نئے فوجداری قوانین کا نفاذ : عوام کی پریشانیوں اور پولیس کے اختیارات میں اضافہ
المعہدالعالی الاسلامی میں بعنوان تین ” نئے فوجداری قوانین،مسلمانوں اور دیگر پر اس کے اثرات ” محاضرہ
رکن پارلیمان حیدرآباد و صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی کا خطاب

حیدرآباد : 4۔جولائی
(پریس ریلیز / سحر نیوز ڈاٹ کام)
ہندوستان میں مودی حکومت کی جانب سے حال ہی میں نافذالعمل تینوں فوجداری قوانین در اصل عام شہری کی پریشانیوں اور محکمہ پولیس کے اختیارات میں اضافہ کےسوا کچھ نہیں ہے۔تینوں قوانین دستور کےمنافی اور بنیادی حقوق کی سخت مخالف ہے۔پولیس کےاختیارات میں اضافہ کر کے عام لوگوں پر ظلم کا ایک نیا باب کھول دیا گیا۔
دہشت گردی کے خلاف شقوں کو آسان کرکے اقلیتوں کے خلاف محاذ آرائی کا موقع فراہم کیا گیا۔مودی حکومت کا یہ کہنا کہ ملک سے انگریزی دؤر کے فوجداری قوانین کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا گیا اور نئے قوانین کو باضابطہ مرتب کردیا گیا۔ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بعد سے متعدد مواقع پر مرکزی حکومت کی جانب سے فوجداری قوانین میں حسبِ موقع ترمیم کی جاتی رہی ہے۔
مرکزی حکومت کے علاوہ ریاستوں نے بھی اپنے اپنے اعتبار سے کریمنل لاء میں مختلف مواقع پر تبدیلیاں کرتی رہیں۔ اس طرح ان قوانین کو انگریزی دؤر کے قوانین کہنا بالکل غلط ہوگا۔ان خیالات کا اظہار بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدر آباد و صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے المعہدالعالی الاسلامی ،قباء کالونی شاہین نگر حیدرآباد میں منعقدہ ایک اہم علمی محاضرہ بعنوان”تین نئے فوجداری قوانین اور مسلمانوں و دیگر پر اس کے اثرات ” سے دورانِ خطاب کیا۔اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی نے کی۔
بیرسٹر اویسی نے اپنے محاضرہ میں کہا کہ پچھلے جو فوجداری قوانین ملک میں نافذ العمل تھے وہ بھی مسلمانوں کے لیے ہمیشہ سے ہی دردِ سر رہے ہیں۔انہوں ملک بھر میں پیش آنےوالے واقعات اور سروے کرنےوالی مستند تنظیموں سی ایس ڈی ایس و دیگر کےحوالے سے جیلوں میں بند مسلمانوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھی یہ قوانین میں جھول تھا اب تو ایک طرح سے عام لوگوں اور خاص طور پر غریبوں کے لیے نہایت پریشان کن قوانین ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈٹینشن قانون کا سب سے زیادہ استعمال مسلمانوں پر ہوا۔انہوں نے نئے نافذالعمل قوانین پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلے کسی بھی شکایت پر پولیس کو فی الفور ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات تھے تاہم اب اس کو تبدیل کرکے ایف آئی آر درج کرنے میں 15 دنوں کی مہلت فراہم کی گئی۔نئے قوانین کے مطابق فوری ایف آئی آر درج نہیں ہوگا۔
پرائم آفیسی یہ دیکھے گا کہ شکایت کنندہ کی بات پر کیس بنے گا یا نہیں اور پھر اپنے اعتبار سے ایک وقت تک اس پر غور و خوض کے بعد ایف آئی آر درج کرے گا یا پھر اس شکایت کو وہیں پر ختم کردیا جائے گا۔ اس معاملہ میں شکایت کنندگان کو تکالیف کا سامنا ہونے کا قوی امکان ہے۔ اگر کسی کےخلاف کیس درج ہوا تو اس کو پولیس اس کو پندرہ دن تک پولیس اسٹیشن طلب کرسکتی ہے جبکہ اس مطلوبہ بندے کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ آیا کس معاملہ میں اس کو پولیس اسٹیشن طلب کیا جارہا ہے۔
بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ اس طرح ہنگامی معاملات میں پولیس سے رجوع ہونےمیں عوام خطرہ محسوس کرےگی اور غیریقینی صورتحال کا شکار ہوجائے گی۔نئے قوانین کےمطابق ایف آئی آر درج نہ ہونے پر جس طرح عدالت سے رجوع کیا جاتا تھا لیکن اب اس طرح عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔
بیرسٹر اویسی نے اپنےمحاضرہ میں کہاکہ ان نئے قوانین میں جو باتیں لائی گئیں اس میں یہ مسئلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہوگیاکہ عام مقدمات میں بھی اب پولیس 90 دن کی ریمانڈ طلب کرسکتی ہے جبکہ پہلے یہ 15 دنوں کی مدت پر محدود تھا۔اس طرح مدت میں توسیع پر پولیس کو مزید ڈرانے دھمکانے اور دباؤ ڈالنے کا موقع مل جائے گا۔حالاںکہ پولیس کسٹڈی(تحویل) میں اقبال جرم کرنے والا دباؤ میں قبول کیا یا آزادانہ طور پر قبول کیا یہ عدالت کو معلوم کرنے کا حق تھا تاہم اب اس معاملہ میں پولیس کا بیان ہی فیصلہ کن رہے گا اور عدالت کے پاس ملزم سے یہ پوچھنے کا اختیار ختم ہوگیا کہ دباؤ میں بولا تھا یا حقیقت بیانی سے کام لیا تھا۔
بیرسٹر اویسی نے کہاکہ پولیس تحویل میں ملزمین کے ساتھ پولیس کا ناروا سلوک اور اقبال جرم کے لیے دباؤ ڈالنے کے پریشان کن طور طریقے بھی نہایت تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یو اے پی اے UAPA# قانون میں دہشت گردی کی اصطلاح تبدیل کرکے رکھ دی گئی اب ملک میں معاشی طور پربھی نقصان پہنچانے والا دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔انہوں کہاکہ نئے قوانین کے تحت مجرم کی جائیدادیں قرق کرلینے کا اختیار دے دیا گیا۔
موب لنچنگ Mob Lynching# کے قانون میں تشدد کی وجہ بتاکر کیس سے مجرم بری ہونے کے راستے ہموار کردئیے گئے۔ پانچ لوگ اگر کہیں ہجومی تشدد میں ملوث پائے جاتے ہیں تو ان پانچوں سے وجوہات دریافت کی جائیں گی اور علیحدہ وجوہات بتانے پر انہیں معمولی سزائیں یا پھر معافی کی ساتھ بری کیا جاسکتا ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ عام ملزمین کو ہتھکڑیاں لگانا اور لو جہاد پر قانون سازی جیسے معاملات سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کا آن لائن مواد رکھنے کا نیا نظام بالکل غیر یقینی ہے۔اس لیےکہ ملک بھر میں ہیکنگ کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ حیدرآباد پولیس کی ویب سائٹ اس کی زندہ مثال ہے۔ تو اس طرح مقدمات میں آن لائن شواہدات کا معاملہ غیر یقینی صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔
اس پروگرام کے آغاز میں المعہد العالی الاسلامی کے طلبہ نے ملکی سیاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے کردار، ویب سیریز اور نت نئے فلموں کے ذریعہ شرعی قوانین کا استہزاء نیز مسلمانوں کے ساتھ شرانگیزی کے واقعات پر پُر مغز روشنی ڈالی۔ نائب ناظم ادارہ مفتی عمر عابدین مدنی قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ المعہد العالی الاسلامی کا تعارف اور اس کی کارکردگی نیز ادارہ کے امتیازات کو بیان کیا اور فارغین معہد کی ملک بھر میں جاری سرگرمیوں کو کم وقت میں مؤثر انداز میں پیش کیا۔
مفتی اشرف علی ناظم تعلیمات نے بیرسٹر اویسی کا استقبالیہ کلمات کے ذریعہ استقبال کیا۔اس موقع پر بیرسٹر اسد الدین اویسی کی گلپوشی کرتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی گئی۔بیرسٹر اویسی کےمحاضرہ کے بعدمولانا خالد سیف الله رحمانی ناظم ادارہ کی ایماء پر سوالات و جوابات کا سلسلہ رکھا گیا جس میں بیرسٹر اویسی نے طلبہ کو اطمینان بخش جوابات دئیے۔ اس پروگرام میں ادارہ کے اساتذہ طلبہ کے علاوہ شہر کے چندعلماء کرام و باذوق عمائدین بھی شریک رہے۔مولانا رحمانی کی دعاء پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔


