ایک نئی صبح آنے کو ہے

چیف ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد
فون:9395381226
کورونا بحران… ہر طرف سے آنے والی بھیانک خبروں… عزیز و اقارب میں ہونے والی یکے بعد دیگر اموات کی خبریں، جنہیں سن کر ہر لمحہ یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ جانے ہم خود کب خبر بن جائیں۔
خوف ودہشت کے اس ماحول میں مغربی بنگال کے انتخابی نتائج نے کسی حد تک قلب کو طمانیت بخشی ہے۔ ایسا لگا جیسا کسی نے رِستے ہوئے ناسور کو نشتر لگاکر اس پر مرہم لگادیا ہو۔
جس سے ایک ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا۔ جیسے نحوست، مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھٹنے لگے ہوں، ایک طویل شب دم توڑ رہی ہے۔ بھیانک اُفق کے اُس پار روشنی کی نئی کرنیں پھوٹنے لگی ہوں،امید سی جاگی ہے، کہ سویرا ہونے کو ہے۔
مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی کامیابی بی جے پی کی ہار دراصل مہان بھارت کی فتح عظیم ہے۔ممتابنرجی کوئی دودھ کی دھلی نہیں۔ ان کے 10سالہ اقتدار میں یقیناً مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے۔ مگر مسلمانوں سے نفرت نہیں کی گئی۔
اس خاتون نے جس بہادری کے ساتھ بی جے پی کے مہارتیوں کا مقابلہ کیا،اور جس طرح سے مغربی بنگال کے عوام کی اکثریت نے ان کا ساتھ دیا وہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کاایک سنہرہ باب ہے۔
تاریخ میں ممتابنرجی ہندوستان کی مایہ ناز بیٹی کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔جس نے اس ملک کے کردار اور اقدار کو برقرار رکھا۔ وہ ایک چٹان کی طرح ڈٹی رہیں، جس سے ہندوتوا کی لہریں ٹکراکر دم توڑ گئیں۔ 2مئی کو سب کی نظریں صرف بنگال پر مرکوز تھیں۔ اگرچہ نتائج 5ریاستوں کے آنیوالےتھے۔ مگر بنگال کا نتیجہ ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ تھا۔
بنگال کے عوام کا دل جتینے مودی نے خود کو رویندر ناتھ ٹائیگور کے روپ میں ڈھالا۔ داڑھی اور زلفیں بڑھائیں۔ امیت شاہ نے اپنا دماغ استعمال کیا۔ یوگی نے اپنی بدزبانی کی تمام حدیں پار کیں اور بنگال کے عوام نے ان سب کو ٹھینگا دکھایا۔
اس میں شک نہیں کہ بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ تین سے 75 ایم ایل ایز ہوگئے مگر دیدی سے کرسی کھینچ لینے کا جو عزم جو دعویٰ تھا وہ ایک لطیفہ بن گیا۔ بنگال ہمیشہ سے دوسری ریاستوں سے مختلف رہا ہے۔ یہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عوام پہلے ووٹ دیتے ہیں بعد میں آگے کا سوچتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 8 مراحل کا تھکا دینے والا سفر ملک کے دوسرے علاقوں میں کورونا بحران میں شدت کے باوجود رائے دہی کا تناسب 70% سے زائد رہا جو پورے ملک میں ریکارڈ ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پولنگ کا فیصد تناسب زیادہ ہو تو ہندوتوا طاقتوں کو فائدہ ہوتاہے۔بنگال میں ہندوتو ا طاقتوں کو نقصان ہوا۔
یہاں کے عوام اپنے گھروں سے نکلے صرف ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں‘ بلکہ اس عزم کے ساتھ کہ ان کا ہر ایک ووٹ ہندوستان کے سیکولر کردار، دیش کے سوداگروں سے بچانے کے لئے ہوگا۔ یہ واحد ریاست ہے جہاں کے مسلمان مرد و خواتین اپنے دستوری حق کا جوش و خروش کے ساتھ استقبال کرتے ہوئے نظر آئے۔
