لوک سبھا میں بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کی جانب سے بی ایس پی ایم پی کنور دانش علی کے خلاف شدید اہانت آمیز ریمارکس

لوک سبھا میں بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کی جانب سے
بی ایس پی ایم پی کنور دانش علی کے خلاف شدید اہانت آمیز ریمارکس
وزیراعظم اس ویڈیو کو ڈب کرواکر اپنے عرب دوستوں کو بھیجیں: بیرسٹر اویسی

نئی دہلی : 22۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

چار دن قبل ہی لوک سبھا کی جدید عمارت کا افتتاح عمل میں لایا گیا اور اب اسی میں لوک سبھا کاخصوصی اجلاس جاری ہے۔لیکن ایسا لگتا ہےکہ کروڑہا روپئے کےصرفہ سےلوک سبھا کی عالیشان عمارت بنا تودی گئی لیکن چند ارکان پارلیمان کی ذہنیت اورسوچ میں کوئی فرق نہیں آیا!!

آج جمعہ کے دن بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری جو کہ جنوبی دہلی کی نمائندگی کرتے ہیں نے چندریان 3 مشن پر بحث کے دوران لوک سبھا میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن پارلیمان حلقہ امروہہ،اتر پردیش کنور دانش علی کے خلاف انتہائی قابل اعتراض، مسلم مخالف اور شدید اہانت آمیز تبصرہ کیا۔ایک اور اطلاع میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ مباحثہ کل جمعرات کی رات کا ہے۔

اس بحث کےدوران اسپیکر لوک سبھا اوم برلا کرسی پر نہیں تھے اور کانگریس کے کوڈی کنیل سریش اسپیکر کی نشست سنبھالے ہوئے تھے۔
سوشل میڈیا پر سونامی کی طرح وائرل اس ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری کنور دانش علی کے خلاف غیر پارلیمانی اور غیر مہذب الفاظ” بھڑوا (دلال) کٹوا (ختنہ شدہ)،ملا،آتنک وادی (دہشت گرد) اُگراوادی (عسکریت پسند) جیسے انتہائی اہانت آمیز الفاظ کا ستعمال کر رہے ہیں۔

جب بی جے پی کے رکن پارلیمان رمیش بدھوری کنور دانش علی کےخلاف ایسے توہین آمیز الفاظ استعمال کر رہے تھے،ان کی پارٹی کے ساتھی اور سابق مرکزی وزیر ہرش وردھن جو ان کےبازو کی نشست پر بیٹھے ہنستے ہوئے نظر آئے۔ان کے پیچھےسابق مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد بھی مسکراتے ہوئے اس ویڈیو میں دیکھے جا رہے ہیں۔انہوں نے اپنے اس ایم پی کو اس حرکت سے روکنے کی کوشش نہیں کی۔!!

بی جے پی رکن پارلیمان کے ان کے ریمارکس سے اپوزیشن ممبران شدید برہم ہیں اور بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی یہ ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔جس کی ہر طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

انڈیا ٹوڈے نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بی جے پی ایم پی رمیش بیدھوری سےاس معاملہ میں بات کی اور ان کے ان ریمارکس پر ناراضگی ظاہر کی۔اسپیکر نے ایم پی بدھوری سے کہا کہ وہ اپنی زبان کا وقار برقرار رکھیں۔انڈیا ٹوڈے ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بی جے پی ایم پی بدھوری اپنے ریمارکس پر ڈٹے رہے اور کہاکہ وہ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کی جانب سے کنور دانش علی کےخلاف کیے گئے ان جارحانہ ریمارکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریمارکس نہیں سنے ہیں اور چیئر پر زور دیا کہ اگر انہوں نے اپوزیشن ممبروں کو تکلیف پہنچائی ہے تو انہیں کارروائی سے حذف کر دیا جائے۔کانگریس کے رکن کے سریش جو صدارت پر تھے نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ ان ریمارکس کو لوک سبھا کی کارروائی سے خارج کر دیں۔

اس سلسلہ میں بی ایس پی کے رکن پارلیمان کنور دانش علی نے ایکس "X"(سابقہ ٹوئٹر) پر بی جے پی رکن پارلیمان رمیش بدھوری کےاس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتےہوئےلکھاہےکہ ” کیا آر ایس ایس کی شاکھاؤں اور نریندرمودی جی کی لیبارٹری میں یہی سکھایا جاتا ہے۔؟ جب آپ کا کیڈر ایک منتخب ایم پی کی بھری پارلیمنٹ میں دہشت گرد،انتہا پسند اور ملا جیسے الفاظ سے توہین کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا،تووہ عام مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوگا۔؟ یہ سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔"

بی جے پی ایم رمیش بیدھوری کے اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتےہوئے صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے لکھا ہے کہ”اس ویڈیو میں چونکانے والا کچھ نہیں ہے۔بی جے پی ایک اتھاہ گڑھ ہے،اس لیے ہر روز ایک نئی پستی کو پہنچتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔امکان ہے کہ مستقبل میں انہیں بی جے پی دہلی کا ریاستی صدر بنایا جائے۔

بیرسٹر اویسی نے اپنے اس ٹوئٹ میں لکھاہے کہ آج ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جیسا کہ ہٹلر کے جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔بیرسٹر اویسی نے اپنے اس ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ میرا مشورہ ہے کہ نریندر مودی جلد ہی اس ویڈیو کوعربی زبان میں ڈب کرکے اپنے دوستوں کو بھیجیں۔”

بی ایس پی رکن پارلیمان حلقہ امروہہ کنور دانش علی نے اسپیکر لوک سبھا اوم برلا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے بی جے پی کےایم پی رمیش بدھوری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پارلیمنٹ میں ان کے خلاف استعمال ہونے والی فرقہ وارانہ گالیوں کےواقعہ کو ایک اقلیتی رکن کی حیثیت سے میرے لیے واقعی دل دہلا دینے والا قرار دیا ہے۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق سوشل میڈیا پر اس قابل اعتراض ویڈیوکے وائرل ہونے اور مختلف گوشوں سے شدید تنقید و ملامت کے بعد بی جے پی نے اپنے رکن پارلیمان رمیش بدھوری کو اس معاملہ میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی ہے۔

بی جے پی ایم پی رمیش بھدھوری کے ریمارکس کی کانگریس مختلف اپوزیشن قائدین، پارٹیوں، صحافیوں کی جانب سے مذمت اور اس کے خلاف ٹوئٹس یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

" یہ بھی پڑھیں "

حیدرآباد کے سوپر لگژری کاروں کے شوقین عامر شرما نے کیا انسانیت کا پرچم بلند، سیلفی لینے والے غریب شخص کے موبائل فون سے اپنی کار کے ساتھ تصاویر لے کر دیں، ویڈیو وائرل

 

راہول گاندھی جب قلی بن گئے ، آنند وہار اسٹیشن پر قلیوں سے ملاقات، قلی کا ڈریس پہنا، بیچ لگایا اور مسافروں کا سامان بھی اٹھایا