مہاتما گاندھی کے خلاف دھرم سنسد میں اہانت آمیز الفاظ کا استعمال
سنت کالی چرن مہاراج کے خلاف چھتیس گڑھ میں کیس درج
مہاراشٹرا میں بھی کارروائی کی جائے،نواب ملک کا ٹوئٹ
رائے پور: 27۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
گزشتہ ہفتہ اتراکھنڈ کے ہری دُوار اور ملک کے دارالحکومت دہلی میں ہندوسمیلن میں ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے مسلمانوں کی نسل کشی، مارنے اور مرنے جیسے اشتعال انگیز بیانات اور عہد کروائے جانے کے بعد ملک اور بیرون ملک اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
اس کے خلاف کل ہی معزز چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا کو سپریم کورٹ کے 76 وکلا نے ایک خط لکھتے ہوئے درخواست کی ہے کہ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کے خلاف ازخود سوموٹو کے تحت کارروائی کی جائے۔
ایسے میں کل 26 ڈسمبر کو ریاست چھتیس گڑھ کے رائے پور میں منعقدہ دھرم سنسد سے اپنے خطاب”سنت کالی چرن مہاراج” نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف” حرامی” جیسا انتہائی نازیبا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ”حرامی موہن داس کرم چند گاندھی نے ستیاناس کھیل دیا،انہوں نے بابائے قوم کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو مخاطب کرتے کہا کہ”نمستے ہے ناتھو رام گوڈسے جی نمسکار ہے مار ڈالا وہ مہاحرامی کو”۔
” سنت کالی چرن مہاراج کو اس ویڈیو میں سناجاسکتا ہے "
اپنے خطاب میں سنت کالی چرن مہاراج نے کہا کہ”اسلام کا ٹارگیٹ سیاست کے ذریعہ راشٹر پر قبضہ کرنا ہے۔1947 کا سیاسی قبضہ اس کی مثال ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش ہماری آنکھوں کے سامنے ہے،پہلے ایران،عراق اور افغانستان پہلے ہی قبضہ کرچکے تھے!”۔کالی چرن مہاراج نے ہندوؤں کو مشورہ دیا کہ وہ ہندو مذہب کے تحفظ کے لیے ایک ” کٹر ہندو لیڈر” کا انتخاب کریں۔
سنت کالی چرن مہاراج کا یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جس کی ہر طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔
چھتیس گڑھ کے کانگریسی لیڈر پرمود دوبے نے ٹکراپارا پولیس اسٹیشن اور سیول لائن پولیس اسٹیشن میں سنت کالی چرن مہاراج کے خلاف شکایت درج کروائی کہ انہوں نے مہاتما گاندھی کے خلاف اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔جس کے بعد آج چھتیس گڑھ کی رائے پور پولیس نے سنت کالی چرن مہاراج کے خلاف دفعہ 505 (2) اور 294 کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔
وہیں چھتیس گڑھ کے رائے پور میں منعقدہ اسی دھرم سنسد میں شریک مہنت رام سندر داس اپنے مختصر خطاب کے بعد اس دھرم سنسد کا بائیکاٹ کرتے ہوئے چلے گئے کہ ” ایسے سنسد سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے "۔
مہنت رام سندر داس نے مجمع سے پوچھا کہ کیا مہاتما گاندھی غدار تھے؟ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دھرم سنسد میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف ایسے نازیبا الفاظ کے استعمال پر خوب تالیاں بھی بجائی گئیں۔
اس دھرم سنسد کا بائیکاٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا گاندھی جی کی قربانیوں کو یاد کیا جائے،معاف کرنا ایسا ہمارا دھرم نہیں ہوسکتا!!مہنت رام سندر داس کا یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جس کی سراہنا کی جارہی ہے۔
اسٹیج سے جاتے وقت مہنت رام سندر داس نے کہا کہ”یہ ملک جہاں 30 کروڑ مسلمان رہتے ہیں،جہاں تقریباً 15 کروڑ عیسائی رہتے ہیں!کیا یہ ‘ہندو راشٹر’ بن جائے گا؟
” مہنت رام سندر داس کا خطاب یہاں سنا جاسکتا ہے "
دوسری جانب سنت کالی چرن مہاراج جن کا تعلق مہاراشٹرا کے اکولہ سے ہے کے خلاف مہاراشٹرا کے کابینی وزیر و نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سینئر قائد نواب ملک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” مہاتما گاندھی جی کی توہین ہماری قوم کی توہین ہے۔کالی چرن مہاراج کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان پر بابائے قوم کی توہین کا مقدمہ درج کیا جائے۔ہمیں اکولا سے مزید تفصیلات موصول ہو رہی ہیں اور مہاراشٹر کی وزارت داخلہ کو بھی کارروائی کرنی چاہئے۔ "

