مدھیہ پردیش : اندور کے سیاحتی مقام پر کار آبشار کے پانی میں گرگئی، نوجوان اور دیگر نے کار میں موجود باپ اور بیٹی کو بچالیا

مدھیہ پردیش : اندور کے سیاحتی مقام پر کار آبشار کے پانی میں گرگئی
نوجوان اور دیگر نے کار میں موجود باپ اور بیٹی کو بچالیا : ویڈیو وائرل

بھوپال : 08۔اگست
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ان دنوں ملک کے مختلف مقامات سے ایسے ویڈیوز اور خبریں سوشل میڈیا اور میڈیا پر زیرگشت ہیں جس سے ایک مخصوص طبقہ متفکر ہے اور ساتھ ہی ان ہیجان انگیز ویڈیوز کو دیکھ کرخوفزدہ اور پریشان بھی ہے۔لیکن یہ سکہ کا ایک ہی رخ ہے اور ایسامحسوس ہوتا ہے کہ یہ نفرتی جھنڈ ایک منصوبےکے تحت ملک کے ماحول کو کشیدہ اور زہر آلود بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔!!

موجودہ حالات میں یہ لازمی ہوگیاہے کہ کسی بھی اور کہیں کے بھی ایسے ویڈیوز اورمواد کو سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر فارورڈ یا وائرل نہ کیا جائے،جس سے قوم مزید خوفزدہ ہوجائے۔چاہے وہ کسی بھی مذہب کےماننے والوں کےخلاف کیوں نہ ہوں۔کیونکہ ایسے حالات میں مثبت باتوں کو پھیلانے اور قوم کو حوصلہ دینے والے ہی ملک اور قوم کے ہمدرد مانے جاتے ہیں،جن کی آج شدید ضرورت ہے۔!

سوشل میڈیا پر ہی کئی مرتبہ اس بات کا انکشاف ہوچکاہےکہ کئی ویڈیوز جان بوجھ کرفلمی انداز میں تیار کرکے سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر وائرل کیے جارہے ہیں اور قوم کے زیادہ تر ہمدرد لوگ ان ویڈیوز کی حقیقت کو جانیں بغیر ان کو مختلف گروپس میں فارورڈ کر کے یہ سوچ لیتے ہیں کہ انہوں نے قوم کو بیدار کردیا ہے۔!!

جبکہ یہ خوف و ہراس پھیلانے کے سواء کچھ اور نہیں ہے۔جھوٹ اور پروپگنڈہ پرمشتمل مواد آج ایک دوسرے کے خلاف نفرت میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔جس کی مثال منی پور ہے جہاں 3 مئی کو ایک قدیم ویڈیو واٹس ایپ وائرل کردیا گیا تھا جس کےبعد دو فرقوں کے درمیان خوفناک نسلی تشدد کی آگ آج تک سرد نہیں ہوپائی ہے۔!!

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہونےوالے کئی مثبت اور حوصلہ افزاء ویڈیوز اور پوسٹس دیکھ کر یہ احساس مزید مضبوط ہوجاتا ہے کہ اس ملک کےبہت بڑے طبقہ میں آج بھی قومی یکجہتی،صدیوں قدیم بھائی چارگی اور انسانیت کا درد موجود ہے۔انہیں مذہبی منافرت چھوکر بھی نہیں گزری ہے اور یہی اس ملک کی پہچان اور اصل طاقت ہے۔

کل سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جو کہ مدھیہ پردیش کےشہر اندور کے قریب موجود مشہورسیاحتی مقام کا ہے۔جہاں ڈرائیور کی لاپرواہی کے باعث اس سیاحتی مقام پر کھڑی کی گئی ایک کار اچانک آبشار کے پانی میں گر گئی۔بتایا جاتاہے کہ اس کار میں باپ اور بیٹی بیٹھے ہوئےتھے۔جونہی کار آبشار کے پانی میں گری سمیت میتھیو نامی نوجوان نے پانی میں چھلانگ لگاکر انہیں بچالیااس کےساتھ وہاں موجود دیگر افراد بھی پانی میں کود پڑے اور ان دونوں کی زندگیاں بچالیں۔

