تلنگانہ ہائی کورٹ کا سنسنی خیز فیصلہ
گورنر کوٹہ سے پروفیسر کودنڈا رام اور عامرعلی خان کی نامزدگی منسوخ
نئے ایم ایل سیز کے تقرر کے لیے دوبارہ کابینہ میں منظوری کا حکم
حیدرآباد: 07۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج 7 مارچ کو ایک عرضی پرسنسنی خیز فیصلہ صادر کرتے ہوئے ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندر راجن کی جانب سے 25 جنوری کو تلنگانہ قانون ساز کونسل کے لیے بطور ایم ایل سی نامزد کیے گئے پروفیسر کودنڈا رام اور نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب میر عامر علی خان کے انتخاب کومنسوخ کر دیا ہے۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں بی آر ایس دؤر حکومت میں داشوجی شراون اور کُرا ستیہ نارائن کے انتخاب کو کالعدم قرار دئیے جانے کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ساتھ ہی یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ نئے ارکان قانون ساز کونسل کی تقرر کا عمل شروع کیا جائے۔اور اس کے لیے باقاعدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں امیدواروں کا انتخاب کرتےہوئے ناموں کو قطعیت دی جائے بعد ازاں ان ناموں کی سفارش ریاستی گورنر کو روانہ کی جائے۔امکان جتایا جا رہا ہے کہ ریاستی کابینہ دوبارہ ان دو ناموں کی ہی ریاستی گورنر سے سفارش کرسکتی ہے۔!!
میڈیا اطلاعات کےمطابق تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریمارک کیا کہ ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندر راجن کی جانب سے بی آر ایس دؤر حکومت میں اس وقت کی ریاستی کابینہ کی جانب سےسفارش کردہ داشوجی شراون اور کُرا ستیہ نارائن کے ناموں کومسترد کرنے کا اختیار ریاستی گورنر کو نہیں ہے۔اگر وہ چاہیں تو ناموں پر دوبارہ غور کے لیے حکومت کو وہ نام واپس روانہ کرسکتی ہیں مگر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رہے کہ ڈسمبر میں اقتدار حاصل کرنےکے بعد ریاست کی کانگریس حکومت نے ریاستی گورنر کو قانون ساز کونسل کی دو نشستوں پر نامزدگی کے لیے ان دو ناموں کی سفارش روانہ کی تھی جس پر ریاستی گورنر نے 25 جنوری کو اپنی مہر ثبت کرتےہوئے ان دونوں ناموں کا اعلان کیا تھا۔
بعدازاں ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندر راجن کی منظوری کے بعد پروفیسر کودنڈا رام اور عامر علی خان کی قانون ساز کونسل کےلیے نامزدگی کے احکام پر مشتمل 27 جنوری کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے جی او نمبر G.o. Ms No.12 جاری کر دیا گیا تھا۔جاری کردہ احکام میں بتایا گیاتھا کہ گورنر کوٹہ کے تحت ریاستی قانون ساز کونسل کے دو ارکان فاروق حسین اور ڈی۔راجیشور راؤ کی معیاد 27 مئی 2023 کو ختم ہوگئی تھی۔ ان مخلوعہ عہدوں پر ان دونوں کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔
ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندر راجن کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام اور عامر علی خان کی نامزدگی کے بعد داشوجی شراون اور کُرا ستیہ نارائن ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے کہ ان کے ناموں کی سفارش کو التواء میں رکھتے ہوئے ریاستی گورنر کس طرح کانگریس حکومت کی جانب سے سفارش کردہ ناموں کو منظوری دےسکتی ہیں۔؟ اس درخواست پر تین مرتبہ سماعت کےبعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج اپنا فیصلہ صادر کیا ہے۔ جسے کانگریس کے لیے ایک دھچکا مانا جا رہا ہے۔!!
” یہ بھی پڑھیں ”

