مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے کبھی نہیں کہا کہ امید پورٹل کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے : مرکزی وزارت اقلیتی امور کی وضاحت

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کبھی نہیں کہا کہ امید پورٹل کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے
مرکزی وزارت اقلیتی امور کی وضاحت جاری

حیدرآباد: 5۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

آج دوپہر سے چند میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی اطلاع زیر گشت ہیں کہ امید پورٹل پر وقف املاک کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے لیے مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے تین ماہ تک کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کرن رجیجو کاایک ویڈیو بھی وائرل ہے جو انہوں نے میڈیا سے بات کیا تھا۔غور سےکرن رجیجو کے اس تین منٹ طویل ویڈیو کو دیکھا اور سنا جائے تو اس میں انہوں نے تاریخ میں تین ماہ کی توسیع کا اعلان نہیں کیا ہے۔صرف وقف املاک کے اندراج کی ریاست وار سطح پر تعداد کا انکشاف کیا ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ یکم ڈسمبر کو سپریم کورٹ نے امید پورٹل پر وقف املاک کے اپ لوڈ/رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی درخواست پر کہا تھا کہ سجادگان اور متولیان وقف ٹریبونل سے رجوع ہوں۔پھر اس سلسلہ میں 3 ڈسمبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی وزارت اقلیتی امور سے مطالبہ کیا تھا کہ امید پورٹل کی سست رفتاری، بار بار پورٹل کا جام ہونا، سرور کا ڈاون ہونا  اور مختلف تکنیکی دشواریوں کے پیش نظر تاریخ میں کی جائے۔

آ ج مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو کی جانب سے تاریخ میں توسیع کی اطلاعات وائرل ہونے کے بعد آج شام پی آئی بی،دہلی کی ویب سائٹ پر اس سلسلہ میں وضاحتی پریس نوٹ جاری کیا گیا ہے کہ

"اقلیتی امور کی وزارت نے وضاحت کی ہےکہ اقلیتی امور کے وزیر جناب کرن رجیجو نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اُمید پورٹل پر وقف املاک کو اپ لوڈ کرنے کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے تبصرے کی بعض طبقات نے غلط تشریح کی ہے۔

اس حوالے سے مرکزی وزیر جناب رجیجو نے دراصل مندرجہ ذیل باتیں کہی ہیں: وقف ترمیمی ایکٹ کے تحت لازمی چھ ماہ کی مہلت ختم ہو گئی ہے، اور ایکٹ کی دفعات اور سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کی وجہ سے اس میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔تاہم، متولیوں کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ وزارت انسانی ہمدردی اور سہولتی اقدام کے طور پر آئندہ تین ماہ تک کوئی جرمانہ یا سخت کارروائی نہیں کرے گی۔
یہ اپلوڈنگ سے متعلق حتمی تاریخ کو آگے بڑھانا نہیں ہے۔

متولی جو 6 دسمبر 2025 کی رات 11:59:59 تک رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے سے قاصر ہیں وہ وقف ٹریبونل سے رجوع کر سکتے ہیں جس کے پاس توسیع دینے کا قانونی اختیار ہے۔وزیر نے بارہا  اس بات پر زور دیا ہے کہ قانونی طور پر مقرر کردہ ٹائم لائن میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون کے پابند ہے اور سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا ہے۔ اس لیے وزیر موصوف کا بیان قانون سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔

अल्पसंख्यक कार्य मंत्रालय ने स्पष्टीकरण जारी करके बताया कि केंद्रीय अल्पसंख्यक कार्य मंत्री श्री किरेन रिजिजू ने कभी यह नहीं कहा है कि यूएमईईडी पोर्टल पर वक्फ संपत्ति संबंधी जानकारी अपलोड करने की समय सीमा बढ़ा दी गई है

प्रविष्टि तिथि: 05 DEC 2025 6:53PM by PIB Delhi

अल्पसंख्यक कार्य मंत्रालय यह स्पष्ट करता है कि अल्पसंख्यक कार्य मंत्री श्री किरेन रिजिजू ने कभी यह नहीं कहा है कि यूएमईईडी पोर्टल पर वक्फ संपत्ति संबंधी जानकारी अपलोड करने की समय सीमा बढ़ा दी गई है। केंद्रीय अल्पसंख्यक कार्य मंत्री की टिप्पणियों की कुछ वर्गों द्वारा गलत व्याख्या की गई है।

इस संदर्भ में, केंद्रीय मंत्री श्री रिजिजू द्वारा वास्तव में कहा गया कथन इस प्रकार है:

वक्फ संशोधन अधिनियम के तहत निर्धारित छह महीने की समय सीमा समाप्त हो चुकी है और अधिनियम के प्रावधानों तथा सर्वोच्च न्यायालय के स्पष्ट निर्देशों के कारण इसे बढ़ाया नहीं जा सकता।

हालांकि, मुतवल्लियों की चिंताओं को ध्यान में रखते हुए मंत्री महोदय ने आश्वासन दिया कि मंत्रालय मानवीय और सुविधा प्रदान करने वाले उपाय के रूप में अगले तीन महीनों तक कोई दंड नहीं लगाएगा और न ही कोई कठोर कार्रवाई करेगा।

यह अपलोडिंग की समय-सीमा का विस्तार नहीं है

जो मुतवल्ली 6 दिसंबर, 2025 को रात 11:59:59 बजे तक पंजीकरण प्रक्रिया पूरी नहीं कर पाते हैं, वे वक्फ न्यायाधिकरण से संपर्क कर सकते हैं, जिसके पास कानूनी रूप से विस्तार देने का अधिकार है। मंत्री महोदय ने बार- बार जोर दिया है कि कानूनी रूप से अनिवार्य समय-सीमा में कोई भी बदलाव संभव नहीं, क्योंकि यह संसद द्वारा पारित और सर्वोच्च न्यायालय द्वारा बरकरार रखे गए कानून से बाध्य है। इसलिए मंत्री महोदय का बयान पूरी तरह से कानून के अनुरूप है।

Ministry of Minority Affairs issues clarification that Union Minister of Minority Affairs, Shri Kiren Rijiju, has never stated that deadline for Waqf property upload on the UMEED Portal has been extended.

प्रविष्टि तिथि: 05 DEC 2025 6:53PM by PIB Delhi

Ministry of Minority Affairs clarifies that the Hon’ble Minister of Minority Affairs, Shri Kiren Rijiju, has never stated that the deadline for Waqf property upload on the UMEED Portal has been extended. Union Minister of Minority Affair’s remarks have been misinterpreted by some sections.

In this reference Union Minister Shri Rijiju actually said is exactly as follows:

The six-month deadline mandated under the Waqf Amendment Act has ended, and cannot be extended due to the provisions of the act, and clear directions of the Supreme Court.

However, recognising the concerns of mutawallis, the Minister assured that the Ministry will not impose any penalties or take strict action for the next three months as a humanitarian and facilitative measure.

THIS IS NOT AN EXTENSION OF THE UPLOADING DEADLINE.

Mutawallis who are unable to complete registration process by 11:59:59 pm on 6th December, 2025 can approach the Waqf Tribunal, which has the legal authority to grant an extension. The Minister has repeatedly emphasised that any change in the legally mandated timeline is not possible, as it is bound by the law passed by Parliament and upheld by the Supreme Court. The Minister’s statement is therefore fully consistent with the law.

***

یہ بھی پڑھیں "

انچارج سب رجسٹرار تانڈور اور دو ڈاکیومنٹ رائٹرز اینٹی کرپشن بیورو کے جال میں، رشوت کی رقم طلب اور قبول کرتے ہوئے تینوں گرفتار