی کار کو 40 منٹ تک روک دیاگیا!! پرانے چالانات کی رقم ادا کرنے کی ہدایت

میدک ضلع: ہسپتال منتقل کی جارہی حاملہ خاتون کی کار کو 40 منٹ تک روک دیاگیا!!
پرانے چالانات ادا کرنے کی ہدایت،موبائل نیٹ ورک نہ ہونے سے خاندان پریشان

حیدرآباد؍میدک: 28۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

تلنگانہ پولیس کی شبیہ فرینڈلی پولیس کی حیثیت سے مشہور ہے،اکثر وبیشتر تلنگانہ پولیس کے ملازمین اور عہدیداروں کے متعلق سوشل میڈیا پر ایسے پوسٹس زیر گشت رہتے ہیں جس سے پیغام عام ہوتا ہے کہ پولیس اپنی خدمات سے ہٹ کر سماجی خدمات کا بھی ریکارڈ رکھتی ہے۔

لیکن میدک ضلع پولیس کے چند عہدیداروں نے آج اوور ایکشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی کار کو روک دیا جس کے ذریعہ دردزہ سے پریشان حاملہ خاتون کو زچگی کی غرض سے میدک کے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا۔

پولیس عہدیدار بضد تھے کہ اس کار پر موجود چالانات کی رقم ادا کرنے کے بعد ہی جانے کی اجازت دی جائے گی۔ 40 منٹ تک دردزہ سے تڑپ رہی خاتون کی کار کو روک کر موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کے باعث بالآخر وہاں سے جانے کی اجازت دی گئی۔

” سوشل میڈیا پر وائرل میدک ضلع میں پیش آئے اس واقعہ کا ویڈیو ” 

اس افسوسنا ک واقعہ کی تفصیلات کے مطابق میدک ضلع کے نارائن کھیڑ کی ساکن حاملہ خاتون شلپا کو دردزہ کی شکایت پرافراد خاندان کی جانب سے زچگی کی غرض سے کار کے ذریعہ میدک کے ضلع ہسپتال کو منتقل کیا جارہا تھا کہ درمیان میں اللہ درگم موضع کے قریب گاڑیوں کی تلاشی مہم میں مصروف پولیس نے اس کار کو روک کر تلاشی لی اور کار ڈرائیور کو حکم دیا کہ اس کار پر کئی چالات زیر التوا ہیں اور فوری ادا کیے جائیں۔

جس پر کار ڈرائیور،حاملہ خاتون اور اس کے افراد خاندان نے پولیس سے کہا کہ فی الوقت ان کے پاس نقد رقم موجود نہیں ہے اور وہ چالانات کی رقم آن لائن ادا کردیں گے۔تاہم پولیس عہدیدار بضد تھے کہ اسی وقت چالانات کی تمام رقم ادا کی جائے اور اس کے بعد ہی انہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔

جس پر یہ لوگ اپنے موبائل فون کے ذریعہ اسی مقام سے آن لائن ادائیگی کے لیے تیار ہوگئے تاہم بدقسمتی سے اس مقام پر موبائل نیٹ ورک نہیں آرہا تھا جس کی وجہ سے موبائل منی ٹرانسفر بھی ممکن نہیں تھا۔40 منٹ تک حاملہ خاتون اور پریشان حال اس کے افراد خاندان پولیس کی ضد اور حکم کے آگے بے بس تھے اور 40 منٹ تک حاملہ خاتون کو لے کر اسی مقام پر کار میں موجود رہے۔

نیٹ ورک کی عدم موجودگی کے مسئلہ کو بھی نظر انداز کرنے والے ان پولیس عہدیداروں کو ایک حاملہ خاتون پر رحم نہیں آیا اور حاملہ خاتون دردزہ سے تڑپتی رہی بعدازاں جب موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ ہنوز ویسا ہی رہا تب پولیس نے انہیں وہاں سے روانہ ہونے اور میدک پہنچ کر فوری چالانات کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کے اس رویہ کے خلاف اللہ درگم کے دیہاتی شدید برہمی کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا سوال ہے کہ اگر اس دؤران حاملہ خاتون کو کچھ ہوجاتا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی تھی!!

دوسری جانب افراد خاندان اور ڈرائیور کا کہنا ہے کہ کار روکنے کے بعد پولیس نے حاملہ خاتون کے کاغذات طلب نہیں کیے اور نہ ہی انہوں نے پولیس کو حاملہ خاتون کے طبی کا غذات دکھائے!!

کسی نے اس سارے واقعہ کا ویڈیو لے کر سوشل میڈیا پر وائرل کردیا ہے۔

جس کے بعد زیادہ تر عوام سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ضلع میدک محترمہ چندنا دیپتی آئی پی ایس سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس سارے واقعہ کی تحقیقات کے بعد اس واقعہ کے ذمہ دار پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