واٹس ایپ پر وائرل ندی میں ڈوبنے والے خاندان کی ویڈیوس اور تصاویر کا تعلق
تلنگانہ کے نرمل سے نہیں گجرات سے ہے،پانچ دن قبل ہوئے حادثہ میں پانچ کی ہوئی تھی موت
حیدرآباد :06۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام؍خصوصی رپورٹ)
واٹس ایپ پر چار تصاویر اور دو ویڈیوس کے ساتھ منسلک ایک آڈیو دو دن سے بالخصوص تلنگانہ کے اضلاع میں وائرل ہوا ہے اور مختلف گروپس میں ان تصاویر اور ویڈیوس کو فارورڈ کیا جارہا ہے۔
ندی میں پانی میں کھیلتے بچوں،خواتین اور پھر ان کے اسی پانی میں غرق ہورہے ان ویڈیوس اور تصاویر کے ساتھ جو آڈیو جوڑ دیا گیا ہے وہ کسی غیر ذمہ دارشخص کی کارستانی ہے کہ بلاء کسی تصدیق یا پھر جان بوجھ کر وہ اس آڈیو میں کہہ رہا ہے کہ…..
” واٹس ایپ پر گجرات واقعہ کے ویڈیو اور ان فوٹوس کے ساتھ وائرل کیا گیا آڈیو یہاں سنا جاسکتا ہے۔ ”
اس آڈیو کا متن :- ” سلام و علیکم بھائی،یہ پوری فیملی نرمل سے بلانگ کرتی ،یہ لوگ پورے کنٹلا واٹرفال گئے تھے کتے ،واٹر فال میں جاکر پانی میں غرق ہوگئے اور سارے کا انتقال ہوچکاہے، اور یہ مجھے واٹس ایپ پے آیا ہے، کون ہیں یہ نرمل میں ؟ کوئی جانتا ہے توپلیز اس کو شیئر کرے اور ان کے رشتہ داروں کو اطلاع دے"۔

نرمل ضلع چونکہ تلنگانہ میں موجود ہے تو ان ویڈیوس،فوٹوس اور ان سے منسلک کسی غیر ذمہ دارشخص کا آڈیو بناء کسی تصدیق کے دھڑا دھڑ واٹس ایپ پر شیئر/فارورڈ کیا جارہا ہے۔
قوم کا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی مواد کو شیئر یا فارورڈ کرنے سے قبل ایک منٹ کے لیے یہ نہیں سوچا جاتا کہ اتنا بڑا حادثہ ہوجانے پر کیا اس کی اطلاع علاقائی میڈیا کے ذریعہ ان تک پہنچی؟
پہلی بات تو یہ دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی چھوٹے یا بڑے حادثے کے بعد پولیس پہلے متاثرین کے افراد کے خاندان کا سراغ لگاکر ان کو اطلاع دیتی ہے۔
اس طرح ویڈیوس یا فوٹوس لے کر کوئی سوشل میڈیا پر شناخت کے لیے پوسٹ نہیں کرتا یہ سراسرکسی غیر ذمہ دار یا کوئی جاہل شخص ہی محض وقت گزاری کے لیے کسی ایک گروپ میں فارورڈ کردیتا ہے پھربناء سوچے سمجھے وہاں سے قوم اس کو پھیلانا باعث اجر سمجھتی ہے!!کب یہ حادثہ ہوا؟ کہاں ہوا؟ اس پر تک غور نہیں کیا جاتا!!
قوم کے زیادہ تر لوگوں کے ساتھ ایسے غیر مصدقہ مواد کو بس فارورڈ کردو ذمہ داری ختم والا معاملہ بن کر رہ گیاہے! جو کہ شرعی اور قانونی دونوں نقطہ نظر سے قابل گرفت ہے!!
