نفرت کے بازار میں محبت کی دُکان! راہول گاندھی کی بی ایس پی کے ایم پی کنور دانش علی سے جذباتی ملاقات

نفرت کے بازار میں محبت کی دُکان!
راہول گاندھی کی بی ایس پی کے ایم پی کنور دانش علی سے جذباتی ملاقات
سڑکوں پر لگنے والی نفرت کی دُکان پارلیمنٹ کے اندر پہنچ گئی : کنور دانش علی

نئی دہلی : 22۔ستمبر
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

سابق صدر کل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے آج شام بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی سے ان کی رہائش گاہ پہنچ کر ملاقات کی۔اس موقع پر ان کے ساتھ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا کے سی وینو گوپال بھی تھے۔

یادرہےکہ جمعرات کی شام اسلاموفوبیاکےشکار بی جے پی کے ایم پی رمیش بدھوری نے بی ایس پی کے ایم پی کنور دانش علی جوکہ حلقہ پارلیمان امروہہ، اتر پردیش کی نمائندگی کرتے ہیں کےخلاف لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی پربحث کے دوران انتہائی قابل اعتراض اور اہانت آمیز ریمارکس کیے تھے،جس کی شدیدمذمت کا سلسلہ جاری ہے۔اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے۔

راہول گاندھی نے کنور دانش علی سے ملاقات کے بعد ” X ” (سابقہ ٹوئٹر) پر کنوردانش علی کوگلے لگاتے ہوئے اپنی دو تصاویر پوسٹ کیں اور اس کے ساتھ ہندی میں صرف ایک لائن لکھی ہے کہ ” نفرت کے بازار میں،محبت کی دُکان” دراصل اپنی چار ہزار کلومیٹر طویل پیدل بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہول گاندھی نے نعرہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے پیدا کردہ” نفرت کے بازار میں محبت کی دُکان کھولنا چاہتے ہیں۔”

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق راہول گاندھی اور کے سی وینو گوپال کی آمدسے کچھ دیر قبل نم آنکھوں کے ساتھ بی ایس پی کے رکن پارلیمان کنور دانش علی نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ وہ رات کو سو نہیں پا ئے تھے اور بی جے پی ایم پی کی جانب سے انہیں نشانہ بنائے جانے کے بعد وہ ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر ہیں۔

راہول گاندھی کی کنور دانش علی سے ملاقات کےبعد جب میڈیا نے ان سے سوال کیے تو راہول گاندھی صرف ایک جملہ کہہ کر وہاں سے نکل گئے کہ ” نفرت کے بازار میں محبت کی دُکان”

بعدازاں بی ایس پی ایم پی کنور دانش علی نے میڈیا سے بات کرتےہوئے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت راہول گاندھی لوک سبھا میں موجود نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی ان سے اظہار یگانگت اور ان کا حوصلہ بلند کرنے کی غرض سے آئے تھے۔ان کی رات سے کسی سے بھی بات نہیں ہوئی اور ان کا موبائل فون تک بند تھا۔

رکن پارلیمان کنور دانش علی نے کہاکہ راہول گاندھی نے ان سے کہاکہ وہ خود کو اکیلا مت سمجھیں،جمہوریت پر ایقان رکھنے والا اس ملک کا ہر شخص آپ کے ساتھ ہے۔اور راہول گاندھی نے کنور دانش علی سے کہا کہ وہ اس واقعہ کو دل پر نہ لیں اوراپنی صحت کا خیال رکھیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ واقعی جو ہوا دل پر لگنے والی بات ہے۔

بی ایس پی کے ایم پی کنور دانش علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا کہ مجھے اس بات سے بہت بڑی راحت حاصل ہوئی ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں،پورے اپوزیشن اور عوام کی یکجہتی، ہمدردی اور تائید انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حملہ ہوا ہے وہ مجھ اکیلے پر نہیں ہوا بلکہ وہ حملہ اس جمہوریت پر ہے دستور پر ہے۔

کنور دانش علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو نفرت کی دکانیں سڑکوں پر لگتی تھیں وہ نفرت کی دُکان اب امرت کال میں اس نئے بھارت کے نئے پارلیمنٹ میں لگنی شروع ہوگئی ہیں۔انہیں اسی کا بہت افسوس ہوا ہے اور میں رات بھر نہیں سو پایا،میں اپنے درد کو بیان نہیں کرسکتا۔انہوں نےسوال کیاکہ کیا ہمارے آبا و اجداد نے اسی لیےملک کی آزادی کی جنگ میں قربانی دی تھی؟کہ آپ ایسا برتاؤکریں گے؟

رکن پارلیمان کنور دانش علی نے کہاکہ ان لوگوں کا جب پارلیمنٹ کے اندر یہ رویہ ہے تو سوچیں گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے عام آدمی کے ساتھ ان کا کیسا برتاؤ ہوگا۔؟ اس واقعہ نے دنیا کے سامنے شرمسار کرنے کا کام کیا ہے۔

" بی ایس پی کے ایم پی کنور دانش علی راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے۔ ” 

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل سنسد ٹی وی کے اس ویڈیو میں سناجاسکتا ہےکہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری جو کہ جنوبی دہلی کے پارلیمانی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں کنور دانش علی کے خلاف غیر پارلیمانی اور غیر مہذب الفاظ”بھڑوا (دلال)،کٹوا (ختنہ شدہ)،ملا،آتنک وادی (دہشت گرد) اُگراوادی (عسکریت پسند) جیسے انتہائی اہانت آمیز الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔

” بی جے پی کے ایم پی رمیش بدھوری کون ہیں ؟ نامور و سینئر صحافی گرجیش وشستھا کی زبانی "

 

" لوک سبھا کے اس واقعہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر "

لوک سبھا میں بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کی جانب سے بی ایس پی ایم پی کنور دانش علی کے خلاف شدید اہانت آمیز ریمارکس