پاکستانی یو ٹیوبر مبشر صدیق کی ناقابل یقین کامیابی،قابلیت اور صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کیلئے مشعلِ راہ

پاکستانی یوٹیوبر مبشر صدیق کی ناقابل یقین کامیابی

قابلیت اور صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کیلئے مشعلِ راہ

ایک زمانہ تھا جب فلمی ستارے کرکٹرز اور ٹی وی سیریلس کے اداکارسلیبرٹی ہوا کرتے تھے اور لوگ ان کی کامیابی اور دولت پر رشک کرتے تھے لیکن جب سے 3 جی اور 4 جی تیز رفتار انٹرنیٹ آیا ہے اور گوگل کے پلیٹ فارم پر انفرادی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے اور ان کی مقبولیت کے بعد ان پر چلنے والے اشتہارات سے گوگل نے لوگوں کو منافع دینا شروع کیا ہے قابلیت اور صلاحیت رکھنے والے نوجوان یو ٹیوبرس مشہور ہونے لگے ہیں۔

ان میں شہری نوجوانوں کی کثرت ہے جو ویڈیو ایڈیٹنگ سے واقف ہیں لیکن اب دیہی سطح کے لوگ بھی عوامی دلچسپی کے مختلف موضوعات پر ویڈیو بنا کر نہ صرف عالمی سطح کی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں بلکہ اپنے ویڈیوز سے لاکھوں روپیہ بھی کما رہے ہیں۔

یوٹیوبرس کی کامیابی کی ایک مثال سیالکوٹ پاکستان کے ایک شیف (باورچی) مبشر صدیق ہیں جو اپنے دیہی پکوان کے چینل ولیج فوڈ سیکریٹ کے سبب عالمی سطح کی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔

ان کے تیس لاکھ سبسکرائبرس ہیں اور اب تک ان کے ویڈیوز کو پچاس کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔مبشر صدیق 2016 میں یوٹیوب پر آئےتھے وہ اور ان کے افراد خاندان دیہات میں زمیندار اور کسان ہیں۔

مبشر صدیق سیالکوٹ میں ملازمت کرتے تھے اور ہفتے کے آخر میں گاؤں آکر والدین کے لئے شوقیہ پکوان کرتے تھےان کے بھائی مدثر صدیق جنوبی کوریا میں رہنے لگے تھے انہوں نے اپنے بھائی کو مشورہ دیا کہ وہ پکوان کی ویڈیو ریکارڈنگ کریں اور یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کریں۔

چنانچہ بھائی کے مشورے سے یہ سلسلہ شروع ہوا ابتدا میں دس بیس لوگ ویڈیو دیکھا کرتے تھےاور چھ ماہ تک چینل کچھ آگے نہیں بڑھا پھر ایک پکوان آلو پراٹھے کا ویڈیو وائرل ہوا اور مبشر صدیق کی شہرت بڑھنے لگی ان کی کامیابی کا راز ان کی سادگی ہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے بات شروع کرتے ہیں دوران پکوان الحمدللہ الحمدللہ کہتے رہتے ہیں مٹی کے چولہے پر مٹی کے برتن میں پکاتے ہیں اپنے ہی کھیت کی ترکاریاں توڑ کر پکوان میں استعمال کرتے ہیں۔

اور جب کھانا پک جاتا ہے تو سب سے پہلے اپنے والد کو پیش کرتے ہیں جو سنت طریقہ پر بیٹھ کر پہلے تین سانس میں پانی پیتے ہیں اور پھر مبشر صدیق کے ہاتھوں کا بنا پکوان کا ذائقہ دیکھتے ہیں مبشر صدیق اپنے والد سے ہاں جی ابو کہہ کر ذائقہ پوچھتے ہیں وہ چکھ کر بیٹے کے پکوان کی مخصوص انداز میں تعریف کرتے ہیں۔

پھر آخر میں مبشر صدیق اپنے ناظرین کو دعا دیتے ہیں یہی ان کی سادگی لوگوں میں ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ مبشر صدیق اکثر بڑے پکوان کرکے گاؤں کے غریب بچوں کی دعوت کرتے ہیں۔

اشتہار

آج مبشر صدیق کی ماہانہ یوٹیوب آمدنی دس لاکھ سے زائد ہے اب ان کے بھائی زین العابدین بھی وی لاگر بن گئے ہیں یہ لوگ اپنے گاؤں کی زراعت اور اپنی روز مرہ سرگرمیوں کو چھوٹے چھوٹے ویڈیوز کی شکل میں پیش کرتے ہیں ان کے فیس بک انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹ اور پیج ہیں۔

زراعت کے کام کے ساتھ یوٹیوب ان کا مشغلہ ہے انہوں نے اپنی لاکھوں کی آمدنی سے گاؤں میں عالیشان بنگلہ تعمیر کروایا گھر پر سولار انرجی لگوائی ،ڈرون سے شوٹنگ کرتے ہیں، ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں اور ریکارڈنگ کے لئے اعلیٰ ترین کیمرے استعمال کرتے ہیں۔

یوٹیوب نے ان کے گاؤں پہنچ کر دو دن تک مبشر صدیق پر ڈاکومنٹری تیار کی مبشر صدیق کی کامیابی نوجوانوں کے لئے مثال ہے کہ گاؤں میں جہاں بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل ہیں وہاں انہوں نے جہد مسلسل سے اپنے شوق کو لاکھوں روپئے کی آمدنی کا ذریعہ بنایا۔

یوٹیوب پر مصنوعی زندگی کے سیریل فلمیں دیکھ کر لوگ بیزار ہو گئے ہیں اور اب اوریجنل کانٹینٹ کی مانگ ہے حقیقی زندگی کی تصویر لوگ پسند کرنے لگے ہیں۔

حیدرآباد میں کچھ نوجوان یوٹیوبرس ہیں جو مزاحیہ ویڈیو بناتے ہیں لیکن سنجیدہ موضوعات پر کامیابی حاصل کرنا ہے تو مبشر صدیق ایک مثال ہو سکتے ہیں ناظرین مبشر صدیق کو ان کے چینل ولیج فوڈ سیکریٹس پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو،این ٹی آر ڈگری کالج ،محبوب نگر،تلنگانہ

Photos Courtesy : Youtube & Instagram