وقارآباد ضلع کے اننت گیری گھاٹ پر آر ٹی سی بس اُلٹ گئی، ایک خاتون مسافر ہلاک، بس میں 70 مسافر سوار تھے

وقار آباد ضلع کے اننت گیری گھاٹ پر آر ٹی سی بس اُلٹ گئی
ایک خاتون ہلاک،بس میں 70 مسافر سوار تھے، بڑا حادثہ ٹل گیا
رکن پارلیمان چیوڑلہ اور رکن اسمبلی وقارآباد نے زخمیوں کی مدد کی

حیدرآباد/وقارآباد : 20۔نومبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے 80 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود وقارآبادضلع کےسیاحتی مقام اننت گیری ہلز کےگھاٹ سے اترنے کے دؤران ایک آرٹی سی بس اُلٹ گئی۔جس میں 70 مسافر سوار تھے۔اس خوفناک حادثہ میں ایک خاتون مسافر ہلاک ہوگئیں جبکہ دیگر 20 مسافر زخمی ہوگئے۔

اس حادثہ کی تفصیلات کےمطابق وقارآباد بس ڈپوسے وابستہ آرٹی سی بس نمبر AP 5 Z 0040 دھارورمنڈل کے ڈورنال جارہی تھی جہاں سالانہ عیسائیوں کامذہبی اجتماع (میتھوڈسٹ جاترا)منعقد ہوتاہے۔جس میں کئی ممالک کےعلاوہ ملک کےمختلف مقامات سے بڑی تعداد میں عیسائی شرکت کرتے ہیں۔

وقارآباد سے 70 مسافرین کولےکر یہ خصوصی بس ڈورنال جارہی تھی کہ وقارآباد سے 8 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود اننت گیری ہلز کے گھاٹ سے اترنے کے دؤران اس بس کے بریک اچانک فیل ہوگئے۔حادثہ کی شکار اس بس کے کنڈاکٹر گجارام کےمطابق کسی طرح ایمرجنسی بریک کی مدد سے ڈرائیور پرشوتم اس بس کو روک دینے کی کوشش کررہے تھے کہ بریک فیل ہونے کی اطلاع کےساتھ ہی بس میں سوار مسافرین میں بھگڈر مچ گئی اور سارے مسافرین اس بس سے چھلانگ لگانے کی کوشش کرنےلگےتھے کہ اس بھگڈر کے باعث بس یہ سڑک سے نیچے اتر کر چاروں خانے چت ہوگئی۔

بس کنڈاکٹر نےبتایا کہ بس جب چاروں خانے چت ہوگئی تو اس کے نیچے دب کر ایک خاتون مسافر ہلاک ہوگئی۔اس خاتون کا نام سواروپا 45 سالہ بتایا گیاہے جس کا تعلق حیدرآبادکے سرور نگر سے ہے۔اس حادثہ میں بشمول بس ڈرائیور 20 مسافرین زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی دؤران حادثہ کی شکار اس بس کے پیچھے سے رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی اور رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند کی گاڑیوں کا قافلہ آرہا تھا جو اسی عیسائی جاترا میں شرکت کی غرض سے جارہے تھے۔اس حادثہ اور مسافرین کی چیخ وپکار سن کر رکن پارلیمان اور رکن اسمبلی نے اپنی گاڑیوں کے قافلہ کو روک دیا۔

اپنے ساتھ موجود ٹی آر ایس پارٹی قائدین اور دیگر افراد کی مدد سے مسافروں کو بس سے باہر نکالنے میں مدد کی اور زخمیوں کوہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولنس گاڑیاں طلب کرتے ہوئے پولیس کواس حادثہ کی اطلاع دی۔تمام زخمیوں کو وقارآباد کے ایریا ہسپتال منتقل کیا گیا۔جن میں پانچ مسافرین شدید زخمی بتائے گئے ہیں۔بعد پنچنامہ مہلوک مسافر خاتون کی نعش بغرض پوسٹ مارٹم وقارآباد کے سرکاری ہسپتال منتقل کی گئی۔

اس حادثہ کے فوری بعد رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کی جانب سے حادثہ کا شکار بس میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنا،زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اپنی گاڑی میں موجود پانی کی بوتلوں سےخود اپنے ہاتھ سےزخمیوں کو پانی پلانے سے لے کر ایمبولنس گاڑیوں کو فوری طلب کرتے ہوئے زخمیوں کے ہسپتال منتقل کرنے اور پھر ہسپتال پہنچ کر ان زخمیوں کی تیمارداری کے ساتھ ڈاکٹرز کو موثر علاج کی فراہمی کی ہدایت دئیے جانے کی ہر طرف سے ستائش کی جارہی ہے۔اور اس کے ویڈیوز فوٹوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔

رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی حادثہ کی مہلوک خاتون کو ہسپتال روانہ کرتے ہوئے۔

اس حادثہ کے باعث اننت گیری گھاٹ پرٹریفک نظام مفلوج ہوگیاتھا۔بعدازاں جے سی بی مشین کی مدد سےحادثہ کاشکار بس کو اٹھاکر سڑک کے کنارے کھڑا کیا گیا۔بس کو چاروں خانے چت ہوکر گرنے سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس حادثہ کے بعد عوام کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے یہ حادثہ مزید سنگین ہوتے ہوتے ہوتے رہ گیا کیونکہ گھاٹ کی دونوں جانب گہری کھائیاں موجود ہیں ورنہ مسافرین کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا تھا۔!!

حادثہ کی اطلاع کے فوری بعد ایڈیشنل ایس پی وقارآباد ڈاکٹر ایم اے رشید اور سرکل انسپکٹر پولیس وقارآباد سرینواسلو پولیس جمعیت کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔بس کنڈاکٹر ،مسافرین اور عینی شاہدین سے تفصیلات حاصل کیں۔اور ٹریفک نظام بحال کیا۔

بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے کہا کہ انہوں نے حادثہ کی شکار بس کے ڈرائیور،کنڈاکٹر اور مسافرین سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ مسافرین کا کہنا ہے کہ جب بس کے بریک فیل ہوگئے تھے اور ڈرائیور نے بس کو روک دیا تھا تو دوبارہ بس کو کیوں چلایا گیا؟ رکن پارلیمان نے کہاکہ وہ اس معاملہ میں ضلع ایس پی وقارآباد کےعلاوہ آر ٹی سی ڈپو مینجئر وقارآباد سے بات کریں گے اور اس سارے معاملہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔

رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی،رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند،رکن ریاستی بی سی کمیشن شبھاپردھ پٹیل،صدرنشین بلدیہ وقارآباد سی۔منجولہ رمیش اور تحصیلدار وقارآباد وحیدہ خاتون نے ہسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور ڈاکٹرز کو ہدایت دی کہ تمام زخمیوں کا موثر علاج کیا جائے۔

دوسری جانب وقارآبادضلع کی آر ٹی سی بسوں کےذریعہ حیدرآباد، وقارآباد اور تانڈور اور دیگر مقامات تک سفر کرنے والے مسافرین کا کہنا ہے کہ کئی سال سے انتہائی شکستہ اور خراب حالت میں لاکھوں کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرچکیں ان بسوں کو پرانے سامان میں بیچنے کے بجائے سڑکوں پر چلاتے ہوئے مسافرین کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔!!اور کئی سال سے وقارآبادضلع کو جدید بسیں جاری نہیں کی گئی ہیں جبکہ ضلع میں بڑی تعداد میں عوام آر ٹی بسوں سے استفادہ کرتے ہیں۔اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ سڑکوں کی حالت بھی ابتر ہے۔!!عوام کامطالبہ ہے کہ ضلع وقارآباد کے وقارآباد، تانڈور اور پرگی بس ڈپوز سے فوری طور پر ان خستہ حال اور ناکارہ بسوں کو ہٹاتے ہوئے جدید بسیں جاری کی جائیں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ ماہ 22 اکتوبر کی رات بھی حیدرآباد سے 66 مسافرین کو لے کر تانڈور جارہی تانڈور ڈپو سے وابستہ آر ٹی سی بس کے بریک بھی اسی اننت گیری گھاٹ سے اترنے کے دؤران فیل ہوگئے تھے۔تاہم خوش قسمتی سے اس وقت ایک خوفناک حادثہ ٹل گیا تھا جب بس ڈرائیور پرکاش نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتےہوئے مسافرین اور کنڈاکٹر کو اس بات سے واقف نہ کرواتے ہوئے بس کو اسی حالت میں گھاٹ سے اتار کر ایک کلومیٹر دورموجود موضع کیرلی کے قریب کسی طرح بس کو روکنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اس واقعہ کی مکمل تفصیلات اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہیں۔”

وقار آباد ضلع کے اننت گیری گھاٹ پر آر ٹی سی بس کا بڑا سانحہ ٹل گیا، ڈرائیور پرکاش کی بروقت حاضر دماغی، 66 مسافر محفوظ