انچارج سب رجسٹرار تانڈور اور دو ڈاکیومنٹ رائٹرز اینٹی کرپشن بیورو کے جال میں، رشوت کی رقم طلب اور قبول کرتے ہوئے تینوں گرفتار

انچارج سب رجسٹرار تانڈور اور دو ڈاکیومنٹ رائٹرز اینٹی کرپشن بیورو کے جال میں
رئیل اسٹیٹ تاجر سے 16,500 ہزار روپئے کی رشوت طلب اور قبول کرتے ہوئے تینوں گرفتار

حیدرآباد/وقارآباد/تانڈور: 3۔ڈسمبر(سحر نیوز ڈاٹ کام)

جاریہ سال وقارآباد ضلع میں مختلف محکمہ جات میں برسر خدمت نصف درجن سے زائد سرکاری عہدیدار رشوت کی رقم طلب اور قبول کرتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے ہیں، لیکن پھر بھی ایسے بدعنوان رشوت خور عہدیدار اپنی روِش تبدیل کرنے تیار نظر نہیں آتے !!

آج چہارشنبہ 3 ڈسمبر کو ایسے ہی ایک رشوت خوری کے معاملہ میں دفتر سب رجسٹرار تانڈور پر محکمہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے عہدیداروں کی ٹیم نے دھاوہ منظم کرتے ہوئے انچارج سب رجسٹرار (جونیئر اسسٹنٹ)  تانڈور اور ان کے دو معاون ڈاکیومنٹ رائٹرز کو ایک رئیل اسٹیٹ تاجر سے رشوت کی رقم طلب اور قبول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔گرفتاری سے قبل محکمہ اے سی بی کی ٹیم نے دفتر سب رجسٹرار کا شیٹر بند کرکے اندر تفصیلی تلاشی بھی لی۔

اس کارروائی کے بعد میڈیا کو تفصیلات سے واقف کر واتے ہوئے ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو متحدہ ضلع رنگاریڈی رینج آنند کمارنے بتایاکہ تانڈور کے ساکن ایک رئیل اسٹیٹ تاجر نے انچارج سب رجسٹرار سائی کمار سے رجوع ہوتے ہوئے بتایا تھاکہ ان کی ملکیت 11 ایکڑ اراضی کو ان کے رشتہ داروں اور خریداروں کے نام منتقل کرتےہوئے رجسٹری کی جائے تاہم انچارج سب رجسٹرار(جونیئر اسسٹنٹ)  سائی کمار نے بہانہ بنایا کہ اراضی کے دستاویزات درست نہیں ہیں اس لیے وہ رجسٹری نہیں کریں گے۔!

لیکن دفتر سب رجسٹرار کے سامنے موجود ڈاکیومنٹ رائٹرز اشوک اور اسسٹنٹ ڈاکیومنٹ رائٹر سائی نے اس رئیل اسٹیٹ تاجر سے کہا کہ وہ ان کی رجسٹری کروا کر دیں گے۔ ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو متحدہ ضلع رنگاریڈی رینج آنند کمارکے مطابق ڈاکیومنٹ رائٹرز نے پہلے تو رئیل اسٹیٹ تاجر کو بتایا کہ انچارج سب رجسٹرار سائی کمار فی رجسٹری دو ہزار روپئے کی رشوت طلب کر رہے ہیں بعد ازاں یہ رقم 1,500 روپئے فی رجسٹری کے حساب سے جملہ 16,500 روپئے طئے کی گئی۔

جسکے بعد رئیل اسٹیٹ تاجر نےمحکمہ اینٹی کرپشن بیورو سے شکایت کی کہ انچارج سب رجسٹرار تانڈور سائی کمار ان کی اراضی کی رجسٹری کے لیے دو ڈاکیومنٹ رائٹرز کی مدد سے رشوت طلب کررہے ہیں۔جس پر محکمہ اے سی بی کے عہدیداروں نے ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو متحدہ ضلع رنگاریڈی رینج آنند کمار کی قیادت میں آج کارروائی کرتے ہوئے ڈاکیومنٹ رائٹرز اشو ک اور سائی کے ذریعہ رئیل اسٹیٹ تاجر کے پاس سے حاصل کی گئی رشوت کی رقم 16,500 روپئے قبول کرتے ہوئے انچارج سب رجسٹرار سائی کمار اور ان دونوں ڈاکیومنٹ رائٹرز کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اس معاملہ میں ان تینوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے مکانات کی بھی تلاشی لی گئی اور ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن بیورو اس معاملہ میں مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ٹھیک تین سال قبل یعنی 5؍ڈسمبر 2022ء کو بھی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو کی ٹیم نے دفتر سب رجسٹرار تانڈور پر دھاوہ منظم کیا تھا ۔محکمہ اے سی بی کے عہدیداروں نے اس وقت میڈیا کو بتایا تھا کہ انچارج سب رجسٹرار ضمیر الدین نے ارشاد نامی شخص سے طلب کی گئی 50ہزار روپئے کی رشوت کی رقم دفتر کے قریب موجود صمد نامی ڈاکیومنٹ رائٹر کے ملازم ظہیر الدین کے حوالے کرنے کی ہدایت دی تھی، اس وقت بھی ظہیر الدین کو50ہزار روپئے حاصل کرتے وقت رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیاتھااور بعد پنچنامہ انچارج سب رجسٹرار تانڈور ضمیر الدین اور رشوت کی رقم حاصل کرنے والے ظہیر الدین کو گرفتار کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو متحدہ ضلع رنگاریڈی رینج آنند کمارنے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی جانب سے سرکاری کام کی انجام دہی کےلیے رشوت طلب کیے جانے پرمحکمہ اے سی بی کے ٹول فری نمبر 1064 پر اطلاع دیں تو ان بدعنوان عہدیداروں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ساتھ ہی اطلاع دینے یا شکایت کرنے والوں کی شناخت پوشیدہ رکھی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں ” 

وقارآباد ضلع میں پُرامن اور صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے پولیس چوکس رہے : ضلع ایس پی سنیہا مہرہ کی ویڈیو کانفرنس

تانڈور اسٹون مرچنٹس اور کواری اونرس اسوسی ایشن کے عہدیداروں کی تقریب حلف برداری، رکن اسمبلی منوہر ریڈی کا خطاب

ڈاکٹر نصرت مہدی کو ابوظہبی میں بین الاقوامی اعزاز ” سفیر اردو ” سے نوازا گیا