چیف جسٹس آف انڈیا کو سپریم کورٹ کے 76 وکلا کا مکتوب
ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کے خلاف
سوموٹو کے تحت ازخود کارروائی کرنے کی درخواست
دہلی: 26۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)
اتراکھنڈ کے ہری دوار میں 17 تا 19 ڈسمبر یتی نرسنگھانند کی جانب سے منعقدہ دھرم سنسد میں اور ملک کے دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہندو یوا واہنی کے ایک اجلاس میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز خطابات،دھمکیوں کے ساتھ باقاعدہ یہ عہد لیا گیا کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے لیے 20 لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی سے بھی گریز نہیں کیا جائے۔!!

ان دونوں اجلاسوں کے ویڈیوز بڑی تعداد میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر وائرل ہوئے ہیں اور ہنوز زیر گشت ہیں۔جس کے خلاف ملک کا امن پسند اور سیکولر طبقہ شدید تشویش کا شکار ہے اور ان دونوں اجلاسوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والوں اور مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
تاہم اب تک مرکزی حکومت،وزارت داخلہ،دہلی کی کیجریوال حکومت،دہلی پولیس،اتراکھنڈ حکومت اور پولیس کی جانب سے خاموشی ہی اختیار کی گئی ہے!!۔

اس سلسلہ میں آج 26 ڈسمبر کو سپریم کورٹ کے 76 وکلاء جن میں کئی ایک سینئر وکلا بھی شامل ہیں نے چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا کو ایک دستخطی مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ دہلی اور ہری دوار میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود suo moto کے تحت نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے۔
سپریم کورٹ کے ان 76 سینئر وکلا میں انجنا پرکاش سینئرایڈوکیٹ و سابق جج پٹنہ ہائی کورٹ،دُشیانت دیو،سلمان خورشید،پرشانت بھوشن، راجو رام چندرن،حذیفہ احمدی،سی یوسنگھ،میناکشی اروڑہ،ویریندرا گرورور،ہرین روال،سدھارتھ دیو،وبھا مکھیجہ،کوین گلاوٹی،پی وی سریندر ناتھ
بسوا پربھو پاٹل،اعجاز محمود کے علاوہ امیتا جوزف،شومانا کھنہ،فضیل احمد ایوبی،امت آنند تیواری،شاداں فراست،جگدیپ ایس چھوکر،محمد نظام الدین پاشا،انوج پرکاش،شعیب عالم،راجیش تیاگی،پیولی،کبیر ڈکشٹ،الدانش رین،چیرل ڈیسوزا،کبیر ڈکشٹ،
عندلیب نقوی،پریرناچترویدی،ننیتا شرما،پائل گائیکواڈ،رتیش دھار دوبے،شہاب احمد،سپریہ پرکاش،ششنک راج سنگھ،پریانکا شکلا،شالینی گیرا،آدتیہ شریواستو،آفرین،سبھاش چندرن کے آر،رؤف رحیم،کماریش ترویدی،انس تنویر، تاہینی بھوشن،ونائیک پنت،سیتاوت نبی اور ونائیک پنت کے بشمول مزید دیگر 26 وکلاء شامل ہیں نے
نے معزز چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا کو لکھے گئے اپنے اس مکتوب میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزتقاریر کرنے والوں کے نام بھی پیش کیے ہیں۔
٭٭ جن میں یتی نرسنگھانند گری
٭٭ ساگر سندھو مہاراج
٭٭ دھرم داس مہاراج
٭٭ پریمانندمہاراج
٭٭ سادھوی انوپما(عرف پوجا شکن پانڈے)
٭٭ سوامی آنندسروپ
٭٭ اشونی اپا دھیائے
٭٭ سریش چوانکے (سدرشن نیوز)
اور
٭٭ سوامی پروب دھانند گری
شامل ہیں۔
اپنے اس مکتوب میں سپریم کورٹ کے ان وکلا نے معزز چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا سے درخواست کی ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دیں۔اور ان تمام کے خلاف دفعہ 120B، 121A، 124A، 153A، 153B، 295A اور 298 کے تحت سزائیں دی جائیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمّنا کو لکھے گئے مکتوب میں انہیں واقف کروایا گیا ہے کہ ہری دوار اور دہلی کے دھرم سنسد اور ہندو سمیلن میں دی گئیں سنگین دھمکیوں کے بعد اس ملک کے کروڑہا مسلمانوں کی جان کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
