بنگال میں راشن کارڈ پر ” دتّہ ” کے بجائے ” کتا ” لکھنے پر برہم شخص کا عہدیدار کے سامنے کتے کی طرح بھونکتے ہوئے احتجاج، ویڈیو وائرل

بنگال میں راشن کارڈ پر ” دتؔہ ” کے بجائے " کتا ” لکھنے پر برہم شخص کا
عہدیدار کے سامنے کتے کی طرح بھونکتے ہوئے احتجاج، ویڈیو وائرل

کولکاتہ: 20۔نومبر
(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

سرکاری سائن بورڈز اور دستاویزات پر ناموں میں اغلاط عام بات بن کر رہ گئی ہے۔متعدد مرتبہ نمائندگی کےباؤجود بھی سرکاری عہدیداراس جانب توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتے۔وہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کمپیوٹر پر آدھار،راشن کارڈ اور دیگر اہم دستاویزات بنانےوالے یہ حرکت جان بوجھ کر کرتے ہیں یا جلد بازی میں ایسی غلطیاں سرزد ہوجایا کرتی ہیں۔؟

تعلیمی اسنادات اور دیگر ضروری سرکاری دستاویزات میں ناموں کی غلطیاں عام انسانوں بالخصوص ناخواندہ افراد کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔زیادہ غریب افراد کوناموں کے ان اغلاط کے باعث کئی سرکاری اسکیمات سے محروم ہونا پڑتا ہے۔کیونکہ آدھار کارڈ پر ایک نام لکھ دیا جاتا ہے تو راشن کارڈ پر ایک نام یا پھر رہائشی پتہ میں ایک اور نام لکھ دیا جاتا ہے۔تعلیمیافتہ طبقہ کسی طرح ان اغلاط کو درست کروالیتا ہے لیکن ناخواندہ اور دیہی افراد نمائندگی کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔

ناموں میں اغلاط تک توبات ٹھیک ہےلیکن زرا غور کریں کہ کسی دتہ Dutta# کو اس کے راشن کارڈ میں کتا Kutta# لکھ دیا جائے تو پھر اس شخص کی ذہنی پریشانی کس حد تک پہنچ جاتی ہے اور کیسے یہ شخص مذاق کا موضوع بن جاتا ہے؟

جی ہاں مغربی بنگال میں سرکاری عہدیداروں اور کمپیوٹر آپریٹر سےیہ انتہائی فاش غلطی سرزدہوئی ہے.وہیں بارہا نمائندگی کےباؤجود بھی اس اہانت آمیز حرکت کو درست کرنے کے بجائے اس کو ٹالا جارہا ہے۔جس سے برہم اور بیزار اس شخص نے اس مسئلہ پر متعلقہ عہدیدار کو گھیرتے ہوئے کتے کی آواز میں ہی ان سے نمائندگی کی۔جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہواہے۔

ٹوئٹر پر صحافی شبھانکر مشرا نے گزشتہ رات اس 45 سیکنڈ پرمشتمل اس ویڈیو کو ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں دیکھاجاسکتاہے کہ کیسے یہ شخص کتے کی آواز میں بھونکتے ہوئے کار میں بیٹھے عہدیدار کو وہ راشن کارڈ دکھارہاہے جس میں دتؔہ کے بجائے کتا لکھا گیا ہے۔پوری ویڈیو میں اس شخص کی جانب سے صرف کتے کے بھونکنے کی آواز ہی سنائی دے رہی ہے۔

یہ واقعہ مغربی بنگال کے ضلع بنکورہ کا ہے جہاں”سری کانتی کمار دتؔہ ” کو جاری کیےگئے راشن کارڈ میں” سری کانتی کمار کتا ” لکھ دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس شخص نے اس توہین آمیز لفظ کو درست کرنے کےلیے کئی بار بنکورہ انتظامیہ سے نمائندگی کی لیکن ہر بار وہ ناکام ہی رہا۔بالآخر اس برہم اور ذہنی طورپر پریشان شخص نے بلاک ڈولپمنٹ آفیسر سے اس وقت نمائندگی کی جب وہ کار میں کہیں جارہے تھے۔اس شخص کوویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہےکہ وہ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کی چلتی ہوئی کار کے دروازے کےشیشہ کےقریب مسلسل کتے کی آواز میں بھونک رہا ہے۔

سری کانتی دتّہ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایاکہ اس نےراشن کارڈ میں اپنا نام درست کرنے کےلیے تین بار درخواست دی تھی۔ ” تیسری بار بھی ان کا نام سری کانتی دتہ کےبجائے سری کانتی کتا لکھا گیا”۔ جس سے وہ ذہنی طور پر پریشان ہیں۔

سری کانتی دتّہ نے مزید بتایا کہ جمعہ کو وہ دوبارہ اصلاح کےلیے درخواست دینے گئے تھے اور”جوائنٹ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کووہاں دیکھ کرانہوں نےان کے سامنے بطور احتجاج کتے کی طرح بھونکنا شروع کر دیا” تاکہ اس کےبعد تو ان کے نام کو درست کیاجائے۔بعدازاں گاڑی میں سوار عہدیدار وہ اس لگاتار کتے کی طرح بھونکنے والے شخص کے پاس سے دستاویزات لےکر اس پر نظر ڈالنے کے بعد گاڑی کے قریب موجود کسی عہدیدار کے حوالے کردیتے ہیں۔