اب ٹوئٹر،عارفہ خانم شیروانی اور سوارابھاسکر کے خلاف بھی دہلی پولیس میں شکایت
نئی دہلی:17۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

اس سلسلہ میں یوپی پولیس کا دعویٰ ہے کہ بزرگ شخص کے ساتھ پیش آئے واقعہ میں 6 ملزمین شامل ہیں جن میں دونوں طبقات کے نوجوان ہیں کیونکہ عبدالصمدصوفی کی جانب سے رقم لیکر دی گئی تعویذکے بے اثر ہونے پر برہم نوجوانوں نے انہیں پیٹا ہے اور اس معاملہ سے کوئی مذہبی تعلق نہیں ہے جیسا کہ سوشیل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر ویڈیوس اور ٹوئٹس کے ذریعہ اتر پردیش میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب عبدالصمد صوفی کے فرزند ببلو صوفی کا الزام ہے کہ اتر پردیش پولیس اس معاملہ کو دوسرا رخ دے رہی ہے جبکہ انکے والد یا ان کا خاندان تعویز فروخت کرنے والا ایسا کوئی کام نہیں کرتا اور وہ پیشہ سے کارپینٹر ہیں انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی شکایت 6 جون کو ہی لونی پولیس اسٹیشن میں درج کروادی گئی تھی اور الزام عائد کیا کہ پولیس اس معاملہ کو چھپارہی ہے اور مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کی تحقیقات انجام دی جائیں تو حقائق واضح ہونگے۔

اسی معاملہ میں آج دارالحکومت دہلی میں معروف صحافی و نیوز اینکرعارفہ خانم شیروانی،بالی ووڈ اداکارہ سوارابھاسکر،ٹویٹر انڈیا کے سربراہ منیش مہیشوری آصف خان اور دیگر کے خلاف امیت آچاریہ ایڈوکیٹ کی جانب سے دہلی کے تلک مارگ پولیس اسٹیشن میںشکایت درج کروائی گئی ہےپولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔کیونکہ اداکارہ سوارابھاسکر نے پولیس اور عبدالصمد صوفی کے بیانات پر سوال اٹھائے تھے۔
دوسری جانب فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے فاؤنڈر پرتیک سنہا نے اپنے ٹوئٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ ٹائمز ناؤ نے اس خبر کو انکے معاون محمد زبیر کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے سے کئی منٹ قبل ٹوئٹ کی تھی تو پھر اس نیوز چینل کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں؟
پرتیک سنہا نے اپنے ٹوئٹ میں الزام عائد کیا ہے محمد زبیر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور آلٹ نیوز کی ٹیم محمد زبیر کے ساتھ ہے۔

