کانپور میں ٹیچر کے عاشق کی جانب سے 17 سالہ طالب علم کا اغواء اور قتل
30 لاکھ روپئے کا تاوان طلب، خط پر اللہ اکبر کا نعرہ، رچیتا، پربھات اور آرین گرفتار
لکھنؤ : 01۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
کیرالا کے کوچی میں اتوار کومنعقدہ دعائیہ اجتماع میں عیسائی گروپ کی ایک عبادت گاہ میں کیےگئے سلسلہ وار دھماکوں میں تین افرا دہلاک ہوئے جن میں دو خواتین اور ایک 12 سالہ لڑکی شامل ہیں،ان دھماکوں میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔جونہی یہ دھماکےہوئےسوشل میڈیا پر ایک مخصوص ذہنیت کی نفرتی گینگ اور گودی میڈیا کے چندضمیر فروشوں نے ان دھماکوں کوحماس سے جوڑتے ہوئے اسلام اورمسلم مخالف پروپگنڈہ شروع کر دیا۔مذہبی منافرت کو خوب ہوا دی گئی۔لکھا گیا کہ کیرالہ میں یہودیوں کی عبادت گاہ پر جہادیوں کی جانب سے دھماکے کیے گئے ہیں۔
اس معاملہ میں مرکزی وزیر راجیو چندراشیکھر کے خلاف بھی کیرالہ حکومت نے ایک کیس درج رجسٹر کرلیا ہے۔جنہوں نے ان دھماکوں کے فوری بعد بنا کسی تحقیقات نفرت انگیز ٹوئٹ کیاتھا۔اتوار کو دھماکہ کےفوری بعد مرکزی وزیر مملکتی امور راجیو چندرا شیکھر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر چیف منسٹر کیرالہ پنائی رائی وجئین کی تصویرکےساتھ ان کو ٹیگ کرتےہوئے لکھاکہ”ایک بدنام وزیراعلی اوروزیر داخلہ کی گندی بے شرم خوشامد کی سیاست،کرپشن کے الزامات میں گھرے ہوئے دہلی میں بیٹھ کر اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جب کیرالہ میں دہشت گرد حماس کی جانب سے جہاد کی کھلی آواز لگائی جا رہی ہے اور وہ معصوم عیسائیوں پر حملے اور بم دھماکے کر رہے ہیں۔”
تاہم ان دھماکوں کی ذمہ داری ڈامنک مارٹن(57 سالہ) نے لیتے ہوئے باقاعدہ فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا اور پیر کے دن کیرالہ پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم(ایس آئی ٹی )نے اس سابق انگریزی ٹیوٹر ڈامنک مارٹن کوگرفتار کرلیا۔تھمانم،کوچی کے ساکن ڈامنک مارٹن کے خلاف یو اے پی اے کے ساتھ 302، 307 کے علاوہ کئی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا۔جونہی ان دھماکوں میں ڈامنک مارٹن کا نام آیا سب کو سانپ سونگھ گیا۔!!
اسی دؤران اتر پردیش کے کانپور سے ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔جہاں ایک 17 سالہ معصوم لڑکے کش گار کا اغوا کرتے ہوئے اس کا قتل کر دیا گیا۔اس لڑکے کے والد ٹیکسٹائلس کے بڑے بیوپاری ہیں سے اغواء کنندوں نے 30 لاکھ روپئے کے تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک لیٹر بھی روانہ کیا تاکہ اس معاملہ کو اغواء اور قتل کا رنگ دیا جائے۔یہاں سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ مقتول لڑکے کے باپ کو لکھے گئے لیٹر میں” اللہ اکبر ” کا نعرہ لکھتے ہوئے بطور تاوان 30 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس معاملہ میں اترپردیش پولیس کی ستائش کی جا رہی ہےکہ اس نے تیز رفتار کارروائی اور کامیاب تحقیقات کے ذریعہ طالب علم کے قتل کے الزام میں ٹیچر،اس کے عاشق اور ایک دوست سمیت تینوں کو گرفتار کرلیا۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق پولیس نے بتایا کہ اس لڑکے کو جو 10 ویں جماعت کا طالب علم تھا،پربھات شکلا جوکہ لڑکے کی ٹیوشن ٹیچر رچیتا شکلا کا عاشق ہے(ایک اطلاع میں منگیتر بتایا جارہا ہے) ایک اسٹور روم میں لایا تھا۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد پولیس نے کہا کہ پربھات لڑکے کا اس کے گھر سے اسٹور روم تک پیچھا کررہا تھا۔
پولیس کا کہناہےکہ لڑکے اور پربھات کو ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔اور پربھات تقریباً 20 منٹ بعد باہر آتا ہے،لیکن لڑکا اس کے ساتھ نہیں آتا۔ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر پولیس کا کہناہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اور کمرے میں داخل نہیں ہوا۔اس کےبعد ملزم پربھات شکلا اپنے کپڑے بدلتا ہے اور لڑکے کے اسکوٹر پر جاتا ہوا نظر آتا ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں پربھات شکلا،رچیتا شکلا 21 سالہ اور ان کے دوست آرین کو گرفتار کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے کے افراد خاندان کو ایک خط بھی ملا تھا جس میں تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لیکن ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ خط پہنچانے سےقبل ہی لڑکے کو قتل کر دیا گیا تھا۔دھمکی کا خط توجہ ہٹانے کا ایک حربہ تھا۔لیکن قتل کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔
کانپور میں ٹیکسٹائل بزنس مین کے بیٹے کو اغوا کرنے کے بعد روانہ کردہ تاوان کے خط میں انہوں نے ” اللہ اکبر” لکھا اور رہائی کےلیے 30 لاکھ کا مطالبہ کیا کانپور پولیس سے پوچھا گیاکہ انہوں نے "اللہ اکبر” کیوں لکھا تو پولیس نے کہاکہ یہ پولیس کی توجہ ہٹانےکےلیے کیا گیا تھا۔پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خط میں ہاتھ کی لکھائی پربھات شکلا کی تحریر سے ملتی ہے۔
نیوز 24 کی رپورٹ کےمطابق مقتول طالب علم کشاگرا کو اس کی ٹیچر رچیتا نے ٹیوشن کےلیے بلایا تھا۔بعدازاں ٹیچر نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ مل کر اس لڑکے کا قتل کر دیا۔
اب سوشل میڈیا پر پوچھا جارہا ہےکہ دنیا اور ملک کے کسی بھی حصہ میں پیش آنے والےجرائم کے ہر واقعہ اور دھماکوں کےفوری بعد صرف مسلمانوں کو نشانہ بنائےجانے کا جواز کیا ہے؟کیوں ہر معاملہ کو تحقیقات سے قبل مسلمانوں سے جوڑ کر نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کیوں حقائق کے سامنے آنے کے بعد بے شرمی کے ساتھ دوبارہ وہی کام کیا جاتا ہے۔؟


