دو خواتین کے قتل کی ایک ملزمہ کا تانڈور رورل پولیس اسٹیشن میں اقدام خودکشی!!
حیدرآباد /تانڈور،17۔مئی(سحرنیوزبیورو/ ایس این بی )
وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن سے آکر اپنے قرض کی رقم حاصل کرنے کا جھانسہ دیتے ہوئے معین آباد کے قریب تول کنٹہ کے ایک فارم ہاوز میں وقفہ وقفہ سے دو ضعیف خواتین کو قتل کر کے فارم ہاوز میں ہی دفن کرنے میں ملوث ایک ملزمہ کریما بی نے آج تفتیش کے دوران پولیس اسٹیشن میں خودکشی کی کوشش کی جسے علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔!!
یاد رہے کہ یہاں کی اندرماں کالونی کی ساکن محبوب بی (60سالہ) 9 مارچ کو اچانک لاپتہ ہوگئی تھیں جن کی گمشدگی کی شکایت یالال پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی تھی۔ اسی طرح بشیر آباد منڈل کے موضع قاسم پور کی ساکن عابدہ بیگم (54؍سالہ) بھی جو کہ آنگن واڑی مرکز میں آیا کی ملازمت کرتی تھیں 5؍مئی کو اچانک لاپتہ ہوگئی تھیں جن کی گمشدگی کی شکایت بشیر آباد پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی تھی۔
چونکہ دونوں خواتین کی گمشدگی کی شکایت تانڈور رورل پولیس اسٹیشن کے حدود میں درج کروائی گئی تھیں تو تحقیقات کے دوران شبہ کی بنیاد پر پولیس نے اندرماں کالونی کے ہی ساکن کریمابی اور اس کے شوہر رحمن(آٹو ڈرائیور) کو تحویل میں لے کر تفتیش کی تھی جس کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ محبوب بی اور عابدہ بیگم سے اس جوڑے نے سودپر قرض کیا حاصل تھا ۔
اور یہ دونوں خواتین اپنی رقم کی واپسی کے لیے تقاضہ کر رہی تھیں جس پر کریما بیگم اور رحمن کریمابیگم کابھائی نعیم جو کہ معین آباد کے قریب ایک فارم ہاوز میں ملازمت کرتا ہے نے شیطانی منصوبہ تیار کیا اور 5مئی کو عابدہ بیگم کو فون کرکے کہا گیا کہ وہ فارم ہاوز پر آکر اپنے قرض کی رقم لے لیں جب عابدہ بیگم وہاں پہنچیں تو ان تینوں نے ان کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا اور فارم ہاوس میں ہی دفنا دیا ۔
بعدازاں 9 مئی کو محبوب بی کو بھی تانڈور سے اسی بہانے سے فارم ہاوس پر بلا کر ان کابھی قتل کرتے ہوئے نعش کو وہیں دفنا دیا ۔
آج دستیاب اطلاعات کے بموجب کل معین آباد کے فارم ہاوز سے نعشوں کی باقیات ملنے کے بعد تانڈور رورل پولیس کریمابی ، رحمن اور نعیم سے گوتاپور موضع کے قریب موجود رورل پولیس اسٹیشن میں مزید تفتیش میں مصروف تھی کہ کریما بی نے حوائج ضروریہ کا بہانہ بناتے ہوئے پولیس اسٹیشن کے ٹوائلٹ میں موجود فینائل پی کر خودکشی کی کوشش کی!! جسے علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔
دو خواتین کے بہیمانہ قتل اورآج اس قتل کی ایک ملزمہ کے اقدام خودکشی کی اطلاع پر تانڈور میں سننی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اور اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے عوام کے ایک بڑے طبقے کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی حرکت درندوں کو بھی مات دے گئی جنہوں نے دو ضعیف خواتین کااس طرح قتل کردیا ،اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان تینوں ملزمین کے لیے سخت سے سخت سزاء کو یقینی بنایا جائے۔
اس دوہرے قتل کی تفصیلات اس لنک کو کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں

