Skip to content
17/01/2026
Saher News

Saher News

نیوز پورٹل

  • سر ورق
  • بین الاقوامی
  • قومی
  • ریاستی
  • فلمی صفحہ
  • طبی نسخے
  • سوشل میڈیا وائرل
  • مضامین و رپورٹس
  • ہمارے بارے میں
Main Menu
قومی خبریں / یہاں وہاں سے

گِدھ صحافت Vulture Journalism، کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب معاملہ میں چند صحافیوں کی شرمناک اور گھناؤنی حرکت

17/02/202217/02/2022 - by سحر نیوز

" گِدھ صحافت Vulture Journalism "
کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب معاملہ
چند صحافیوں کی شرمناک اور گھناؤنی حرکت!
کیمرہ کے ساتھ ایک کمسن طالبہ کا تعاقب،ویڈیو وائرل

بنگلورو:17۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ریاست کرناٹک کے چند اضلاع میں حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے جی او G.O کے بعد سےتعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی جانب سےمسلم طالبات اورمسلم ٹیچرس کولبِ سڑک موجود اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر ہی حجاب اور برقعے اتارکر داخل ہونے کی سخت ہدایت دی جارہی ہے۔

ان کی جانب سے اسکول کے اندرونی احاطہ میں حجاب اور برقعہ نکال دینے کے تیقن کے بعد بھی انہیں اس کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔جس پر چند طالبات اور ٹیچرس بحالت مجبوری اپنے حجاب اور برقعے ان اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر اتار رہی ہیں۔

ایسے میں وہاں موجود چند تنگ نظر اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل چند نیوز چینلوں کےرپورٹرس ان مناظر کی ویڈیوز لے کر اپنے چینلوں پر دکھانے میں مصروف ہیں۔اور ایسے کئی اہانت آمیز ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی وائر ل کردئیے گئے ہیں۔چند ویڈیوز اتنے اہانت آمیز ہیں کہ وہاں موجود یہ تنگ نظرصحافی اور دیگر افراد کے قہقہے بھی ان ویڈیوز میں سنے جاسکتے ہیں۔

وہیں زیادہ ترمسلم طالبات اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر اپنا حجاب اور برقعہ اتار دینے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مکانات کو واپس ہورہی ہیں یا پھر وہاں احتجاج منظم کیا جارہا ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹائٹر پر ایک کنڑا نیوز چینل کا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس کی ہر طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔اس وائرل شدہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کمسن طالبہ جب اپنے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کرتی ہے تو وہاں موجود اس اسکول کے ٹیچرس اور دیگر اس طالبہ کو واپس بھیج دیتے ہیں۔

جب وہ معصوم لڑکی پلٹ کر وہاں موجود کیمروں سے بچنے کی غرض سے بھاگنے لگتی ہے تو ایک "رپورٹر” کیمرہ لے کر اس کمسن لڑکی کا بری طرح تعاقب کرتا ہے کہ جیسے وہ لڑکی اس کی نظر میں ایک مجرم ہو!! تاکہ وہ اس خوفزدہ بھاگ رہی لڑکی کے چہرہ کی ویڈیو یا ٖفوٹوز لے سکے!! 

See how a School kid with Hijab is being followed/Chased by a "REPORTER" in Karnataka. 🤢#KarnatakaHijabRow pic.twitter.com/DSNDxXRcJW

— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 15, 2022

ٹوئٹر پر” فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews#"کے معاون فاؤنڈرمحمد زبیر Mohammed Zubair@ کی جانب سے”دیکھیں کہ کس طرح کرناٹک میں ایک "رپورٹر” کے ذریعہ حجاب والی ایک اسکولی بچی کا پیچھا کیا جارہا ہے”کے کیاپشن کے ساتھ پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں اس رپورٹر کی اس صحافت جیسے پیشہ کی تذلیل کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

اسی طرح ٹوئٹر پر ہی Naanu Gauri@ نے بھی ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”شیموگہ کے ایس ایس ایل ایل سی کالج” میں کس طرح ایک حجاب پہنی طالبہ کو رپورٹرس بات کرنے کے لیے زبردستی کررہے ہیں جبکہ وہ طالبہ ان سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی”۔

Shivamogga: SSLC ಬಾಲಕಿ ತನಗೆ ಮಾತನಾಡಲು ಇಷ್ಟವಿಲ್ಲ ಎಂದರೂ ಬಿಡದೇ ಕಾಡುತ್ತಿರುವ @tv9kannada, @AsianetNewsSN, @publictvnews, @NewsFirstKan ಪತ್ರಕರ್ತರು. @UNICEF Plz do watch here. Thise is Karnataka! @zoo_bear @RanaAyyub @ravishndtv pic.twitter.com/wCEbHi1sO4

— Naanu Gauri (@naanugauri) February 16, 2022

وہیں کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ کے متعلق چند صحافیوں کی ان شرمناک اور گھناؤنی حرکتوں کے خلاف گزشتہ رات ٹوئٹر پر باقاعدہ ٹوئٹر صارفین نے Vulturejournalism# " گِدھ صحافت” کے ہیش ٹیگ کے ذریعہ ایک ٹرینڈ چلاتے ہوئے مذمت کی گئی۔اس ہیش ٹیگ کے ساتھ 50،000 ٹوئٹ کیے گئے۔  

No words are needed to explain…!!!#vulturejournalism#HijabIsOurPride #HijabisOurRight pic.twitter.com/6N3t6wSgLy