ورنہ دوسری ریاستوں میں ہر ایک الیکشن میں مسلم رائے دہی کا فیصد تناسب گھٹتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2014ء اور 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں مسلم اکثریتی علاقوں سے بھی غیر مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔اور مسلم ووٹ بنک کی اصطلاح بے معنی ہوچکی تھی۔
2021ء میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں مسلم ووٹ بنک بحال ہواہے۔ممتابنرجی کی انتخابی حکمت عملی کے ذمہ دار پرشانت کشور نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں نے ممتابنرجی کو کامیاب بنایا ہے۔مسلمانوں نے نہ صرف مسلم امیدواروں کو ووٹ دیا ہے بلکہ ٹی ایم سی کے غیر مسلم امیدواروں کے حق میں بھی اپنے دستوری حق کا استعمال کیا ہے۔
ایسا ہی آسام میں بھی ہوا جہاں اگرچہ بی جے پی کی حکومت دوبارہ آگئی ہے‘ مگر AIDUFاور کانگریس کے جو امیدوار کامیاب ہوئے۔ وہ مسلمانوں ہی کے ووٹوں ہی کی بدولت۔
کانگریس میں قیادت کا فقدان ہے۔سینئر قائدین کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ بات اپوزیشن کی ہے مگر بڑی حد تک سچ ہے کہ راہول گاندھی صرف خاندانی راج کررہے ہیں۔ورنہ ہندوستان جیسے ملک کی قیادت کے لئے ان میں وہ صلاحیتیں نظر نہیں آتیں‘ جس کی ضرورت ہے۔
نسل درنسل ایک جماعت مسلط ہے۔اور انہیں کب تک برداشت کیا جاسکتاہے۔جب صبر کے پیمانے لبریز ہوگئے‘ تو غلام نبی آزاد اور ان کے 22 ساتھیوں نے حق گوئی کے لئے لب کشائی کی۔ جسے بغاوت کا نام دیا گیا۔ کانگریس کی قیادت میں اگر فراخ دلی‘ دوسروں کو آگے بڑھنے دینے کا جذبہ ہوتاتو نہ کبھی وی پی سنگھ، نہ شردپوار پارٹی سے الگ ہوتے، اور نہ ہی ممتابنرجی ایک ایسی طاقت بن کر ابھرتی جس کے سامنے کانگریس کی کم از کم بنگال میں کوئی حیثیت نہیں۔
یہ سب قائدین کانگریس کی طاقت ہوتے۔سونیا، راہول اور پرینکا کے مثلث کے علاوہ کانگریس میں دوسرے قائدین ہیں جو ان تین قائدین سے کہیں زیادہ قابل ہیں‘ جو بی جے پی اور دوسری جماعتوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آسام میں بدرالدین اجمل کی جماعت سے کانگریس کو نقصان ہوا یا کانگریس سے بدرالدین اجمل کو اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آسام میں اُن علاقوں سے کانگریس کو ووٹ نہیں ملے جہاں سے امیدتھی۔کیوں کہ یہ پروپگنڈہ کیا گیا کہ اگر کانگریس اور اجمل کا اتحاد کامیاب ہوگیا تو پھر بدرالدین اجمل خاندان کے اثرات بڑھ جائیں گے۔
پروپگنڈہ قبول کرنے والے اس حقیقت کو فراموش کرگئے کہ یہ بدرالدین اجمل ہی کی پارٹی تھی جس نے این آرسی کے خلاف کامیاب جہدوجہد کی اسی کی کاوشوں سے یہ ثابت ہوا کہ جنہیں مشتبہ ووٹر اور غیر ملکی پناہ گزیں کہا جارہا تھا وہ تو اسی ریاست کے شہری ہیں۔ AIUDF کی جستجو سے یہ حقیقت منظر عام پر آئی کہ جن 19 لاکھ شہریوں کو مہاجرین قرار دیا گیاتھا وہ سب ہندو شہری ہیں۔
آسام کے نتائج چاہے کچھ ہوں‘ اس ریاست کے مسلمانوں نے AIUDF کے وقار اور اس کے اعتماد کی لاج رکھی۔ حکومت تشکیل نہیں دی جاسکی یقینااس میں بھی اللہ رب العزت کی حکمت ہے۔مگر یہاں بھی مسلم ووٹ بنک کی اہمیت مسلمہ ہوگئی ہے۔
ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے کو اقتدار کے لئے طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑا۔ اے آئی آڈی ایم کے جو بی جے پی کی حلیف ہے اسے عوام نے مسترد کردیا۔ کروناندھی کے سیاسی وارث اسٹائلن نے 10برس تک صبر و ہمت کے ساتھ ریاست میں سیاسی حالات کا مقابلہ کیا۔ اور پھر کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ یقینی طور پر وہ ایک کامیاب چیف منسٹر ثابت ہوں گے۔
کیرالا کے نتائج اس لحاظ سے اطمینان بخش ہیں کہ یہاں بھی بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں سرپٹخ کر رہ گئیں۔جو کمیونسٹ جماعتیں بنگال کے نقشے سے غائب ہوگئیں وہ یہاں پنپنے لگی ہیں۔ انڈین یونین مسل لیگ کے 15اور دوسری جماعتوں کے 16مسلم امیدواروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں بھی مسلم ووٹ بنک بحال ہوچکا ہے۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ اترپردیش ضمنی انتخابات کے نتائج نے بی جے پی کے زخموں پر خوب نمک چھڑکاہے۔ 3050 پنچایتی عہدوں میں سے بی جے پی صرف 580 پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی 782 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔بی جے پی کے مخالف 2470 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
بنگال، کیرالا، ٹاملناڈو، کے اسمبلی اور یوپی کے پنچایتی انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہندوستانی عوام اب جذباتی نعروں اور دعوؤں، مذہبی شذت پسندی کا شکار ہونے والے نہیں ہیں۔
انہیں وباؤں سے محفوظ ماحول کی ضرورت ہے۔ ہزاروں کروڑ کی لاگت سے مردہ لوگوں کے مجسموں کی نہیں بلکہ زندہ انسانوں کو بچانے کے لئے عصری سہولتوں آکسیجن سیلنڈرس اور ضروری ادویات، بیڈس، ICU یونٹس سے آراستہ ہاسپٹل کی ضرورت ہے۔ 2020 اور 2021ء میں جس طرح سے کورونا نے ہندوستان کے نظام صحت کی پول کھولی ہے، جس طرح سے سیاست دانوں کی خودغرضی، مفاد پرستی کا پردہ فاش کیا ہے اس سے سبھی قائدین عوام کی نظروں سے گرگئے ہیں۔
آغاز بنگال سے ہواہے‘ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں سارے ملک میں سارے ملک کے عوام اسی طرح سے اپنے شعور کا مظاہرہ کریں گے۔ بی جے پی کی ہار محض ہار نہیں ہے‘ یہ ان سب کے لئے درس عبرت ہے جو اقتدار کے نشے میں چور ہے۔ اپنی حیثیت بھلادیتے ہیں اور خود کو زمین کا خدا سمجھ لیتے ہیں۔
جن حالات سے ہندوستان کی دشمن جماعتیں اور ان کے قائدین اور کارکن گزر رہے ہیں، اس سے بھی سبق لینے کی ضرورت ہے۔جو مظلوم عوام پر ظلم ڈھاتے رہے آج بنگال میں پٹ رہے ہیں۔ دہلی اور مظفرنگر سے مظلومین کو ظالموں سے بچنے کے لئے نقل مقام کرنا پڑتاتھا، آج بنگال سے 80 ہزار ظالم دوسری ریاستوں کو فرارہوگئے۔
ممتابنرجی نے سچ ہی کہا ہے کہ مغربی بنگال میں تشدد کے وا قعات انہی علاقوں میں ہورہے ہیں جہاں سے بی جے پی کامیاب ہوئی ہے۔دہلی کے جعفرآباد میں پولیس کی آنکھوں کے سامنے فسادات، لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی، بنگال کے واقعات پر بی جے پی قائدین کے پیٹ میں مروڑ ہورہی ہے۔اور پھر گجرات جیسے نسل کشی کے واقعات کے ذمہ دار اگر چند ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔
چھوڑیئے ان باتوں کو! دیدی نے سب کی لاج رکھی، اور اب یو پی اے کی صدارت کا تاج ان کے سر پر رکھاجانے والا ہے۔ یقینا مودی اور شاہ کو مات دینے کی صلاحیت صرف دیدی ہی میں ہے!


