
تحریر: محمدنفیس خان ندوی
دار عرفات،تکیہ کلاں،رائے بریلی
کورونا وبا سے ہلاکتوں اور لاک ڈاؤن سے مشکلوں کا سلسلہ جاری ہے،نظام زندگی مفلوج ہے،پیٹ کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی، ضرورتوں نے لاچار وبے بس کردیا ہے، اگر یہ سلسلہ دراز ہوا تو جو لوگ ابھی ناؤ نوش کے محتاج ہیں کیا بعید کل وہ اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مجرم بھی نہ بن جائیں!
حالات کی نزاکت اور قدرتی آفت کے بیچ رمضان المبارک کا مہینہ بھی سایہ فگن ہے، رحمتوں کا سلسلہ جاری ہے، مغفرتوں کی نوید مسلسل قائم ہے، دو عشرے مکمل ہوئے، بس آخری عشرہ کے چند دن اور عید کی خوشیاں!
عید کا دن قریب آ پہنچا ہے اور عید کی خریداری کو لے کر متعدد ہدایات بھی سامنے آچکی ہیں، اپنی اپنی رائے اپنا اپنا نظریہ!
یاد رہے کہ عید کا تہوار ہمارا مذہبی تہوار ہے، اس کی مشروعیت رب العالمین کی جانب سے ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اس تہوار کو اسلامی رنگ و آہنگ کے ساتھ ہی منائیں گے.. انشاءاللہ
رہی بات عید کی خریداری کی تو چند پہلو قابل توجہ ہیں:
عید کی خریداری کی جائے، البتہ اسراف سے پوری طرح اجتناب کیا جائے۔
مثلاً آپ ہر سال پانچ ہزار کا سوٹ لیتے ہیں تو اس بار ایک ہزار یا اس سے کم کا ہی لے لیجیے۔
ہر بار آپ الوداع جمعہ کے لیے الگ، عید کے دن کے لیے الگ اور باسی عید کے لیے الگ الگ سوٹ سلواتے ہیں۔
اس مرتبہ صرف عید کے دن کے سوٹ پر اکتفا کیجیے۔ان غیر ضروری سامان جن کا تعلق نمائش اور فیشن سے ہے ان کی خریداری بالکل نہ کریں۔
البتہ خواتین کی وہ بنیادی چیزیں جن کی وہ عادی ہوچکی ہیں ان کی خریداری بقدر ضرورت کی جاسکتی ہے۔
آپ عید کا تہوار سادگی سے منائیں اور سادگی کو برقرار رکھنے کے لیے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے ان کی خریداری کیجیے لیکن خیال رہے کہ آپ جو کچھ خریدیں اس میں ان چھوٹے تاجروں کو ترجیح دیں جن کی دوکانیں آپ کے محلہ میں ہیں، یا بازار میں کم جاذب نظر ہیں یا جو فٹ پاتھ پر بساط لگاتے ہیں۔
اور ممکن ہو تو اس بار غیر ضروری بھاؤ تاؤ بھی نہ کریں ، بڑی بڑی دکانوں یا برانڈیڈ کمپنیوں کو اس مرتبہ ترجیح نہ دیجئے۔
آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ بہت سے چھوٹے دکانداروں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ان کا یہی پیشہ ہے جو اس لاک ڈاؤن میں بالکل معطل ہے، اور ان کا کاروبار آپ ہی پر منحصر ہے، اگر آپ نے مکمل بائیکاٹ کردیا تو ان کی پریشانیاں اور بھی بڑھ سکتی ہیں۔
کتنے مرد اورکتنی خواتین ایسی بھی ہیں جو اپنا گھر سلائی کی آمدنی سے ہی چلاتی ہیں
اگر آپ نے اس مرتبہ ان سے کپڑے نہیں سلوائے تو ان کا کیا حال ہوگا..؟!
اس لیے آپ ان کی بھی فکر کریںہمارے معاشرہ میں ایک متوسط طبقہ ایسا بھی ہے جو ٹھیلہ لگاتا ہے، فٹ پاتھ ہر بساط لگاتا ہے، سلائی بنائی کرتا ہے، محلہ محلہ اپنے سر پر کپڑوں کی گٹھری لیے پھرتا ہے۔
اس افتاد میں وہ نہ آپ سے مدد مانگ سکتا ہے اور نہ آپ اس کے تعاون کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ خوددار اور سب سے زیادہ پریشان حال یہی طبقہ ہے، ان کی خودداری کو ٹھیس پہنچائے بغیر ان کی مدد اسی طرح کی جاسکتی ہے کہ آپ ان سے کچھ خرید لیں۔
اللہ کے رسو لﷺ عید میں نیا لباس زیب تن فرماتے تھے، اگر اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو آپ بھی نئے کپڑے پہنئے
یاد رہے لباس کا نیا ہونا سنتؐ ہے مہنگا ہونا سنت نہیں ہے اور جس کی استطاعت نئے کپڑے سلوانے کی نہ ہو وہ اپنے سارے کپڑوں میں جو سب سے اچھاہو اس کو پہنے۔
انشاءاللہ اس سے بھی سنت ادا ہوجائے گی اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہماری خوداعتمادی قائم رہے،ہم اپنے گناہوں پر نادم ضرور ہیں لیکن ہم مایوس نہیں!ہم حالات سے گھبرا کر بھاگنے والے نہیں، ہم ہرحال میں اپنے رب کے احکام کےپابند ہیں، اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پورے ایمانی جوش کے ساتھ عید منائیں گے۔
اور اسراف جیسے گناہوں سے بچتے ہوئے پوری سادگی سے منائیں گے اور اس کوشش کے ساتھ کہ ہماری وجہ سے دوسرے گھروں میں بھی عید کی خوشیاں پہنچ سکیں۔
nafeesnadwi@gmail.com
