آپ لوگوں کی سیاست نے منی پورکا نہیں مدر انڈیا کا قتل کیا ہے، کل منی پورتو آج ہریانہ : لوک سبھا میں راہول گاندھی کا خطاب

آپ لوگوں کی سیاست نے منی پور کا نہیں مدر انڈیا کا قتل کیا ہے
کل منی پور تو آج ہریانہ ، آپ لوگ پورے ملک میں کیروسین بیچ رہے ہو
لوک سبھا میں راہول گاندھی کا خطاب، مولانا رومیؒ کے قول کا حوالہ

نئی دہلی : 09۔اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

نریندر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر لوک سبھا میں آج راہول گاندھی نے اپنے خطاب میں سخت تیور اور الفاظ کا استعمال کرتےہوئے وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی حکومت پر کئی شدید ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ دیش پریمی نہیں ہیں، بلکہ دیش دروہی ہیں۔

راہول گاندھی نے اپنے خطاب میں مرکزی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آپ لوگوں کی سیاست نے منی پور میں مدر انڈیا (بھارت ماتا) کا قتل کیا ہے۔انہوں نےلوک سبھا میں اپنی والدہ شریمتی سونیا گاندھی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میری ایک ماں یہاں ہے اور آپ لوگوں نے میری دوسری ماں بھارت ماتا کا منی پور میں قتل کر دیا ہے۔

راہول گاندھی نے اپنے خطاب کے آغاز میں مولانا جلال الدین رومیؒ کےاس مشہور قول کو دہراتے ہوئے کہاکہ” رومی نے کہا تھا جو لفظ دل سے آتے ہیں وہ دلوں میں جاتے ہیں” ، تو میں آج دماغ سے نہیں دل سے بولنا چاہ رہا ہوں۔

راہول گاندھی نے لوک سبھا کے اپنے خطاب میں سخت تیور اپناتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج تک منی پور نہیں گئے کیونکہ ان کےلیے منی پور ہندوستان نہیں ہے۔راہول گاندھی نے کہاکہ میں منی پور گیاہوں اور منی پور اب نہیں بچا ہے، آپ (حکومت) نے منی پور کو بانٹ دیا ہے، توڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں منی پور گیا ہوں اور ریلیف کیمپس میں خواتین اور بچوں سے بات کی۔ایک خاتون سے پوچھا کہ کیا ہوا آپ کے ساتھ تو اس خاتون نے بتایاکہ میرا چھوٹا سا اکلوتا بچہ تھا میری آنکھوں کے سامنے اس کو گولی ماردی گئی۔میں پوری رات اس کی نعش کےساتھ بیٹھی رہی پھر مجھے ڈر لگا گھر اور سب کچھ چھوڑکر بھاگ آئی صرف کپڑے ساتھ ہیں۔دوسرے کیمپ میں ایک اورخاتون سےمیں نے جیسے ہی سوال پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ ایک سیکنڈ میں وہ کانپنے لگی اور بیہوش ہوگئی۔

https://www.facebook.com/IndianNationalCongress/videos/230335003306796

راہول گاندھی نے لوک سبھا میں کیےگئے اپنے اس خطاب میں الزام عائد کیاکہ منی پور میں ہندوستان کا قتل کیا گیاہے، ان کی سیاست نے منی پور میں ہندوستان کو قتل کیا ہے۔اس دوران بی جے پی کے ارکان شور شرابہ کرنے لگے۔

راہول گاندھی نے جب اپنے خطاب میں مزید شدید تیور اپناتے ہوئے کہاکہ بھارت ماتا کا آپ لوگوں نےقتل کیا ہے،آپ دیش پریمی نہیں ہو، دیش دروہی ہو۔ تب لوک سبھا ٹی وی کا کیمرہ اسپیکر پر مرکوز تھا۔!راہول گاندھی نے کہا کہ فوج ایک دن میں حالات معمول پر لاسکتی ہے،مگر آپ اس کا استعمال نہیں کر رہے ہو، کیوں کہ آپ ہندوستان کو منی پور میں مارنا چاہتے ہو۔ہندوستان کے دل کی آواز نہیں سنتے ہیں انہوں نے پوچھا کہ کس کی آواز کس کے لیے سنتے ہیں تو اسپیکر نے انہیں ٹوکا۔

راہول گاندھی نے جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران کہاکہ راون کمبھ کرن اور میگھ ناتھ کی سنتا تھا اور مودی، امیت شاہ اور اڈانی کی سنتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لنکا کو ہنومان نے نہیں اس کے غرور نے جلایا تھا، رام نے راون کو نہیں مارا تھا اس کے گھمنڈ و غرور نے اسے مارا تھا۔

راہول گاندھی نے مزید سخت تیور اپناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آپ (حکومت) پورے دیش میں کیروسین بیچ رہے ہیں کل منی پور اور آج ہریانہ جل رہا ہے۔آپ پورے دیش کو جلارہے ہو۔جب تک ظلم کو بند نہیں کرو گے تب تک آپ میری ماں کا (مدر انڈیا)کا قتل کر رہے ہو۔

قبل ازیں لوک سبھا کی کارروائی کے 10-12بجے دوپہر آغاز کےبعد وائناڈ (کیرالہ)کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نےاسپیکر لوک سبھا اوم برلا سے ان کی رکنیت دوبارہ بحال کیے جانے پر شکریہ ادا کیا۔اور اس کےلیےمعافی بھی طلب کرتےہوئے انہوں نے ایوان میں اپنی آخری تقریر کا ذکر کیاکہ میں نے اپنی آخری تقریر میں اڈانی کے بارے میں بات کی تھی۔

میں نےبہت سے لوگوں کوتکلیف دی ہوگی اس لیے میں معذرت خواہ ہوں۔وہیں راہول گاندھی نےاپنے خطاب میں چٹکی لیتے ہوئے کہاکہ آج میں بی جے پی میں اپنے دوستوں سے کہناچاہتاہوں کہ آج ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہےکیونکہ میری مرکزی تقریر اڈانی کے ارد گرد نہیں ہوگی۔ہاں میں واضح طور پر کچھ اینٹ بجاؤں گا۔

اپنے خطاب کے آغاز میں راہول گاندھی نے کہاکہ گذشتہ سال 130 دنوں کےلیے کنیا کماری کےسمندر کےساحل سے کشمیر کی برف تک انہوں نے بھارت جوڑو یاترا کی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ یاترا ابھی ختم نہیں ہوئی،جاری ہے۔راہول گاندھی نے اپنی اس بھارت جوڑو یاترا کے دوران پیش آیے مختلف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پدیاترا کے دوران جہاں کہیں کسان ملتے تو پہلے میں ان کو مشورہ دیتا تھا کہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ ایسا کرو،لیکن میں نے ان کو سننا شروع کیا۔ہر آواز کو میں سنتا تھا۔

صبح 6 بجے سے رات 7 بجے تک ہر شعبہ کےلوگ ملتے تھےمیں نےسب کو سنا۔راہول گاندھی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئےکہاکہ کسانوں  کے دل کا درد میرے دل آگیا،اس کے آنکھوں کی شرم مجھ میں آگئی،اس کی بھوک کومیں نےمحسوس کیا۔جوکوئی ملتا اس کادرد میں سمجھتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دیش ہے،الگ الگ زبانیں ہیں،کوئی کہتا ہے یہ دھرم ہے،یہ سونا ہے،یہ چاندی ہےمگر یہ ملک ایک سماج ہے،ایک آواز ہے، دکھ ہےمشکلات ہیں۔ان کو سنناہے تو دلوں میں جو گھمنڈ اور غرور ہے اس کوختم کرکے ان آوازوں کو سننا ہوگا،بھارت ایک آواز ہے، نفرت اور غرور کو مٹانا ہوگا۔

خطاب کےفوری بعد مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے راہول گاندھی کے ان ریمارکس اور خطاب کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ منی پور اس ملک کا حصہ ہے۔انہوں نے تمل ناڈو اور راجستھان میں خواتین پر ہوئےظلم کا ذکر بھی کیا اور ایک کانگریسی لیڈر کی جانب سے کشمیر میں ریفرنڈم کے مطالبہ کاحوالہ بھی دیتےہوئے کہاکہ راہول گاندھی نے یاترا کےنام پرکشمیر میں جوتفریح کی تھی وہ آرٹیکل 370 کی برخواستگی کی مرہون منت ہے

انہوں نے بھارت ماتا کےقتل کی بات کی بھی مذمت کی۔اور ایک تصویر دکھاتےہوئےمرکزی وزیرسمرتی ایرانی نے 1990 میں ایک کشمیری پنڈت خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی اور اس کےقتل کےعلاوہ کشمیری پنڈتوں کےقتل کاحوالہ دیا۔ 1984 میں سکھوں کےقتل عام کاتذکرہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں ” 

راہول گاندھی کی رکنیت بحال، معطلی کے چار ماہ بعد پہنچے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ کی جانب سے سزا پر روک کے بعد لوک سبھا سیکریٹریٹ کا نوٹیفکیشن جاری

 

مدھیہ پردیش : اندور کے سیاحتی مقام پر کار آبشار کے پانی میں گرگئی، نوجوان اور دیگر نے کار میں موجود باپ اور بیٹی کو بچالیا

 

حیدرآباد ایئر پورٹ پر دبئی سے پہنچے دومسافروں کے قبضہ سے دیڑھ کلو سے زائد 93 لاکھ روپئے مالیتی سونا ضبط