حیدرآباد کے تاریخی حمایت ساگر کے 12 اور عثمان ساگر کے 6 دروازے کھول دئیے گئے
آبگیر علاقوں سے دونوں ذخائر آب میں بڑے پیمانے پر پانی کی آمد کا سلسلہ جاری
حیدرآباد: 28۔ستمبر(سحرنیوز ڈاٹ کام)
گلاب طوفان کے اثرات سے ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے جس سے نشیبی اور اہم شاہرائیں جھیلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔
دوسری جانب حیدرآباد کے تاریخی ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کی صورتحال بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے گزشتہ دو ہفتوں سے ان دونوں ذخائر آب میں آبگیر علاقوں سے بڑی تعداد میں پانی داخل ہورہا ہے جس نے عہدیداروں کو متحرک کر رکھا ہے جویکے بعد دیگر دروازے کھولتے ہوئے زائد پانی کو خارج کیا جارہا ہے تاکہ ان ذخائر آب پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جائے۔

عہدیداروں نے کل پیر کے دن سے آج دوپہر تک حمایت ساگر کے 10 دروازے کھول دئیے ہیں جبکہ دو دروازے پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہیں۔
جبکہ عثمان ساگر کے بھی 4 دروازوں کو کھول دیا گیا ہے تاکہ موسیٰ ندی میں اضافی پانی کا اخراج عمل میں لایا جاسکے جبکہ یہاں بھی پہلے سے دو دروازے کھلے ہوئے تھے۔
” عہدیدار آج ذخیرہ آب عثمان ساگر کے گیٹس کھولتے ہوئے "۔ (ویڈیو)
عہدیداروں کے مطابق حمایت ساگر کے تاحال 12 دروازے دو فیٹ بلندی تک کھولے جاچکے ہیں تاکہ 7700 کیوزک فاضل پانی کا اخراج عمل میں لایا جاسکے جبکہ اس ذخیرہ آب میں آبگیر علاقوں سے اوسطاً 5000 کیوزک پانی داخل ہورہا ہے۔
یہاں ایک دروازہ پہلے ہی سے کھلا ہوا تھا اور پیر کی رات ایک اور دروازہ کھولنے کے بعد عہدیداروں نے منگل کی صبح 6.00 بجے دو دروازے، 8.00بجے دو دروازے، 11.00بجے دو دروازے اور 3.00 بجے مزید دو دروازے کھول دئیے ہیں۔اس طرح حمایت ساگر کے جملہ 17 دروازوں میں سے اب تک 12 دروازوں کی کشادگی عمل میں لائی گئی ہے۔
دوسری طرف عثمان ساگر میں بھی اتوار سے اب تک 15 کے منجملہ 6 دروازے تین فٹ بلندی تک کھول دیے گئے ہیں تاکہ فاضل پانی کا موسیٰ ندی میں اخراج عمل میں لایا جاسکے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ توقع کے برعکس اس مرتبہ عثمان نگر تالاب میں بھی آبگیر علاقوں سے زبردست پانی کا بہاؤ دیکھا جارہا ہے حالانکہ غالب گمان یہ تھا کہ یہ ذخیرہ آب اب وہ رحمت کدہ نہیں رہا جہاں کبھی بڑی تعداد میں میٹھا پانی ان آبگیر علاقوں سے آتا تھا جو کہ اب خشک سالی کی مار جھیل رہے ہیں۔
تاہم اس کی قسمت پھر سے جاگ اٹھی اور یہ ذخیرہ آب ایک بار پھر لبریز ہوگیا جہاں آبگیر علاقوں سے 1300 کیوزک پانی کا بہا ؤ عمل میں آرہا ہے اور عہدیداروں کو 2100 کیوزک پانی کا موسیٰ ندی میں اخراج عمل میں لانے کے لیے چار دروازے کھولنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اس طرح اب تک میٹھے پانی کے ان دونوں ذخائر آب کے جملہ 18 دروازے کھولے جاچکے ہیں۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ تیز بارش کے ساتھ آبگیر علاقوں سے پانی کے بڑے پیمانے پر داخلے سے دونوں ذخائر آب پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے،ایسے میں عہدیدار ضرورت پڑنے پر مزید دروازوں کی کشادگی عمل میں لاسکتے ہیں!!
OsmanSagarLake #HimayathSagarLake#
GulabCyclone #Telangana#

