” جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا "
راہول گاندھی نے پہلی مرتبہ سمرتی ایرانی کےحق میں بیان دیا
لوگوں کی تذلیل کرنا طاقت کی نہیں کمزوری کی علامت ہے!!
حیدرآباد: 12۔جولائی
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
سابق مرکزی وزیرسمرتی ایرانی نے 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں راہول گاندھی کو 55 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے شکست دیتے ہوئے اپنی ایک پہچان بنائی تھی۔تاہم اس کے بعد سے سمرتی ایرانی، راہول گاندھی کی تضحیک اور ان پر الزامات کے ذریعہ انہیں نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی تھیں۔جب کبھی راہول گاندھی کا کوئی بیان آتا توسمرتی ایرانی فوری لوک سبھا میں اور میڈیا کے سامنے آجایا کرتیں اور اپنے طنز آمیز لب و لہجے اور سخت تیور و انداز کے ساتھ راہول گاندھی پر تنقید کیا کرتی تھیں۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی جنہیں گزشتہ سال ماہ اپریل میں ہتک عزت کے ایک مقدمے میں گجرات کےسورت کی ایک سیشن کورٹ کی جانب سے دوسال کی سزاء سنائے جانےکے بعد لوک سبھا کے رکن کےطور پر نا اہل قرار دیا گیا تھا اور انہیں 22 اپریل تک اپنا سرکاری بنگلہ خالی کر دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
جس کے بعدانہوں نے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی والدہ مسز سونیا گاندھی اور بہن پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ مل کر اپنا سرکاری مکان خالی کردیا تھا۔اس وقت اس واقعہ کا ایک جذباتی ویڈیو بھی وائرل ہوا تھا۔بعدازاں راہول گاندھی اپنی والدہ مسزسونیا گاندھی کےمکان منتقل ہوگئے تھے۔جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا اور 4 اگست 2023ء کو سپریم کورٹ نے گجرات کی عدالت کے اس فیصلہ پر روک لگاتے ہوئے راہول گاندھی کی لوک سبھا کی رکنیت بحال کر دی تھی۔
سمرتی ایرانی کے کئی ذاتی حملوں اور الزامات کے باوجود کئی سال سے راہول گاندھی نے ایک مرتبہ بھی پلٹ کر نہ جواب دیا نہ وضاحت کرنا ہی مناسب سمجھا اور نہ ہی کبھی سمرتی ایرانی کا کہیں نام لیا اور نہ کبھی ٹوئٹ ہی کیا۔
وقت نے ایسی کروٹ بدلی کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش کے اسی امیٹھی حلقہ پارلیمان سے راہول گاندھی نے امیٹھی کے بجائے رائے بریلی سے مقابلہ کیا اور کانگریس نے ایک منصوبہ کے تحت حلقہ امیٹھی سے کانگریس کے سینئر لیڈر کشوری لال کو سمرتی ایرانی کے خلاف میدان میں اتارا۔انتخابی مہم کے دوران بھی سمرتی ایرانی راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، کانگریس اور خود اپنے حریف امیدوار کشوری لال شرما کی تضحیک کرتی رہیں کہ راہول گاندھی شکست کے خوف سے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کی جانب سے کشوری لال کو کانگریس کا پیادہ اور چوکیدار تک کہا گیا۔
4 جون کو جب لوک سبھا کے نتائج آئے تو کانگریس کے کشوری لال نے بی جے پی امیدوار سمرتی ایرا نی کو ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے شکست فاش دی۔جبکہ راہول گاندھی نے رائے بریلی کی نشست سے 4 لاکھ سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی وہیں وہ کیرالہ کے وائناڈ حلقہ پارلیمان سے بھی منتخب ہوگئے۔ تاہم بعد میں انہوں نے وائناڈ سے استعفیٰ دے دیا جہاں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس حلقہ سے بطور امیدوار پرینکا گاندھی واڈرا کے نام کا کانگریس پارٹی نے اعلان کر دیا ہے۔