اس سلسلہ میں سحرنیوزڈاٹ کام نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ حادثہ نہ کنٹلا واٹر فال میں پیش آیا ہے اور نہ غرق ہونے والوں کا تعلق نرمل سے ہے۔
اس سلسلہ میں نرمل ضلع کے ایک صحافی سے تصدیق طلب کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سراسر غلط پر مواد ہے جسے اضلاع نرمل اور عادل آباد سے جوڑکر واٹس ایپ پر وائرل کیا جارہا ہے۔
اس صحافی نے تصدیق کی کہ نرمل کی کسی بھی مسلم فیملی کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آیا ہے اور خود اس مواد کے واٹس ایپ پر وائرل ہونے سے نرمل ضلع کے مسلمان پریشان ہیں۔
کنٹلا واٹر فال بھی ریاست تلنگانہ کے عادل آباد ضلع میں موجود ہے۔اس سلسلہ میں جب عادل آباد کے ایک صحافی سے بات کی گئی تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مذکورہ مواد وائرل کیے جانے سے بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں دیگر زبانوں کے صحافیوں اور خود عادل آباد پولیس کے چند عہدیداروں سے ربط قائم کیا تو انہیں بتایا گیا کہ کنٹلا واٹر فال میں ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا ہے۔یاد رہے کہ کنٹلا واٹر فال کدم ندی پر نیرادی گنڈہ منڈل،عادل آباد ضلع میں موجود ہے۔

سحرنیوزڈاٹ کام نے اس حادثہ کے حقائق جاننے کی غرض سے وائرل ہونے والے ویڈیوس،فوٹوس اور حادثہ کے متعلق انٹرنیٹ پرتحقیق کی تو اس کی تفصیلات حاصل ہوئی ہیں۔
کئی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ حادثہ ریاست گجرات کے سورت میں منگل 31 اگست کی شام پیش آیا ہے۔دینک بھاسکر(ہندی) اور اے بی پی گجراتی پر دستیاب اطلاع پولیس کے مطابق موضع کم کوٹار،مہوا تحصیل کے حدود میں یہ حادثہ پیش آئے اس انتہائی افسوسناک واقعہ میں سورت (گجرات)کے لمبائیات کے رہائشی ایک ہی خاندان کے دس افراد جن میں مرد خواتین اور بچے شامل تھے ان میں ایک ماہ کا شادی شدہ جوڑا بھی شامل تھا عارف شاہ سلیم شاہ فقیر 36 سالہ اپنی والدہ ،بیوی ،چھوٹے بھائی اور دیگر افراد خاندان کے ساتھ کمکو ٹار موضع میں موجود زورآورپیر کی درگاہ کی زیارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔
درگاہ کی زیارت کے بعد یہ پورا خاندان قریب ہی موجود امبیکا ندی میں تفریح اور نہانے کی غرض سے اترا تھا کہ پانی کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سلیم شاہ فقیر جن کی ایک ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی ڈوب رہے تھے کہ قریب ہی موجود ان کی نوبیاہتا بیوی اور دیگر خواتین انہیں بچانے کی کوشش میں خود بھی ڈوب گئے۔
اسی متاثرہ خاندان کا ایک شخص جو کنارہ پر موجود تھا فوری ندی میں اتر کر بچوں کو محفوظ طریقہ سے ندی کے باہر لانے میں کامیاب ہوگیا۔
تاہم بدقسمتی سےسلیم شاہ کے ساتھ دیگر چار خواتین بھی ندی میں بہہ گئیں۔محکمہ فائر کے عہدیداروں کی تلاشی کے بعد دو نعشیں برآمد ہوئیں جو کہ سلیم شاہ کی ماں رخسانہ سلیم شاہ 55سالہ اور ان کی بیوی پروین بی جاوید شاہ کی تھیں۔
جبکہ دیگر تین کی نعشیں دستیاب نہیں ہوئیں جن میں سلیم شاہ کے چھوٹے بھائی عارف شاہ 22 سلیم شاہ اور دیگر دو رشتہ دار سمبی عارف شاہ،رخسار بی کی نعشوں کی تلاش کی جارہی ہے۔
بالخصوص تلنگانہ میں واٹس ایپ پر نرمل اور عادل آباد سے جوڑکر پھیلائے جارہے ویڈیوس ، فوٹوس اور اس نامعلوم غیر ذمہ دار شخص کے آڈیو کو وائرل نہ کرنا ہی سمجھداری اور ذمہ داری کا تقاضہ ہے۔
( گجرات واقعہ کی تفصیلات یکم ستمبر کی میڈیا اطلاعات ہیں)

