تلنگانہ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ : اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی کے لیے اندرون دو ماہ رہنما خطوط مدون کرنے کی ہدایت، ٹی یو ڈبلیو جے یو کی رٹ درخوست کی یکسوئی

تلنگانہ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی کےلیے اندرون دو ماہ رہنما خطوط مدون کرنے کی ہدایت
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین کی رٹ درخواست کی یکسوئی، اردو صحافیوں میں خوشی کا ماحول

حیدرآباد:19۔جولائی
(پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)

صحافیوں کو اکریڈیٹیشن Media Accreditation Card# کی اجرائی کے لیے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ جی او ایم ایس نمبر 239 مورخہ 15 جولائی 2016ء کے جواز کا جائزہ لیتےہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے صحافیوں کو اکریڈیٹیشن کی اجرائی میں لسانی بنیادوں پر درجہ بندی میں پائےجانے والے امتیاز کی یکسوئی کرتےہوئے حکومت تلنگانہ کو ہدایت دی ہے کہ اندرون دو ماہ اردو اخبارات کے ساتھ ساتھ پیانل میں شامل سیٹلائٹ نیوز چینلس کے لیے معقول اور واجبی معیار قائم کرتے ہوئے رہنما خطوط مرتب کرے۔

اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی میں لسانی امتیازات کے خلاف تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین TUWJU#  ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی تھی۔معزز  چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس انیل کمار جوکنٹی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے پایا کہ میڈیا اکریڈیٹیشن کے لیے زبان کی اساس پر معیارات کا تعین فی الحقیقت من مانی اور دستور ہند کے آرٹیکل 14 کے مغائر ہے۔

عدالت العالیہ نے پایاکہ اکریڈیٹیشن فوائد کی فراہمی کے لیے بلا لحاظ تعداد صفحات و تعداد اشاعت اخبار کی زبان واجبی اور مناسب معیار نہیں ہوسکتی۔عدالت نے اس کے جواز میں اس بات پر زور دیا کہ ریاستی حکومت اگر کارکرد صحافیوں کو اکریڈیٹیشن جیسی ایک فلاحی اسکیم سے بہرہ مند کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ بے عیب، معقول اور واجبی معیار پر عطا کرے۔

ہائی کورٹ کی اس بنچ نے تجویز کیاکہ زبان کےبجائے بے عیب اورمعقول معیار اخبار یا جریدہ کی تعداد اشاعت یا صفحات ہوسکتے ہیں۔عدالت العالیہ نے ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ جواز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ”مذکورہ وضاحت طمانیت سے پرے ہے۔ ایک اخبار کے زبان کی اساس پر اکریڈیٹیشن کی اجرائی کے لیے معین معیارات کے لیے جوابی حلف میں کوئی جواز نہیں پیش کیاگیا۔ریاستی حکومت نے اگر کارکرد صحافیوں کو ایک فلاحی اسکیم بنام اکریڈیٹیشن سے مستفید کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ بے عیب اور معقول معیار پر عطا کیا جانا چاہئے۔بے عیب اور معقول معیار ایک اخبار کی تعداد اشاعت اور صفحات ہوسکتے ہیں۔تاہم بلالحاظ تعدادصفحات اور تعداد اشاعت اخبار کی زبان اکریڈیٹیشن کا فائدہ پہنچانے کے لئے واجبی اور مناسب وجوہ نہیں ہوسکتی۔صرف اردوا خبارات اور جرائد کو اکریڈیٹیشن کارڈس کی تعداد کو محدود رکھنے کی کوئی وضاحت پیش کرنے میں مدعی علہیان بالکلیہ ناکام رہے۔

“عدالت نے 2016 کے قواعد میں شیڈول "سی” اور شیڈول” ایف” کو برخاست کردیا جو اردو کے اخبارات اورچینلس کے لیے اکریڈیٹیشن کی تعداد کا تعین کرتے تھے۔ بنچ نے نوٹ کیاکہ ریاستی حکومت اکریڈیٹیشن کی اجرائی کے لیے زبان کو معیار بنانے پر طمانیت بخش وضاحت دینے سے قاصر رہی ہے۔

حکومت نے صرف اتنا ہی کہا کہ درخواست گزارصحافیوں کی یہ تنظیم اکریڈیٹیشن کمیٹی کی تشکیل کے بعد وجود میں آئی ہے اس لیے اس وقت اس تنظیم کو اس کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔زبان کی اساس پر یہ امتیاز غیر واجبی اور مساوات کےاصولوں کے مغائر ہیں۔عدالت نے تجویز کیا کہ زبان کے برخلاف تعداد اشاعت اور تعداد صفحات کو معیار بنایا جاسکتا ہے۔ مقدمہ کی یکسوئی کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ تمام زبانوں کے کارکرد صحافیوں کو اکریڈیٹیشن کارڈس کےفوائد بہم پہنچانے معقول اور واجبی معیارات کی بنیاد پر اندرون دو ماہ نئے رہنما خطوط وضع کیے جائیں۔

مفتی رئیس الدین قاسمی جنرل سکریٹری تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ یونین کی ایک بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے اس خصوص میں یونین کی نمائندگی کرنےوالی وکیل صاحبہ محترمہ ولادمیر خاتون ایڈووکیٹ اورمعاون عدالت جناب ویویک جین ایڈووکیٹ کے علاوہ سرپرست یونین محمد ساجد معراج،بانی صدر جناب اطہر معین اور موجودہ صدر جناب محمد شجاع الدین افتخاری سے اظہار تشکر کیا جن کی متواتر کاوشوں کے باعث یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

مفتی رئیس الدین قاسمی نے کہا کہ اس خصوص میں ہماری یونین نے اس وقت کے کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ اور ارباب حکومت سے متعدد بار نمائندگی کی تھی مگر بارآور ثابت نہ ہونے پر اردو صحافیوں کو انصاف دلانے کے لیے ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ چونکہ ریاستی اور ضلعی سطح پر درجنوں اردو صحافی،اکریڈیٹیشن کارڈز سے محروم ہورہے تھے۔جس کے نتیجہ میں ایسے صحافی سرکاری اسکیمات جیسے زمینات اور امکنہ جات کی فراہمی کی اسکیم سے بھی مستفید نہیں ہو پارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا یہی ادعا تھا کہ آیا صرف زبان کی اساس پر ریاستی حکومت میڈیا اکریڈیٹیشن کارڈس کی تعداد کا تعین کیسے کرسکتی ہے۔؟ ہماری یونین نے اردو صحافتی اداروں اور صحافیوں کے ساتھ روا ناانصافی پر مبنی اس جانبدارانہ تخصیص کو کامیابی کے ساتھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ہمارا استدلال تھا کہ اردو زبان کے صحافیوں کے ساتھ امتیاز روا رکھا گیا اور انہیں اپنے تلگو ہم منصب کےمقابل کم تعداد میں اکریڈیٹیشن کارڈز مختص کیے گئے۔