" گِدھ صحافت Vulture Journalism "
کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب معاملہ
چند صحافیوں کی شرمناک اور گھناؤنی حرکت!
کیمرہ کے ساتھ ایک کمسن طالبہ کا تعاقب،ویڈیو وائرل
بنگلورو:17۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست کرناٹک کے چند اضلاع میں حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے جی او G.O کے بعد سےتعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی جانب سےمسلم طالبات اورمسلم ٹیچرس کولبِ سڑک موجود اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر ہی حجاب اور برقعے اتارکر داخل ہونے کی سخت ہدایت دی جارہی ہے۔
ان کی جانب سے اسکول کے اندرونی احاطہ میں حجاب اور برقعہ نکال دینے کے تیقن کے بعد بھی انہیں اس کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔جس پر چند طالبات اور ٹیچرس بحالت مجبوری اپنے حجاب اور برقعے ان اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر اتار رہی ہیں۔

ایسے میں وہاں موجود چند تنگ نظر اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل چند نیوز چینلوں کےرپورٹرس ان مناظر کی ویڈیوز لے کر اپنے چینلوں پر دکھانے میں مصروف ہیں۔اور ایسے کئی اہانت آمیز ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی وائر ل کردئیے گئے ہیں۔چند ویڈیوز اتنے اہانت آمیز ہیں کہ وہاں موجود یہ تنگ نظرصحافی اور دیگر افراد کے قہقہے بھی ان ویڈیوز میں سنے جاسکتے ہیں۔
وہیں زیادہ ترمسلم طالبات اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر اپنا حجاب اور برقعہ اتار دینے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مکانات کو واپس ہورہی ہیں یا پھر وہاں احتجاج منظم کیا جارہا ہے۔
ایسے میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹائٹر پر ایک کنڑا نیوز چینل کا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس کی ہر طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔اس وائرل شدہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کمسن طالبہ جب اپنے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کرتی ہے تو وہاں موجود اس اسکول کے ٹیچرس اور دیگر اس طالبہ کو واپس بھیج دیتے ہیں۔
جب وہ معصوم لڑکی پلٹ کر وہاں موجود کیمروں سے بچنے کی غرض سے بھاگنے لگتی ہے تو ایک "رپورٹر” کیمرہ لے کر اس کمسن لڑکی کا بری طرح تعاقب کرتا ہے کہ جیسے وہ لڑکی اس کی نظر میں ایک مجرم ہو!! تاکہ وہ اس خوفزدہ بھاگ رہی لڑکی کے چہرہ کی ویڈیو یا ٖفوٹوز لے سکے!!
ٹوئٹر پر” فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews#"کے معاون فاؤنڈرمحمد زبیر Mohammed Zubair@ کی جانب سے”دیکھیں کہ کس طرح کرناٹک میں ایک "رپورٹر” کے ذریعہ حجاب والی ایک اسکولی بچی کا پیچھا کیا جارہا ہے”کے کیاپشن کے ساتھ پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں اس رپورٹر کی اس صحافت جیسے پیشہ کی تذلیل کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔
اسی طرح ٹوئٹر پر ہی Naanu Gauri@ نے بھی ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”شیموگہ کے ایس ایس ایل ایل سی کالج” میں کس طرح ایک حجاب پہنی طالبہ کو رپورٹرس بات کرنے کے لیے زبردستی کررہے ہیں جبکہ وہ طالبہ ان سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی”۔
وہیں کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ کے متعلق چند صحافیوں کی ان شرمناک اور گھناؤنی حرکتوں کے خلاف گزشتہ رات ٹوئٹر پر باقاعدہ ٹوئٹر صارفین نے Vulturejournalism# " گِدھ صحافت” کے ہیش ٹیگ کے ذریعہ ایک ٹرینڈ چلاتے ہوئے مذمت کی گئی۔اس ہیش ٹیگ کے ساتھ 50،000 ٹوئٹ کیے گئے۔

ٹوئٹر پر جاری اس Vulturejournalism# ہیش ٹیگ ٹرینڈ کے دؤران ان تصاویر کو بھی پوسٹ کیا جارہا ہے۔جس میں چند صحافتی قواعد اور اُصولوں سے ناواقف اور مسلم دشمنی کے نشہ میں غرق صحافیوں کی جانب سے انجام دی گئیں مذموم حرکتوں کی عکاس ہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ 24 ستمبر 2021 کو آسام میں ایک مسلم شخص کو پولیس کی جانب سے گولی مارے جانے کے بعد پولیس کے ساتھ موجود ایک فوٹو گرافر نے اس مسلم شخص کی نعش پر جوتوں سمیت کئی مرتبہ اچھل کود کرتے ہوئے نعش کی بے حرمتی کی تھی۔اس واقعہ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اس پر وائرل ہوا تھا اور دنیا بھر میں اس کی شدید مذمت کی گئی تھی۔
” اس لرزہ خیز واقعہ کی تصاویر اور مکمل تفصیلات سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں”
اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد اداکارہ ریہا چکرورتی کے میڈیا ٹرائل اور ان کی گرفتاری کے موقع پرمختلف اہانت آمیز سوالات کے ساتھ”گِدھوں” کی طرح ان پر ٹوٹ پڑنے والے رپورٹرس کی تصاویر بھی اس ٹرینڈ کے دؤران ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئیں۔
سوشل میڈیا پر کرناٹک کی دو برقعہ پوش مسلم طالبات کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جس میں وہ دکھنی اور عام زبان میں بتارہی ہیں کہ کیسے کالج کے باہر جب وہ لنچ کررہی تھیں تو چند رپورٹرس نے ان کے کھانے کی فوٹوز اور ویڈیوز لے کر چینلوں پر دکھایا اور چند ایک مقامی اخباروں نے "بریانی پارٹی” کی سرخی کے ساتھ چھاپ دیا۔
جس کے ذریعہ اس جھوٹ کو عام کیا گیا کہ یہ لڑکیاں احتجاج کے نام پر تفریح کرتے ہوئے”بریانی” کھارہی ہیں!جبکہ ان طالبات کا کہنا ہے کہ وہ بریانی نہیں تھی بلکہ "پلاؤ” تھا۔یہ ہیں ان چند مکروہ ذہن رپورٹرس کی حرکتیں جن سے حساس اور ایماندار صحافیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں!! جن کا کام صرف جھوٹ کے ذریعہ نفرت پھیلانا اور عوام کے درمیان کھائی کو گہری کرنا!!