— Adv Athavulla punjalkatte (@Adv_Athavulla) February 16, 2022

ٹوئٹر پر جاری اس Vulturejournalism# ہیش ٹیگ ٹرینڈ کے دؤران ان تصاویر کو بھی پوسٹ کیا جارہا ہے۔جس میں چند صحافتی قواعد اور اُصولوں سے ناواقف اور مسلم دشمنی کے نشہ میں غرق صحافیوں کی جانب سے انجام دی گئیں مذموم حرکتوں کی عکاس ہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ 24 ستمبر 2021 کو آسام میں ایک مسلم شخص کو پولیس کی جانب سے گولی مارے جانے کے بعد پولیس کے ساتھ موجود ایک فوٹو گرافر نے اس مسلم شخص کی نعش پر جوتوں سمیت کئی مرتبہ اچھل کود کرتے ہوئے نعش کی بے حرمتی کی تھی۔اس واقعہ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اس پر وائرل ہوا تھا اور دنیا بھر میں اس کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

” اس لرزہ خیز واقعہ کی تصاویر اور مکمل تفصیلات سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں”

https://sahernews.com/assam-photographer-seen-in-video-desecrating-body-of-protestor-moin-ul-haq-killed-in-police-firing-arrested/8862/

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد اداکارہ ریہا چکرورتی کے میڈیا ٹرائل اور ان کی گرفتاری کے موقع پرمختلف اہانت آمیز سوالات کے ساتھ”گِدھوں” کی طرح ان پر ٹوٹ پڑنے والے رپورٹرس کی تصاویر بھی اس ٹرینڈ کے دؤران ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئیں۔

سوشل میڈیا پر کرناٹک کی دو برقعہ پوش مسلم طالبات کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جس میں وہ دکھنی اور عام زبان میں بتارہی ہیں کہ کیسے کالج کے باہر جب وہ لنچ کررہی تھیں تو چند رپورٹرس نے ان کے کھانے کی فوٹوز اور ویڈیوز لے کر چینلوں پر دکھایا اور چند ایک مقامی اخباروں نے "بریانی پارٹی” کی سرخی کے ساتھ چھاپ دیا۔

جس کے ذریعہ اس جھوٹ کو عام کیا گیا کہ یہ لڑکیاں احتجاج کے نام پر تفریح کرتے ہوئے”بریانی” کھارہی ہیں!جبکہ ان طالبات کا کہنا ہے کہ وہ بریانی نہیں تھی بلکہ "پلاؤ” تھا۔یہ ہیں ان چند مکروہ ذہن رپورٹرس کی حرکتیں جن سے حساس اور ایماندار صحافیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں!! جن کا کام صرف جھوٹ کے ذریعہ نفرت پھیلانا اور عوام کے درمیان کھائی کو گہری کرنا!!  

Such sweet spoken Daccani Urdu of Mangalorean dialect. May Allah bless & protect our sister’s & daughters.#AllahuAkbar #Hijab #Udupi
pic.twitter.com/TX6SPGOjTy

— Sam Khan (@SamKhan999) February 16, 2022

 

Share this post:
Tagged#karnatakahijabrow-how-a-School-kid-with-Hijab-is-being-Chased-by-a-reporter-vulture-journalism-twitter-trend-watch-videos-

Related Posts

کشمیر: پہلگام کے کیاب ڈرائیور نے ایمانداری اور دیانتداری کی مثال قائم کی، خاتون سیاح کاقیمتی بیاگ حوالے کیا،جذباتی ویڈیو وائرل

07/01/202607/01/2026

مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے کبھی نہیں کہا کہ امید پورٹل کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے : مرکزی وزارت اقلیتی امور کی وضاحت

05/12/202505/12/2025

ڈاکٹر نصرت مہدی کو ابوظہبی میں بین الاقوامی اعزاز ” سفیر اردو ” سے نوازا گیا

28/11/202528/11/2025

پوسٹوں کی نیویگیشن

Previous Article طلبہ کے داداؤں نے کیوں پاکستان نہ جانے اور ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیا: بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی
Next Article ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تانڈور میں پانچ سرکاری قاضیوں کا تقرر

About سحر نیوز

View all posts by سحر نیوز →

تازہ خبریں

  • وقارآباد ضلع کی چار بلدیات وقارآباد، تانڈور، پرگی اور کوڑنگل کی فائنل ووٹر لسٹ جاری
  • کشمیر: پہلگام کے کیاب ڈرائیور نے ایمانداری اور دیانتداری کی مثال قائم کی، خاتون سیاح کاقیمتی بیاگ حوالے کیا،جذباتی ویڈیو وائرل
  • تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کو سنکرانتی کی تعطیلات کا اعلان
  • فیمینیزم یا نسائیّت مخصوص عقیدہ و رویہ کا نام، عطیہ فاطمہ کی تصنیف” عصمت چغتائی کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی حسیّت ” کا اجراء
  • بلدیہ تانڈور کی جانب سے ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری، 36 بلدی حلقہ جات میں جملہ 77,110 رائے دہندے موجود
  • نوجوان پر قاتلانہ حملہ، مداخلت کرنے والے نور احمد قریشی جاں بحق، فرزند زخمی، 6 گرفتار، ڈی آئی جی کا دؤرہ تانڈور
  • وقارآباد ضلع میں جاریہ سال جرائم میں معمولی اضافہ، ضلع ایس پی سنیہا مہرہ نے سالانہ رپورٹ پیش کی
  • تلنگانہ شدید سردی کی لپیٹ میں، سردی کی شدت میں مزید اضافہ کا انتباہ ، 32 اضلاع کے لیے ایلو الرٹ جاری
  • تلنگانہ پنچایت الیکشن : دؤلت آباد منڈل میں ڈیوٹی پر غیر حاضر 14 پریسائیڈنگ آفیسر معطل، ضلع الیکشن آفیسر کے احکام جاری
  • مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے کبھی نہیں کہا کہ امید پورٹل کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے : مرکزی وزارت اقلیتی امور کی وضاحت
Copyright © 2026 Saher News.
Powered by WordPress and HitMag.