سیاسی ماہرین اور سوشل میڈیا کےمطابق امیٹھی سے سمرتی ایرانی کی شکست کے بعد بی جے پی کی جانب سے انہیں مکمل نظر انداز کیا جارہا ہے
انہیں دوبارہ این ڈی اے حکومت میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ انہیں 2014ء میں مرکزی وزارت میں شامل کیا گیا تھا اور بعدازاں انہیں راجیہ سبھا کا رکن بھی بنایا گیا تھا۔سمرتی ایرانی سے اندرون ایک ماہ مکان بھی خالی کر وایا گیا جبکہ کئی ایسے سابق مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمان بھی ہیں جو برسوں سے سرکاری رہائش گاہ میں ہی مقیم ہیں۔تو پھر سمرتی ایرانی سے کیوں اتنی جلدی مکان خالی کر وایا گیا۔؟
امیٹھی سے شکست کے بعد لوک سبھا کی جانب سے گزشتہ ماہ سمرتی ایرانی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا کہ وہ 11 جولائی تک اپنا سرکاری بنگلہ خالی کر دیں۔لہذا کل 11 جولائی کو سمرتی ایرانی نے اپنا سرکاری بنگلہ خالی کردیا۔جس کے بعد سے سوشل میڈیا بالخصوص ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سمرتی ایرانی کے قدیم ویڈیوز وائرل کرتے ہوئے ان کی تضحیک کا آغاز ہوا اور انہیں بری طرح ٹرول کیا جا رہا ہے۔
اسی دؤران آج لوک سبھا میں اپوزیشن قائد راہول گاندھی نے پہلی مرتبہ ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمرتی ایرانی ہو یا کوئی اور سیاسی لیڈر ان کے خلاف اہانت آمیز ٹرولنگ فوری بند کی جائے۔جس کی ہر طرف سے سراہنا کی جا رہی ہےکہ جس سمرتی ایرانی نے انہیں کئی سال تک نشانہ بنایا اور ان کی تضحیک و تذلیل کا کوئی موقع نہیں چھوڑا آج وہی راہول گاندھی سمرتی ایرانی کے حق میں بولنے لگے ہیں۔واقعی راہول گاندھی کے اس اقدام کو تہذیب اور اعلیٰ سیاسی اقدار کا ایک نمونہ ہی کہا جاسکتا ہے۔!!
راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ
"زندگی میں ہار جیت لگی رہتی ہے۔میں تمام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سمرتی ایرانی یا کسی بھی دوسرے لیڈرکےلیےتضحیک آمیز زبان کا استعمال اور برا سلوک کرنے سے پرہیز کریں۔لوگوں کو نیچا دِکھانا اور بے عزّتی کرنا کمزوری کی نشانی ہے طاقت کی نہیں۔”
راہول گاندھی کے اس ٹوئٹ کو اب تک 3 ملین سے زائد لوگوں نے پڑھاہے، 58 ہزار سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹوئٹ کو لائیک کیا ہے۔ جبکہ اس ٹوئٹ کو 16,000 ایکس صرفین نے ری۔ٹوئٹ کیا ہے وہیں زائد از 5,000 صارفین نے اس ٹوئٹ پر مختلف کمنٹس کیے ہیں۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس "X” پر راہول گاندھی کا یہ ٹوئٹ اورسابق مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کے قدیم ویڈیوز ٹاپ ٹرینڈ کررہےہیں۔ زیادہ تر صارف اور خود گودی میڈیا راہول گاندھی کے اس بیان کی زبردست سراہنا کررہے ہیں۔لکھا اور کہا جا رہا ہے کہ سیاسی اعلیٰ قدار اسی کو کہتے ہیں اور دیگر سیاسی لیڈرس راہول گاندھی کی اس سوچ سے کچھ سبق لیں۔!!
راہول گاندھی کے اس بیان، ان کی اس سوچ اور کشادہ دلی پر نامور شاعرہ شبینہ ادیب کی مشہور غزل کا ایک شعر شاید یہاں صادق آتا ہے ؎
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

راہول گاندھی کے اس ٹوئٹ پر نامور صحافی ابھیسار شرما کا خصوصی ویڈیو
” یہ بھی پڑھیں ”

