بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا، محل پر مظاہرین کا دھاوا، ملک چھوڑ کر فرار!

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا، ملک سے فرار!
محل پر مظاہرین کا دھاوا،  ڈھاکہ کی سڑکوں پر عوام کا ہجوم

نئی دہلی : 05۔اگست
(سحرنیوز/ایجنسیز)

وزیر اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد نے آج اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔کوٹہ سسٹم کے خلاف بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے جاری شدید اور  پرتشدد مظاہروں کے بعد آج شیخ حسینہ مستعفی ہوگئیں۔

بین الاقوامی اور قومی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد 76 سالہ کو مستعفی ہونے کے لیے 45 منٹ کی مہلت دی تھی۔!!

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں موجود بنگلہ دیشی ہائی کمیشن نے شیخ حسینہ کے استعفے کی تصدیق کر دی ہے۔!!

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی بنگلہ نے خبر دی ہے کہ شیخ حسینہ بھارت کی ریاست تریپورہ کے اگرتلہ جا رہی ہیں۔!تاہم شیخ حسینہ کے ڈھاکہ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کے بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

چینل 24 کی خبر کے مطابق پیر کی سہ پہر مظاہرین نے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔ ٹی وی کی تصاویر میں دکھایا گیاہےکہ سینکڑوں لوگ عمارت میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے، مرغیوں،مچھلیوں،بکریوں اور سبزیوں کے علاوہ شیخ حسینہ کی ساڑیاں اور سرکاری رہائش گاہ کی مختلف اشیاء تک اٹھا کر لے گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کی بہن کو سرکاری رہائش گاہ سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے محفوظ مقام پر منتقلی سے قبل تقریر ریکارڈ کروانے کی کوشش بھی کی لیکن اُنہیں تقریر ریکارڈ کر وانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں افراد کی بھیڑ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوگئی تھی۔

میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے چیف آف آرمی اسٹاف وقار الزماں بنگلہ دیشی وقت کے مطابق سہء پہر 3 بجے  میں قوم سے خطاب کریں گے۔رپورٹ میں ایک بنگلہ دیشی فوجی عہدیدار کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف ملک کی موجودہ صورتحال پر ماہرین اور پالیسی سازوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں۔

بعدازاں بنگلہ دیشی فوج کے جنرل نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ میں پوری ذمہ داری لے رہا ہوں، حالانکہ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا وہ نگراں حکومت کی سربراہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک عبوری حکومت تشکیل دیں گے،انہوںنے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں کہا کہ شیخ حسینہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے، معیشت متاثر ہوئی ہے، بہت سے لوگ مارے گئے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ تشدد کو روکا جائے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم (ریزرویشن )کے خلاف ایک ماہ سےجاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہوگئی۔ایک اور اطلاع میں اموات میں اضافہ کا امکان بھی جتایاجار ہاہے!! ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ ہے،ریلوے کی خدمات غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردی گئی ہیں،حالیہ احتجاج کے دوران دوسری مرتبہ حکومت نے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروسز بند کر دیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور واٹس ایپ سروس بھی معطل ہیں اور کپڑوں سمیت دیگر صنعتیں بھی بند ہیں۔

وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفیٰ اور نامعلوم مقام کو روانہ کردئیے جانے کے بعد ڈھاکہ کی سڑکوں پر عوام کا ہجوم جمع ہوگیا ہے جس کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