حیدرآباد کے معروف آرتھوپیڈک ڈاکٹر مظہر الدین علی خان نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی

حیدرآباد کے معروف آرتھوپیڈک ڈاکٹر مظہر الدین علی خان نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی
گھریلو اختلافات اور جائداد کا تنازعہ انتہائی اقدام کی وجہ!! شہر اور ریاست میں افسوس کی لہر

حیدرآباد: 27۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں آج پیش آئے ایک افسوسناک واقعہ میں شہر کے مشہور و معروف آرتھوپیڈک ڈاکٹرمظہر الدین علی خان نے اپنے مکان واقع بنجارہ ہلز میں اپنی لائسنس یافتہ اپنی بندوق سےخود کو گولی مارکر خودکشی کرلی۔اس واقعہ کی اطلاع عام ہوتےہی بشمول حیدرآباد ریاست تلنگانہ میں غم و اندہ کی لہر دؤڑ گئی۔اور ان کے اس انتہائی اقدام پر شدید افسوس اور غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر مظہر الدین علی خان کا شمار حیدرآباد اور ریاست کے ایک ماہر اورمشہور آرتھوپیڈک ڈاکٹرز میں ہوتا تھا۔ڈاکٹر مظہر الدین علی خان، اویسی ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز تھے۔صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی دوسری دختر کی شادی ڈاکٹر مظہر الدین علی خان کے فرزند سے ہوئی تھی اس طرح وہ بیرسٹر اویسی کے سمدھی اورمینیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست، حیدرآباد جناب ظہیر الدین علی خان کے بھائی ہوتے تھے۔

اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ یہ واقعہ 10 اور 11بجے دن پیش آیا ہے۔دیگر اطلاعات میں کہاجارہا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ سہء میں پیش آیا ہے۔فائرنگ کی آواز سن کر جب وہاں موجود افراد کمرے میں پہنچے تو ڈاکٹرمظہر الدین علی خان خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے جنہیں فوری اپولو ہاسپٹل،جوبلی ہلز منتقل کیا گیا۔جہاں بعد معائنہ ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیا۔

اس سلسلہ میں ڈی سی پی حیدرآباد ویسٹ زون جوئل ڈیوز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ واقعہ آج پیر کی دوپہر اس وقت سامنے آیا جب ڈاکٹر مظہر الدین علی خان ہاسپٹل سے اور دیگر افراد کی جانب سے کیے جانے والے فون کالز کا کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔تو ان کے مکان میں موجود افراد نے کمرہ میں جاکر دیکھا تو ڈاکٹر مظہر الدین علی خان نے اپنی لائسنس یافتہ بندوق سے خود کو گولی مارلی تھی۔جنہیں ہاسپٹل منتقل کیا گیا تاہم اس وقت تک ان کی موت واقع ہوچکی تھی۔ڈی سی پی نے کہاکہ ابتدائی طور پر یہ خودکشی کا معاملہ نظر آتا ہے۔ان کے پاس ایک لائسنس یافتہ a.32 پستول تھی جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ تحقیقاتی ٹیم نے جائے مقام سے شواہد اکٹھا کیے ہیں جس سے پتہ چلاہے کہ بندوق سے صرف ایک راؤنڈ فائر کیا گیا۔

میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ جائداد اور گھریلو تنازعہ سے ڈپریشن کا شکار ڈاکٹر مظہر الدین علی خان نے یہ انتہائی اقدام کیا ہے۔! ایک اور اطلاع میں بتایا جارہا ہے کہ ان کی اہلیہ نے ان پر ایک فوجداری مقدمہ درج کروایا تھا۔!!

اس واقعہ کی اطلاع کے بعد بنجارہ ہلز پولیس ان کے مکان پر پہنچی اور نعش کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے عثمانیہ جنرل ہسپتال منتقل کیا۔ڈی سی پی حیدرآباد ویسٹ زون جوئل ڈیوز نے کہا کہ نعش کو بعد پنچامہ پوسٹ مارٹم کی غرض سے عثمانیہ ہاسپٹل منتقل کیا گیا اور ہاسپٹل انتظامیہ سے اپیل کی جائے گی کہ پوسٹ مارٹم کی ویڈیو گرافی کی جائے۔

ساتھ ہی ڈی سی پی حیدرآباد ویسٹ زون جوئل ڈیوز نے کہا کہ پولیس اس واقعہ کی تمام زاویوں سے تحقیقات میں مصروف ہے۔افراد خاندان اور وہاں موجود افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے بندوق کے ذریعہ خودکشی کرلی ہے۔ڈی سی پی حیدرآباد ویسٹ زون جوئل ڈیوز نے کہا کہ خودکشی کی وجوہات کے متعلق کچھ کہنا قبل ازقت ہوگا۔تحقیقات کے بعد ہی وجوہات کا پتہ چلے گا۔

تلنگانہ ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل ڈاکٹر مظہر الدین علی خان کے خلاف ان کی اہلیہ کی شکایت پر گھریلو تشدد کا ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔آرتھوپیڈک ڈاکٹر اپنے گھرسے الگ ملازمین کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/1288668511858870

 

 

https://www.facebook.com/AZADREPORTERABUAIMAL/videos/946209606385564