رنگے ہاتھوں پکڑے گئے دو چوروں کی گلپوشی، راجستھان کے بھرت پور کے لوگوں نے اپنایا گاندھیائی طریقہ

رنگے ہاتھوں پکڑے گئے دو چوروں کی گلپوشی
راجستھان کے بھرت پور کے لوگوں نے اپنایا گاندھیائی طریقہ

جئے پور: 03۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

زیادہ طور پر دیکھاجاتا ہے کہ کسی مکان یا دُکان کے علاوہ کسی سامان یا گاڑی کی چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے والے چوروں کی خوب دھلائی کی جاتی ہے۔حتیٰ کہ پڑوسیوں کےعلاوہ راہ چلتے لوگ بھی چوروں پر دو دو ہاتھ صاف کرلیا کرتے ہیں۔جبکہ نہ انہیں ان مکان،دکان،گاڑیوں اور سامان والوں سے کچھ لینا دینا ہوتا ہے اور نہ چوروں سے! بلکہ اان کےدل کی بھڑاس ہوتی ہےجو چوروں پرنکال لی جاتی ہے۔

زیادہ تر دیہاتوں اور ٹاؤنس میں تو دیکھا جاتاہے کہ پکڑے گئے چوروں کوبرقی کھمبوں یا درختوں سے باقاعدہ رسی کی مدد سے باندھ کر ان کی جم کر پِٹائی کی جاتی ہے۔ان دونوں حرکتوں کے بعد ان چوروں کو پولیس کے حوالے کردیا جاتا ہے۔عوام کے ہاتھوں چوروں کی دھلائی اورپھر پولیس کی تفتیش الگ،پھر جیل کو جانا الگ۔کہاجاتا ہےکہ اس سے دیگر چوروں کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ ایسی حرکتیں کرنے سے قبل کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں!!۔ایسی افسوسناک خبریں بھی آتی رہتی ہیں لوگوں کے ہجوم نے چوروں کو مارڈالا۔!!

جبکہ یہ طریقے غلط ہیں!!سزا دینا قانون اور عدالتوں کاکام ہوتا ہے،عوام کا نہیں۔پکڑےگئے چوروں کوپولیس کےحوالے کردیا جائے تووہ عدالت میں پیش کرتے ہوئے ان چوروں اور سارقوں کی سزا کو یقینی بناتی ہے۔

لیکن ریاست راجستھان کےضلع بھرت پور کا ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔جسے گاندھیائی طریقہ کہاجاسکتا ہے۔جہاں چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے دو چوروں کو مکان مالک سمیت اس علاقہ کےعوام نےتہنیت پیش کی اور ان کی گلپوشی کرتےہوئےچوروں سمیت سب کو چونکادیا۔اس موقع پر لی گئیں تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔

اس واقعہ کی دستیاب اطلاعات کے مطابق دو چور چوری کی غرض سے بھرت پور کے ایک مکان میں داخل ہوئے اور رنگےہاتھوں پکڑلیے گئے ۔اس بات کی اطلاع سارےعلاقے میں پھیل گئی کہ دو چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیا ہے۔تاہم بھرت پور کےلوگوں نےان دونوں چوروں کی پِٹائی نہیں کی اور نہ ہی ان کے ساتھ مارپیٹ ہی کی گئی۔

بلکہ فوری طور پر دو پھولوں کے ہار منگوائے گئے اور ان دونوں چوروں کو تہنیت پیش کرتے ہوئے ان کی گلپوشی کی گئی۔یہ سب منظر دیکھ کر دونوں چور خود بھی حیران ہوگئے کہ انہیں کوئی سزا نہ دیتے ہوئے لوگوں نے ان کی گلپوشی کی اور باقاعدہ ان کے ساتھ ویڈیو اور فوٹوز بھی لے رہے ہیں۔

یہ سب دیکھ کر یہ دونوں چوروں شدید متاثر ہوئے اور انہوں نے پورے مجمع کےسامنے یہ عہد کیا کہ وہ چوری اور سرقہ کی وارداتوں سے توبہ کرتے ہوئے شریف انسانوں کی طرح محنت مزدوری کریں گے۔

وہیں گاندھیائی طریقہ پرعمل کرنے والے والے بھرت پور کے لوگوں نےکہا کہ ان چوروں کو مارنے، پیٹنے اور پولیس کےحوالے کرنے سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔بلکہ یہ مزید چوری کی بڑی وارداتوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔اور اس طرح تمام عوام کے سامنے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جائے تو شرم محسوس کرتے ہوئے یہ لوگ چوری کے کاموں سے باز آجاتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔اطلاعات کےمطابق بھرت پور کے ان لوگوں نے ان دونوں چوروں کے خلاف پولیس میں کوئی شکایت بھی درج نہیں کروائی۔

بھرت پور کےاس واقعہ کےبعد سنجے دت کی مشہورفلم”منا بھائی ایم بی بی ایس”کا ایک سین بےاختیار یاد آجاتا ہے۔جس میں نامور اداکار سنیل دت جب پہلی مرتبہ گاؤں سے اپنے بیٹے سنجے دت سے ملاقات کےلیے اپنی بیوی (فلمی کردار)روہنی ہتھنگڈی کےساتھ بمبئی کےریلوے اسٹیشن پر اترتے ہیں۔تو اب کہ مشہور اداکار نواز الدین صدیقی ان کا پرس اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تو سنیل دت انہیں پکڑلیتے ہیں۔

اسی دؤران ریلوے پلیٹ فارم پر موجودہجوم جیب کترے کا کردار اداکرنےوالے نوازالدین صدیقی کی پٹائی شروع کردیتاہے۔جس پر سنیل دت مداخلت کرتے ہوئے انہیں روکتے ہیں۔ہجوم اور چور کونصیحت کرتے ہیں۔

فلم منا بھائی ایم بی بی ایس کا چار منٹ طویل وہ دلچسپ سین یہاں دیکھا جاسکتا ہے ” :-