وہیں این ڈی ٹی وی کے نامورصحافی انوراگ دُواری Anurag Dwary@نے گذشتہ رات اس واقعہ کا ایک 37 سیکنڈ کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” اندور کے سمرول کے قریب موجود سیاحتی مقام لودھیا کنڈ کے آبشار کےکنارے پر اپنی کارکھڑی کی تھی کہ کار اچانک آبشار کےپانی میں گرگئی۔اس منظر کو دیکھ کر”سمیت میتھیو "نے فوری پانی میں چھلانگ لگا کر اس پانی میں گری ہوئی کار میں موجود تین افراد کی جان بچائی جن میں شوہر، بیوی اور ایک بچہ موجود تھے۔”

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آبشارکے سیاہ پتھروں سے اچانک ایک سرخ رنگ کی کار آبشار کے پتھروں سےٹکراتے ہوئے پانی میں گرجاتی ہے اور گرتی ہوئی کار سے چیخوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ساتھ ہی اس کار کے قریب کھڑا ہوا ایک شخص بھی کار کے ساتھ پانی میں گر جاتا ہے۔

جس کے فوری بعد وہیں آبشار کی دوسری جانب موجود کوئی کہتاہےکہ جس کو تیرنا آتا ہے فوری کودو۔جس کے بعد ایک نوجوان سمیت میتھیو (26 سالہ) فوری جس حالت میں کھڑا تھا اسی حالت میں پانی میں چھلانگ لگا دیتا ہے ۔اس کے ساتھ آبشار کی جانب سے مزید افراد پانی میں کود کر دیگر کو بچالیتے ہیں۔میڈیا اطلاعات کےمطابق یہ حادثہ کارکے ہینڈ بریک نہ لگانے اور آبشارکے قریب کھڑی کرنے کے باعث پیش آیا ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی دوپہر اندور سے 50 کلومیٹر کےفاصلہ پر موجود سیاحتی مقام لودھیا کنڈ کاہے۔کسی سیاح نے اس حادثہ کا ویڈیو لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔جس کے بعد یہ وائرل ہوگیا۔

خبررساں ادارہ پی ٹی آئی نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس(رورل) مسٹرسنیل مہتا کےحوالہ سے بتایاہے کہ یہ واقعہ ڈرائیور کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے پیش آیا۔گاڑی لاپرواہی کےساتھ آبشار کےبالکل قریب کھڑی کی گئی تھی۔ایس پی نے کہاکہ ایسی اطلاع ملی ہےکہ کار کی ڈکی کوطاقت کے ساتھ بند کرنے کے دوران کار آبشار کے پتھروں سے لڑھکتے ہوئے آبشار کے پانی میں گر گئی۔

میڈیا نے انچارج سمرول پولیس اسٹیشن مشرام واگن کےحوالے سے بتایاکہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اندور کا ایک خاندان پکنک منانے کی غرض سے لودھیا کنڈ گیا ہوا تھا۔ابتدائی تحقیقات میں اس کار کے مالک کی شناخت طیب علی کےطور پر ہوئی ہے۔ جو بیجل پور کے ساکن بتائے گئے ہیں۔

بعدازاں سمیت میتھونے خبر رساں ادارہ اے این آئی کو بتایاکہ اتوار کی شام وہ اپنے چار دوستوں کےساتھ لودھیا کنڈ آبشار پر گئے تھے۔ جب وہ واپس ہو رہے تھے تو انہوں نے وہاں لوگوں کو چیختے ہوئے سنا اور ایک کار کو آبشار کی جانب لڑھکتے ہوئے دیکھا، ایک شخص کار کا گیٹ کھولنے کی کوشش کررہا تھا کیونکہ ایک لڑکی کار میں پھنسی ہوئی تھی۔کار اور آدمی دونوں آبشار میں گر گئے تھے۔سنیل میتھو ایک نجی فرم میں کام کرتے ہیں۔

لودھیا کنڈ،مدھیہ پردیش کے اندورکا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔عینی شاہدین کے مطابق بارش اور اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے اس مقام پر سیاحوں کا ہجوم تھا ۔اطلاعات کے مطابق لودھیا کنڈ جہاں بارش کے موسم میں گرتے ہوئے آبشار اور جنگلاتی علاقہ کی سیاحت کی غرض سے عوام کی کثیر تعداد پہنچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں "

حیدرآباد ایئر پورٹ پر دبئی سے پہنچے دومسافروں کے قبضہ سے دیڑھ کلو سے زائد 93 لاکھ روپئے مالیتی سونا ضبط