تلنگانہ قانون ساز کونسل کے لیے پروفیسر کودنڈا رام اور عامر علی خان
گورنر کوٹہ سے نامزد، ریاستی گورنر تملسائی سوندر راجن کے دفتر سے اعلان
حیدرآباد : 25۔جنوری
( سحر نیوز ڈاٹ کام)
ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندرراجن نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل کے لیے علحدہ ریاست تلنگانہ تحریک کے روح رواں مانے جانے والے پروفیسر کودنڈا رام اور نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب میر عامر علی خان کو گورنر کوٹہ سے ارکان قانون ساز کونسل MLC# نامزد کیا ہے۔
گزشتہ ماہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگریس حکومت نے ریاستی گورنر کو قانون ساز کونسل کی دونشستوں پر نامزدگی کے لیے ان دو ناموں کی سفارش روانہ کی تھی جس پر ریاستی گورنر نے آج اپنی مہر ثبت کرتے ہوئے ان دونوں ناموں کا اعلان کیا ہے۔
68 سالہ مدسانی کودنڈا رام ریڈی جو پروفیسر کودنڈا رام کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ ریڈی لفظ کا استعمال نہیں کیا۔مدسانی کودنڈا رام سےاپنی محنت،جستجو، لگن اور صلاحیتوں کے ذریعہ پروفسیر کونڈا رام کی شناخت بنانے میں کامیاب پروفیسر کودنڈا رام کی پیدائش 5 ستمبر 1955 کو نے نیل،بیلم پلی کے کسان ایم۔جناردھن ریڈی اور ایم وینکٹما کے گھر ہوئی وہ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔
پروفیسر کودنڈا رام نے علحدہ تلنگانہ تحریک کے دؤران حصول تلنگانہ کے مقصد کے لیے قائم کی گئی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹرا سمیتی (موجودہ بھارت راشٹرا سمیتی )کے ساتھ مل کر جدوجہدکے دؤران الگ الگ سیاسی جماعتوں اور خیالات کے حامل قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور بناء کسی تشدد تلنگانہ تحریک کے دؤران پورے تلنگانہ کے شہروں،اضلاع،ٹاؤنس اور حتیٰ کے مواضعات تک پہنچنے اور عوام کوعلحدہ ریاست کے قیام کی تحریک اس کی وجوہات اور اصل مقاصد سے واقف کرواتے ہوئے تمام طبقات کو اس جدوجہد میں شانہ بہ شانہ چلنے کا حوصلہ اور ترغیب دینے کا سہرا پروفیسر کودنڈا رام کے سر جاتا ہے۔تحریک کے دؤران پروفیسر کودنڈا رام کو تلنگانہ کے گاندھی بھی کہا جاتا تھا۔
پروفیسرکودنڈا رام عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے سیاسیات کے پروفیسر کے طور پر چند سال قبل وظیفہ حسن خدمامت پرسبکدوش ہوئے۔ وہ گزشتہ 35 سال سے علحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد میں شامل رہے۔بعدازاں وہ باقاعدہ ایک سیاست دان بن گئے۔پروفیسر کودنڈا رام نے مارچ 2018 میں سیاسی جماعت تلنگانہ جنا سمیتی (TJS#) کی بنیاد رکھی۔تاہم سیاسی طور پرانہیں وہ کامیابی حاصل نہیں ہوپائی جس کےوہ حقدار مانے جاتے تھے۔!!
تلنگانہ تحریک کے روح رواں پروفیسر کودنڈا رام علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول میں شدت پیدا کرنے کے مقصد سے ڈسمبر2009 میں تشکیل دی گئی تمام سیاسی،غیر سیاسی،سماجی اور مذہبی تنظیموں پر مشتمل تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی T-JAC#کے کنوینر بھی تھے۔اس تحریک کے دؤران ان کی خدمات ناقابل فراموش مانی جاتی ہیں۔
علحدہ تلنگانہ تحریک کےدؤران متحدہ آندھراپردیش میں پروفیسر کودنڈا رام بارہا مرتبہ گرفتارکیےگئےپُرامن دھرنوں اور احتجاج کے دؤران پولیس تشدد کا شکار بھی ہوئے۔اس کے باؤجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اس تحریک کو کمزور ہونے دیا۔تلنگانہ تحریک تاریخ میں اس لیےبھی یاد رکھی جائےگی کہ مایوس سینکڑوں نوجوانوں نے خودکشی کی لیکن یہ تحریک تشدد اور خون خرابہ سے پاک رہی۔

علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران پروفیسر کودنڈا رام کی قیادت میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اجتماعات،احتجاج،جلسے، جلوسوں،بھوک ہڑتال،ریالیوں،سڑکوں پر پکوان اور کھانے کا ریکارڈ بھی رکھتی ہے۔جس میں سہایا نراکارانہ(حکومت سے عدم تعاون)،ملین مارچ، سکالا جنولا سمے،ساگرا ہارم(حسین ساگر کے اطراف انسانی زنجیر ) اور چلو حیدر آباد جیسے پروگرام شامل تھے۔

تاہم ان کے حامی اور تلنگانہ جہد کار ایسے الزامات بھی عائد کرتے ہیں کہ 2014ء میں علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پروفیسر کودنڈا رام کو وہ مقام اور مرتبہ نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے اور سیاسی طور پر انہیں کنارے کر دیا گیا تھا۔!!
اپ ڈیٹ :
ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندر راجن کی منظوری بعد پروفیسر کودنڈا رام اور عامر علی خان کی قانون ساز کونسل کے لیے نامزدگی کے احکام آج 27 جنوری کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے جی او نمبر G.o. Ms No.12 جاری کر دیا گیا ہے۔جاری کردہ احکام میں بتایا گیاہےکہ گورنر کوٹہ کے تحت ریاستی قانون ساز کونسل کے دو ارکان جناب فاروق حسین اور ڈی۔راجیشور راؤ کی معیاد 27 مئی 2023 کو ختم ہوگئی تھی۔