اور نسل کشی پرمشتمل ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔نفرت انگیز تقاریر کے سلسلہ میں آئی پی سی کی 153، 153 اے، 153 بی، 295 اے، 504، 506، 120 بی، 34 کی دفعات کے دفعات کارروائی کی جائے۔
این ڈی ٹی وی کے بموجب ہری دوار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) شیکھر سوئل نے ہفتہ کو کہا کہ ہری دوار میں دھرم سنسد میں مبینہ نفرت انگیز تقریر کے سلسلہ میں ایف آئی آر میں مزید دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس نے نفرت انگیز تقاریر کیس میں دھرم داس اور ایک خاتون اناپورنا کو نامزد کیا ہے۔قبل ازیں چہارشنبہ کو پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے ” جتیندر تیاگی (سابق وسیم رضوی) ” اور دیگر کے خلاف دفعہ 153A تعزیرات ہند کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
اس سلسلہ میں ڈی جی پی اتراکھنڈ مسٹر اشوک کمار آئی پی ایس کا بیان اس ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے:-
ان انتہائی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر ایسے بیانات کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔اطلاعات کے مطابق سابق چیف آف انڈین نیوی ایڈمرل ارون پرکاش نے بھی ہری دوار میں کی گئیں تقاریر کی مذمت کی ہے!
ہری دُوار کے اس دھرم سنسد میں ملک کے مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی کا معاملہ اب عالمی سطح پر بھی موضوع بحث بن گیا ہے جس پر پوری دنیا حیران ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا اس معاملہ کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے اور ملک کی اقلیتوں کو دی جانے والی نسل کشی کی ان دھمکیوں کو جرمنی اور ریوانڈا میں کی گئی نسل کشی سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے!!
ہری دُوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں کی گئی” انا پورنماں جنرل سیکریٹری ہندو مہا سبھا” کی اشتعال انگیز تقریر یہاں سنی جاسکتی ہے :-
https://twitter.com/i/status/1473581283242491904
ہری دوار کے دھرم سنسد میں "سوامی پربھودانند کی اشتعال انگیز تقاریر اس ویڈیو میں سنی جاسکتی ہیں:-
” ہری دُوار کے اس دھرم سنسد میں سندھو ساگر سوامی مشورہ دے رہے ہیں کہ کم ازکم دس مسلمانوں کو ایس سی/ایس ٹی کے جھوٹے کیسوں میں پھنسایا جائے”
” یتی نرسنگھا نند کو یہاں سنا جاسکتا ہے۔یہ وہی شخص ہے جو حضور اکرمﷺ کی شان میں کئی مرتبہ گستاخی کرچکا ہے”
ساگر سندھو راج کو اس ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے :-
” سادھوی انوپما کی اشتعال انگیز تقریر یہاں سنی جاسکتی ہے "
یہاں یہ تذکرہ لازمی ہے کہ مشہور فیاکٹ چیکر ” آلٹ نیوز Alt News "کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر نے ان تمام اشتعال انگیز ویڈیوز کو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ متعلقہ ریاستی حکومتوں،انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس جانب توجہ دلائی ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی والے بیانات کے انٹرنیشنل میڈیا پر جاری کوریج سے متعلق "ٹائمز میل” کی بے باک صحافی " ھرشیتا مشرا ” کی یہ 8 منٹ کی رپورٹ ضرور دیکھیں۔
مشہور صحافی راویش کمار نے بھی اپنے پرائم ٹائم میں ان اشتعال انگیز بیانات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ اس نفرت کی سیاست سے اپنے بچوں کو دور رکھیں۔ راویش کمار کا 33 منٹ کا یہ مکمل پرائم ٹائم یہاں دیکھا جاسکتا ہے :-

