دودھ کے ٹینکر کو لاری کی ٹکر ، ڈرائیور ہلاک کلینئر زخمی، مدد کے بجائے لوگ دودھ کی لوٹ میں مصروف ہوگئے

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں "

دودھ کے ٹینکر کو لاری کی ٹکر، ڈرائیور ہلاک کلینئر زخمی
مدد کے بجائے لوگ دودھ کی لوٹ میں مصروف ہوگئے

حیدرآباد : 07۔اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

انسان بھلے ہی چاند تاروں پر کمند ڈال رہا ہے، لاکھ ترقی کر رہا ہے،گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طئے کر رہا ہے لیکن افسوس کہ اس ترقی کے ساتھ انسان اپنی انسانیت کو بھولتا جارہا ہے۔ہمارے اطراف ہونے والے اور سوشل میڈیا پر دیکھے جانے والے ویڈیوز اور خبروں کو دیکھ اور پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ دنیا اپنے آخری پڑاؤ پر ہے!!

وہیں ان دنوں سوشل میڈیا پر الگ الگ نسلوں کےجانوروں کےمیل ملاپ ان کی دوستی اور ان کےدرمیان پلنے والی محبت دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ انسانی میراث کو جہاں انسانوں نے طاق پر رکھ دیا ہے اسی انسانی میراث کو ان جانوروں نے اپنا لیا ہے۔!!

گزشتہ چند سال سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کسی بھی سڑک حادثہ کے بعد حادثہ کا شکار گاڑیوں میں موجو دزخمی افراد کی مدد کےبجائے اس کی ویڈیو گرافی کرنا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا ایک لعنت بن کر رہ گئی ہے۔! اگر مال بردار ٹرک ہوں تو قریب میں موجود دیہاتوں کےعوام،راہ چلتے افراد اور وہاں سے گزرنے والے گاڑی سوار حادثات کی شکار ان گاڑیوں میں موجود زخمی ڈرائیور، کلینئر اور دیگر افراد کو فوری مدد پہنچانے کے بجائے ان گاڑیوں میں موجود اشیاء کی لوٹ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ اتر پردیش کے غازی آباد میں منظر عام پر آیا ہےجہاں ایک دودھ کے ٹینکر کو ایک ٹرک نے عقب سے ٹکر دے دی جس کے باعث اس ٹرک کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا اور کلینئر زخمی ہوگیا۔وہیں دودھ کے ٹینکر کو نقصان پہنچنے سے اس میں سے دودھ خارج ہونے لگا جس کو دیکھتے ہوئے اطراف میں موجود لوگ دودھ حاصل کرنے امڈ پڑے۔

مگر افسوس قریب ہی حادثہ کے بعد الٹ جانے والے ٹرک میں موجود زخمی کلینئر اور مہلوک ڈرائیور کی مدد کرنے یا انہیں ہسپتال پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔جسکے بعد ان لوگوں کی مذمت کی جارہی ہے جو انسانیت بھول کر دودھ کی لوٹ میں مصروف ہوگئے تھے۔

پولیس ذرائع سے دستیاب اطلاعات کے مطابق کل پیر کے دن دودھ کا ایک ٹینکر میرٹھ جا رہا تھا کہ دہلی۔میرٹھ ایکسپریس وے پر اے بی ای ایس کالج کے قریب عقب سے تیز رفتاری کے ساتھ آنے والے ایک ٹرک نے اس دودھ کے ٹینکر کو ٹکر دے دی۔جس کےباعث اس ٹرک کا اگلا حصہ تباہ ہوگیا اور ٹرک ڈرائیورپریم ساگر ( 45 سالہ) کی موت واقع ہوگئی اور نعش ٹرک کے باہر گر گئی جبکہ اس ٹرک کا کلینئر شدید زخمی ہوکر سڑک پر گرگیا اور مدد کے لیے چلانے لگا۔

اسی دوران اطراف میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد نے جب یہ دیکھا کہ ٹرک کی ٹکر کے باعث دودھ کے ٹینکر کے عقبی حصہ سے دودھ خارج ہورہا ہے تو پلاسٹک کی تھیلیوں،بوتلوں،پلاسٹک کی بکیٹ اور دیگر اشیاء کے ذریعہ اس دودھ کو لوٹنے میں مصروف ہوگئے۔لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے زخمی کلینئر کی مدد نہیں کی اور ڈرائیور کی نعش کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا اور نہ پولیس کو ہی اطلاع دی۔!

اس انسانیت سوز واقعہ کا ویڈیو لے کر کسی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا جو وائرل ہوگیا۔اطلاع کے فوری بعد پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی زخمی کلینئر کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کیا اور مہلوک ڈرائیور کی نعش بغرض پوسٹ مارٹم ہسپتال منتقل کی گئی۔

اس وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین شدید غصہ کا اظہار کررہے ہیں کہ اگر ان لوگوں نے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری ڈرائیور اور کلینئر کو ہسپتال منتقل کر دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کرکے دودھ کی لوٹ کو اہم سمجھا!!یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ حادثہ کے فوری بعد ڈرائیور کی موت واقع ہوگئی تھی یا وقت پر طبی امداد نہ ملنے کے باعث اس کی موت ہوئی۔!؟

انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی کا ایک شعر آج کے ماحول کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ؎

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

یہ بھی پڑھیں 

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا، محل پر مظاہرین کا دھاوا، ملک چھوڑ کر فرار!

 

اتر پردیش میں کہر کے باعث ویان حادثہ کا شکار،عوام ویان میں موجود تمام مرغیاں لے کر فرار