
تحریر: علی نثار۔کینیڈا
کچھ لوگ رنگ کے اندھے color blind ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عقل کے بھی اندھے ہوتے ہیں بس وہ رنگ نہیں دیکھ سکتے بلکہ کچھ خاص قسم کے رنگوں میں تمیز سے عاری ہوتے ہیں. جیسے سرخ و سبز یا پیلے اور نیلے رنگ کے درمیان فرق نہیں کر پاتے بہت ہی کم تعداد میں ایسے بھی ہیں جن کے لئے دنیا صرف بلیک اینڈ وائٹ ہے۔
یہ نایاب monochromatism خرابی ہے، یہ ان کے جنیٹکس کی خرابی سے ہوتا ہے جس میں آنکھ میں موجود cones cells گزرنے والی روشنی کی وویوو لینتھ کو صیح طور پہچان نہیں پاتے اور ریٹینا retina تک صحیح معلومات نہیں پہنچا پاتے اس وجہ سے retina رنگ شناخت نہیں کر پاتا.بس روشنی کی وویو لینتھ کے مطابق اس پر رنگ چڑھانے کا کام ان ہی cones cells کا ہے.کلر بلائنڈ افراد کئی رنگوں کے درمیان فرق نہیں کر پاتے خاص کر سرخ اور سبز رنگ کے درمیان امتزاج ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔
بعض افراد رنگوں کے متعلق تمیز نہیں کر پاتے اور انہیں زیادہ تر چیزیں کالی، گرے یا سفید ہی نظر آتی ہیں۔ یہ مرض اکثر موروثی یا خاندانی ہوتا ہے۔ مردوں میں اس کی شرح عورتوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ پیدائشی اور جنیاتی ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی خاص علاج بھی ممکن نہیں۔ ایسے افراد کو سرخ اور سبز رنگ کی چیزیں پیلی نظر آتی ہیں۔
جیسے سرخ اور سبز سیب، سرخ پھول، سبز درخت، پتے سب پیلے نظر آتے ہیں البتہ کوئی چیز گہری اور کوئی ہلکی پیلی نظر آتی ہے۔ایسے لوگ اگر ڈرائیور ہوں تو ٹریفک لائٹس میں فرق کرنا ممکن ہی نہیں۔
جنیاتی اور موروثی وجوہات کے علاوہ چند ادویات مثلاً ہائیڈرو کلورو کیون اور اتھیم بوٹل بھی اس مرض کی وجہ بن سکتی ہے۔ نومولود بچے یا بہت چھوٹے بچوں کو زور زور سے ہلانا یا اچھالنا ان کے آنکھ کے پردے پر اثر ڈالتا ہے، حادثہ یا چوٹ بھی اس حصے کو نقصان پہنچاتا ہے، الٹراوائلٹ شعاعیں بھی اس کی وجہ بن سکتی ہیں۔

ان کے علاوہ عمر کے ساتھ آنکھ کے پردے کی کمزوری ”میکولر ڈی جنریشن“ کے باعث بھی رنگوں میں امتزاج کم کر دیتا ہے، ذیابیطس اور وٹامن A کی کمی سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔کلربلائنڈ کے زیادہ تر افراد سرخ اور سبز رنگوں کو نہیں پہچان پاتے۔
بعض افراد کو نیلے پیلے رنگ کی کلربلائنڈنیس ہوتی ہے۔ایسے افراد نیلے اور سبز رنگ میں اور سرخ اور پیلے رنگ میں امتزاج نہیں کر پاتے یعنی اگر ان کے سامنے نیلی اور سبز چیزیں ہوں تو انہیں فرق معلوم ہی نہیں ہوگا اور وہ زیادہ چیزوں کو نیلا ہی سمجھیں گے۔
کئی افراد پیلے رنگ کو نہیں پہچان پاتے ایسے افراد کو 24 رنگوں کی ڈبی میں تمام رنگ نیلے اور گلابی نظر آتے ہیں، بعض کو تمام رنگ نیلے پیلے اور گرے نظر آتے ہیں۔
انسانی آنکھ کے پچھلے حصے "ریٹی نا”آنکھ کے پردے پر ایسے خاص خلیے "کونز”موجود ہوتے ہیں جو رنگوں میں فرق کو محسوس کرتے ہیں۔ مختلف رنگوں کی "ویو لینتھ”کے مطابق مختلف "کونز”میں ہی ایسی خرابی پیدا ہوتی ہے کہ یہ رنگوں کا امتزاج کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ اس کی شدت کا انحصار "کونز” میں خرابی کی تعداد پر ہی ہوتا ہے۔
کلر بلائنڈ افراد کی درست تشخیص کے لئے "ایشی ہارا کلر ٹیسٹ” کیا جاتا ہے جو امراض چشم کے ماہر ڈاکٹرز کے پاس ممکن ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹریفک لائٹس میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور نہ سرخ سیب سبز نظر آتے ہیں ہاں کلر بلائنڈ ٹیسٹ میں مجھے رنگوں کے اندر لکھے گئے ہندسے اور پیٹرن نظر نہیں آتے۔ سو ناممکن کہنا درست نہیں۔
میرے خیال میں اس کی مختلف اسٹیج ہیں اور اسی لحاظ سے رنگوں کو پہچانے کی صلاحیت بھی مختلف ہے. انسانی آنکھ میں بنیادی طور پر تین مختلف رنگوں کو ڈیٹیکٹ کیا جاتا ہے جو کہ سرخ، سبز اور نیلا ہیں۔
ان رنگوں کو ڈیٹیکٹ کرنے کی زمہ دار مخصوص پروٹینز ہوتی ہیں۔ ان پروٹینز کو بنانے کی انفارمیشن جینز میں موجود ہوتی ہے۔ سرخ اور سبز رنگ کو ڈیٹیکٹ کرنے والی پروٹین بنانے والی جینز X کروموسوم پر موجود ہوتی ہیں جبکہ نیلے رنگ کو ڈیٹیکٹ کرنے والی جین آٹو سومز پر موجود ہوتی ہے۔
بعض اوقات مخصوص میوٹیشن کی وجہ سے یہ جینز ایکسپرس نہیں ہو پاتے جسکی وجہ سے کسی مخصوص رنگ کو ڈیٹیکٹ کرنے والی پروٹینز نہیں بن پاتیں جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مخصوص رنگوں میں تمیز کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔
اگر آپ پیدائشی کلر بلائنڈ ہیں تو اس کا کوئی علاج نہیں۔تاہم کچھ مخصوص چشمے یا کانٹیکٹ لینزز کا استمعال آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہے لیکن اس کے استعمال سے بھی آپ مکمل طور پر رنگوں میں تمیز نہیں کر سکتے۔
بعض اوقات کچھ دوسری وجوہات بھی کلر بلائنڈنس کا سبب بن سکتی ہیں جیسا کہ مائیگرین وغیرہ جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مختلف رنگوں میں تمیز نہیں کر پاتا اس قسم کی کلر بلائنڈنس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

