دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن
انسان کی تلاش میں انسان جائے گا
دہلی میں حالت سجدہ میں موجود نوجوانوں کو لات مارنے والا پولیس چوکی انچارج خدمات سے معطل
پولیس کی شبیہ داغدار کرنے والے ویڈیو کی سوشل میڈیا پر سونامی، ہر طرف سے شدید مذمت
دہلی : 08۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
ملک میں اس قدر مذہبی نفرت کو ہوا دی گئی ہے کہ ہر معاملہ کو مذہب کی عینک سے دیکھا جانے لگاہے۔اور ہمیشہ یہی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی معاملہ کو فوری مسلمانوں سے جوڑ کر نفرت کی فضاء کو مزید زہر آلود کیا جاسکے۔گزشتہ دنوں ایک رپورٹ آئی تھی کہ اس ملک میں گزشتہ دس سال کے دوران نفرت پھیلانے، نفرت انگیز تقاریر کے 92 فیصد معاملات مسلمانوں کے ساتھ پیش آئے ہیں۔
زعفرانی چولوں میں ملبوس نام نہاد دھرم گروؤں،تنظیموں اور صحافیوں کی جانب سےمسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکیاں دینا اور برادارن وطن کو ان کے خلاف اکسانا،مذہبی جلوسوں میں مسلمانوں کے خلاف شر انگیز نعرے بازی اورمساجد کے تقدس کی پامالی کے واقعات اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔!!
سوشل میڈیا کےتقریباً سارے پلیٹ فارمز مسلمانوں کےخلاف نفرت انگیز، دھمکی آمیز اور جھوٹی خبروں کو پھیلانےکے اڈے بن گئے ہیں۔اس پر زیادہ تر نیشنل نیوز چینلوں نے رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے اس ملک کی صدیوں قدیم ایک دوسرے کے ساتھ محبت،رواداری،کشادہ دلی ، بھائی چارگی اور گنگاجمنی تہذیب کی شکستہ صلیب پر دن رات کیلے مارنے میں مصروف ہے۔!
جاریہ ماہ ہی نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹانڈرڈس اتھارٹی NBDSA# نے تین نیوز چینلوں کے چار اینکرز سدھیر چودھری (آج تک)، ہمانشو ڈکشٹ،امن چوپڑہ اور امیش دیوگن(نیوز۔18) پرمسلمانوں کےخلاف مذہبی منافرت پھیلانےکےجرم میں فی کس 50 ہزار روپئے تا ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔اور ہدایت دی گئی کہ انٹرنیٹ/سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز سے ان اینکرز کے ویڈیوز ڈیلیٹ کیے جائیں۔
ایسے میں آج سوشل میڈیا پر ملک کے دارالحکومت دہلی سے ایک انتہائی شرمناک ویڈیو کی سونامی آئی ہوئی ہے۔جس میں نمازیوں(جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں) کو سجدے کی حالت میں ایک پولیس عہدیدار کو پیچھے سے لات مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عوام کی حفاظت پر مامور پولیس محکمہ میں بھی ایسے چند جوان موجود ہیں جن میں مسلمانوں سے نفرت کا زہر سرائیت کرچکا ہے۔!!
سوشل میڈیا پر وائرل ہونےوالے اس ویڈیو میں ایک پولیس عہدیدیدار کو سڑک پر نماز کی ادائیگی کےدوران حالت سجدہ میں موجود چند نوجوانوں کو لات مارتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔اس ملک کی تہذہب و تمدن کو ایک پولیس ملازم کی جانب سے داغدار کیے جانے والے اس واقعہ کے بعد اس علاقے میں احتجاج شروع ہوگیا۔میڈیا اطلاعات کے مطابق اس خاطی معطل شدہ انچارج چوکی پولیس کا نام منوج کمار تومر ہے۔
ایکس X (سابقہ ٹوئٹر) پر اس شرمناک ویڈیو کو ٹوئٹ کرتےہوئے کانگریس قائد سپریہ شریناٹے نےلکھا ہےکہ” امیت شاہ کی دہلی پولیس کا نصب العین امن، خدمت، انصاف… پوری لگن سے کام کرنا ہے۔”
خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کےمطابق اس مبینہ ویڈیو کے سلسلہ میں دہلی پولیس کی جانب سے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک پولیس اہلکار شمالی دہلی کے اندرلوک علاقے میں ایک سڑک پر نماز میں خلل ڈال رہا ہے۔پی ٹی آئی کے مطابق ڈپٹی کمشنر آف پولیس (نارتھ) ایم کے مینا نے کہا ہے کہ اس معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔
میڈیا اطلاعات کےمطابق ڈی سی پی نارتھ ایم کے مینا نے تصدیق کی کہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والا پولیس چوکی انچارج تھا اور اسے فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف ضروری تادیبی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا بالخصوص ایکس اور انسٹاگرام پر صارفین کی جانب سے اس پولیس عہدیدار کی اس حرکت پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور مطالبہ کیاجارہا ہےکہ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔وہیں برادران وطن کا ایک بہت بڑا طبقہ بھی پولیس عہدیدار کی اس غیر انسانی حرکت کی مذمت میں مصروف ہے۔جسے دیکھ کر کہاجاسکتا ہے یہی حق پسند لوگ اس ملک کی سب سے بڑی طاقت اور جمہوریت کا اثاثہ ہیں۔ایسے واقعات کو لے کر مسلمان ہرگز مایوس نہ ہوں اور نہ ہی کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
وہیں ایکس اور انسٹاگرام پر ایک مخصوص جھُنڈ اس ویڈیو کےکمنٹس میں اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھ رہا ہے کہ ” سڑکوں پر نماز پڑھیں گے تو اس ملک میں اب یہی ہوگا۔”جبکہ سوشل میڈیا پر ایک مسلم صارف نے اپنے کمنٹ میں لکھا ہے کہ دہلی میں مساجد کی کمی ہے،ہر جمعہ کو مسجد کے اندر جگہ کی قلت کے باعث اس طرح مسجدکے باہر سڑک پر نماز ادا کی جاتی ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہےکہ اس سے ٹریفک نظام میں کوئی خلل نہ پڑے۔
نامور شاعر فنا نظامی کانپوری نے شایدمستقبل میں ایسے ہی حالات اور واقعات کو محسوس کرتے ہوئےکبھی کہا تھا کہ؎
دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن
انسان کی تلاش میں انسان جائے گا

