وقارآباد ضلع کے تانڈور میں جعلی نوٹ بنانے اور بازار میں پھیلانے والے گروہ کا پردہ فاش، 8 لاکھ روپئے مالیتی جعلی نوٹ ضبط، چار گرفتار

وقارآباد ضلع کے تانڈور میں جعلی نوٹ بنانے اور بازار میں پھیلانے والے گروہ کا پردہ فاش
زائداز 8 لاکھ روپئے مالیتی جعلی نوٹ ضبط، ایک معطل شدہ بینک مینجئرکے بشمول چار گرفتار
کمپیوٹر سمیت مختلف اشیاء ضبط، ضلع ایس پی نارائن ریڈی کا پریس کانفرنس میں انکشاف

وقارآباد/تانڈور۔20؍جولائی
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآباد میں نقلی نوٹوں کے چلن کی سنسنی خیز اطلاعات پرضلع پولیس نے فوری کارروائی اور کامیاب تحقیقات کے بعد چار افراد پر مشتمل ایک گروہ کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں عدالتی تحویل میں روانہ کردیا جن میں ایک سابق بینک مینیجئر بھی شامل ہے۔

وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن میں چند دنوں سے بازار میں نقلی نوٹوں کے چلن کی اطلاعات زیرگشت تھیں جس پر پولیس الرٹ ہو کر تحقیقات میں مصروف تھی۔شبہ کی بنیاد پر تانڈور پولیس نے ایک پتھر کے بیوپاری کو تحویل میں لے کرتفتیش کی تو اس گروہ کا پردہ فاش ہوا اور اس کی اطلاع پر اس کےمزید تین ساتھیوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لےلیا اور ان کے قبضہ سے 7 لاکھ 95 ہزار روپیوں پرمشتمل جعلی نوٹ برآمد کیے اور ساتھ ہی ان جعلی نوٹوں کی تیاری میں استعمال کیے جانے والے کمپیوٹر، پرنٹر، کاغذ اور ربن کو ضبط کرلیا۔

اس سلسلہ میں دفتر ایس پی وقارآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی ضلع وقارآباد کے۔نارائن ریڈی آئی پی ایس نے بتایاکہ حلقہ اسمبلی تانڈور کے بشیر آباد منڈل کےموضع اندرچیڑ کا ساکن چندریا عرف چندرپا تانڈورکے ایپا نگر میں مقیم رہتے ہوئے پتھر کا کاروبار کیا کرتا تھا۔

چندریا کی جان پہچان کسی طرح آندھرا پردیش کے وجیا نگرم ضلع کے موضع سنکری پیٹ کے ساکن بینک آف بروڈہ کے معطل شدہ مینجئر اچھا پورم جگدیش، کونا سیما ضلع کے رام چندرا پورم ضلع کے نرساراو پیٹ کے ساکن بی۔ویرا وینکٹا رمنا عرف وینکی، مشرقی گوداوری کے ضلع کرلم پوڑی مندل کے ساکن پرگلا پاٹی شیواکمار سے ہوئی اور انہوں نے نقلی نوٹوں کی تیاری کا اپنا ایک گروہ تیار کرلیا۔

میڑچل ملکاجگری ضلع کے دندیگل پولیس اسٹیشن کے حدود میں موجود ملم پیٹ کے ایس آر ایس ورشا بھادری اپارٹمنٹس میں مقیم رہ کر یہ گروہ ایک کمپیوٹر، پرنٹر، کاغذ اور ربن کی مدد سے نقلی نوٹ تیار کرتے ہوئے انہیں بازار میں چلاتا تھا۔

ضلع ایس پی کے۔نارائن ریڈی آئی پی ایس نے بتایا کہ جمعہ کے دن پولیس نے شبہ کی بنیاد پر تانڈور میں چندرپا کوتحویل میں لے کر تفتیش کی تو اس گروہ کا پردہ فاش ہوا اور چندریا کی نشاندہی پر اس پارٹمنٹس پر دھاوہ منظم کرتے ہوئے 500 روپئے مالیتی 1,590 نقلی نوٹ (جملہ 7 لاکھ 95 ہزار روپئے ) ایک کمپیوٹر، پرنٹر، کاغذ، ربن اور پانچ سیل فونس ضبط کرلیے گئے۔بعدازاں اس گروہ کے تمام چاروں افراد کو گرفتار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں روانہ کر دیا گیا۔

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/1520163161908892

ضلع ایس پی نے بتایا کہ اچھا پورم جگدیش ماضی میں بحیثیت مینیجئربینک آف بروڈہ خدمات انجام دیتے ہوئے مالی خرد برد میں ملوث خدمات سے ہوا تھا اور ایک ماہ تک سنگاریڈی ضلع کے ظہیر آباد پولیس کی جانب سے گرفتار ہوکر جیل میں رہا تھا۔جبکہ ماضی میں وینکی بھی نقلی نوٹوں اور گانجہ کی منتقلی کے کیس میں گرفتار ہوکر سنگاریڈی جیل میں قید تھا ان دونوں کی جیل میں ہی پہچان ہوئی تھی۔

ایس پی ضلع وقارآبادکے۔نارائن ریڈی آئی پی ایس نے ڈی ایس پی تانڈور بالا کرشنا ریڈی کی قیادت میں سرکل انسپکٹرپولیس سنتوش کمار، سب انسپکٹرپولیس راملو، ہیڈ کانسٹیبل محمد امجد، پولیس کانسٹیبلس شیوا کمار، محمد سبیل، سائپا اور پربھو لنگم کو نقلی نوٹوں کے اس کیس کو تیزی کے ساتھ حل کرنے اور ملزموں کو گرفتار کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے نقد ریوارڈز حوالے کیے۔اور کہا کہ ان کی اس خدمات کی حوصلہ افزائی کے لیے مناسب ایوارڈ دئیے جائیں گے۔