اننت گیری ہلز کے گھاٹ سے اترنے کے دؤران آر ٹی سی بس کے بریک فیل، 9 مسافرمعمولی زخمی، بڑا حادثہ ٹل گیا، 90 مسافر محفوظ

اننت گیری ہلز کے گھاٹ سے اترنے کے دؤران آر ٹی سی بس کے بریک فیل
ڈرائیور کی حاضر دماغی سے بڑ احادثہ ٹل گیا، 90 مسافر محفوظ، 9 معمولی زخمی

وقارآباد: 13۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

وقارآباد ضلع کے اننت گیری ہلز کے گھاٹ سے اترنے کے دوران آج بعد دوپہر تلنگانہ آرٹی سی کی ایک بس کے اچانک بریک فیل ہوجانے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔لیکن اس حادثہ کے باعث 9 مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس بس نمبر  TS 34 TA 6363 میں 90 مسافر سوار تھے۔جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

تانڈور بس ڈپو سے وابستہ یہ آر ٹی بس حیدرآباد سے براہ وقارآباد تانڈور واپس ہور ہی تھی کہ اننت گیری گھاٹ اترنے کے دؤران اس تیز رفتار بس کے بریک فیل ہوگئے، تاہم ڈرائیور محمد رفیع کی چوکسی اور حاضر دماغی کے باعث انہوں نے بس اور اپنے اؤسان پر قابو قائم رکھتے ہوئے بے قابو بس کوکسی طرح روکنے کی کوشش کی۔

اس دوران یہ بس سڑک کے کنارے فاصلے تک جاکر وہاں موجود ایک درخت سے ٹکرا کر رک گئی۔جس کے بعد خوفزدہ اور افرا تفری کے شکار تمام مسافر اس بس سے نیچے اتر گئے۔اس واقعہ کے بعد بس ڈرائیور محمد رفیع کی سراہنا کی جارہی ہے کہ انہوں نے اپنی حاضر دماغی سے ایک بڑے حادثہ کو ٹال دیا۔اس بس کے کنڈاکٹر کرشنیا ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ یہ بس خانگی کنٹراکٹر کی ملکیت ہے۔

اس حادثہ کی اطلاع کے فوری بعد  پولیس اور محکمہ آر ٹی سی وقار آباد کے عہدیدار جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔108 ایمبونس کے ذریعہ معمولی زخمی مسافروں کو وقار آباد کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔بعدازاں یہ عہدیدار ہسپتال بھی پہنچے۔یاد رہے کہ ناکارہ بسوں کے باعث ماضی میں بھی ایسے حادثات پیش آچکے ہیں۔

شکستہ و قدیم اور لاکھوں کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرچکیں آر ٹی سی بسوں کو اننت گیری گھاٹ چڑھنے کےدؤران شدیدمشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔کئی سال سے تانڈور بس ڈپو کو جدید بسیں جاری نہیں کی گئی ہیں۔جبکہ محکمہ آر ٹی سی کو اس ڈپو سے مالی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔تانڈور سے حیدرآباد تک لیے عام بس کا کرایہ 140 روپئے لیا جاتا ہے جبکہ ایکسپریس بسوں کا کرایہ فی مسافر 180 روپئے وصول کیا جاتا ہے۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ حیدرآباد اور تانڈور کے درمیان 115 کلومیٹر کا فاصلہ یہ بسیں چار گھنٹے سے زائدوقت میں طئے کرتی ہیں۔اس سے بسوں کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔!! 

جبکہ تانڈور ڈپو سے مواضعات کو چلائی جانے والی بسوں کی حالت تو مزید شکستہ اور ناکارہ ہے۔عوام بالخصوص ان بسوں کے ذریعہ سفر کرنے والے مسافرین کا الزام ہے کہ ان بسوں کو اسکراپ میں فروخت کرنے کے بجائے انہیں سڑکوں پر دؤڑا کر بالخصوص 115 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود حیدرآباد تک چلاکر مسافروں کےساتھ ساتھ عام لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔!!جن میں زیادہ تر کنٹراکٹ پر حاصل کی ہوئی بسیں ہیں۔!!

یہ بھی پڑھیں "

حیدرآباد ایئر پورٹ سے دبئی جانے والے دو مسافرین کے قبضہ سے 6 کروڑ مالیتی ہیرے ضبط، 11 لاکھ مالیتی ملکی اور غیر ملکی کرنسی بھی ضبط

وقارآباد ریلوے اسٹیشن پر کونارک ایکسپریس سے 77 کلو گانجہ ضبط، 20 لاکھ روپئے مالیتی گانجہ مہاراشٹرا منتقل کرنے والے چارافراد گرفتار

آسٹریلیا کے اسٹار کرکٹر ڈیوڈ وارنر ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پہنچے

ماضی میں ننت گیری ہلز پر پیش آچکے بس حادثات "

وقار آباد ضلع کے اننت گیری گھاٹ پر آر ٹی سی بس کا بڑا سانحہ ٹل گیا، ڈرائیور پرکاش کی بروقت حاضر دماغی، 66 مسافر محفوظ

 

وقارآباد ضلع کے اننت گیری گھاٹ پر آر ٹی سی بس اُلٹ گئی، ایک خاتون مسافر ہلاک، بس میں 70 مسافر سوار تھے