حیدرآباد ایرپورٹ پر دبئی سے پہنچے مسافر کے قبضہ سے
46 لاکھ53 ہزار روپئے مالیتی 957 گرام خالص سونا ضبط
سونا چھپاکر لانے کے طریقہ سے عہدیدار بھی حیران
حیدرآباد: 16۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام)
حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ(شمس آباد ایرپورٹ) پرمحکمہ کسٹمس کے عہدیداروں کی چوکسی کے باعث بیرون ممالک سے بڑی مقدار میں اسمگل کیا جانے والا اور مقدار سے زائد چھپاکر لائے جانے والے سونا کے علاوہ دیگرممنوعہ اشیا ضبط کیےجانے کاسلسلہ جاری ہے۔
ماہ اکتوبر میں حیدرآباد ایرپورٹ پر کروڑہاروپئے مالیتی سوناضبط کیےجانے کے باؤجود بالخصوص دبئی سے آنے والے مسافرین کے قبضہ سے کروڑہا روپئے مالیتی سونا کی بڑی مقدار میں ضبطی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔11 نومبر کو محکمہ کسٹمس کے عہدیداروں نے خفیہ ذرائع سے موصولہ اطلاع پر دبئی سے ایمریٹس کی فلائٹ نمبر EK-524 کےذریعہ حیدرآباد ایرپورٹ پہنچنے والے دو مسافروں کی تلاشی کےبعد ان کے قبضہ سے 5,398 گرام سونا ضبط کرلیاتھا۔جس کی قیمت دو کروڑ 80 لاکھ روپئے بتائی گئی تھی۔اس کے بعد سے 12 ڈسمبر تک ایسی کسی کارروائی کی اطلاع نہیں تھی تو سمجھا گیا کہ اب یہ گورکھ دھندہ تھم گیا ہے۔
وہیں ایک ماہ کے وقفہ کے بعد 12 ڈسمبر کی صبح کی اولین ساعتوں میں حیدرآباد ایرپورٹ پرمحکمہ کسٹمس کے عہدیداروں نے دبئی سے فلائٹ نمبر FZ461 کےذریعہ حیدرآباد ایرپورٹ پہنچنےوالے ایک مسافر کےسفری سامان سے 24 قیراط کا حامل 1,547 گرام وزنی سوناکے بسکٹ اورزیورات کی شکل میں موجود 18 قیراط کاحامل 1,414 گرام سونا ضبط کرلیاتھا۔جس کی جملہ مالیت ایک کروڑ 37 لاکھ 92 ہزار 968 روپئے بتائی گئی تھی۔
محکمہ کسٹمس کے عہدیداروں کے مطابق آج 16 ڈسمبر کی اولین ساعتوں میں دبئی سےفلائٹ نمبر 6E-025کے ذریعہ حیدرآباد ایرپورٹ پہنچنے والے ایک مسافر کو شبہ کی بنیاد پر روک کر تلاشی لی گئی تو اس کے پاس سے 24 قیراط کا حامل خالص سونا برآمد ہوا جسے پیسٹ کی شکل میں لایا گیا تھا۔

عہدیداروں کےمطابق اس مسافر سے اس سونا کی رسائد طلب کی گئیں تو وہ کوئی بھی جائز دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔بعدازاں 957 گرام اس خالص سونا کو ضبط کرلیا گیا۔جس کی مالیت 46 لاکھ، 53 ہزار 508 روپئے بتائی گئی ہے۔محکمہ کسٹمس کے عہدیداروں کے مطابق اس مسافر کو تحویل میں لے کر ایک کیس درج رجسٹر کرلیا گیا ہے اور مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب اس مسافر کے دونوں پیروں پر میڈیکل پلاسٹر چڑھا ہوا تھا کہ جیسے حادثہ کے بعد زخمیوں کے پیروں پر چڑھایا جاتا ہےعہدیداروں نے شبہ کی بنیاد پر اس شخص کو روک کر اس پلاسٹر کو کاٹنے کی ہدایت دی تو اس نے قینچی کی مدد سے پلاسٹر کو خود کاٹا لیکن اس پلاسٹر کے اندر کوئی زخم موجود نہیں تھا بلکہ سونا کو چھپانے کی غرض سے دونوں پیروں پر اس مسافر نے پلاسٹر چڑھایا ہوا تھا۔یہ دیکھ کر کسٹم عہدیدار بھی حیران رہ گئے کہ آخر کس کس طریقہ سے سونا چھپاکر لانے کی کوشش کی جائے گی؟ جبکہ ایرپورٹ کے اسکیانر اور عہدیداروں کی نظروں سے بچ پانا ناممکن ہی ہوتا ہے۔!!

” یہ بھی پڑھیں "

