Skip to content
14/04/2026
Saher News

Saher News

نیوز پورٹل

  • سر ورق
  • بین الاقوامی
  • قومی
  • ریاستی
  • فلمی صفحہ
  • طبی نسخے
  • سوشل میڈیا وائرل
  • مضامین و رپورٹس
  • ہمارے بارے میں
Main Menu
قومی خبریں / یہاں وہاں سے

گِدھ صحافت Vulture Journalism، کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب معاملہ میں چند صحافیوں کی شرمناک اور گھناؤنی حرکت

17/02/202217/02/2022 - by سحر نیوز

" گِدھ صحافت Vulture Journalism "
کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب معاملہ
چند صحافیوں کی شرمناک اور گھناؤنی حرکت!
کیمرہ کے ساتھ ایک کمسن طالبہ کا تعاقب،ویڈیو وائرل

بنگلورو:17۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ریاست کرناٹک کے چند اضلاع میں حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے جی او G.O کے بعد سےتعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی جانب سےمسلم طالبات اورمسلم ٹیچرس کولبِ سڑک موجود اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر ہی حجاب اور برقعے اتارکر داخل ہونے کی سخت ہدایت دی جارہی ہے۔

ان کی جانب سے اسکول کے اندرونی احاطہ میں حجاب اور برقعہ نکال دینے کے تیقن کے بعد بھی انہیں اس کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔جس پر چند طالبات اور ٹیچرس بحالت مجبوری اپنے حجاب اور برقعے ان اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر اتار رہی ہیں۔

ایسے میں وہاں موجود چند تنگ نظر اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل چند نیوز چینلوں کےرپورٹرس ان مناظر کی ویڈیوز لے کر اپنے چینلوں پر دکھانے میں مصروف ہیں۔اور ایسے کئی اہانت آمیز ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی وائر ل کردئیے گئے ہیں۔چند ویڈیوز اتنے اہانت آمیز ہیں کہ وہاں موجود یہ تنگ نظرصحافی اور دیگر افراد کے قہقہے بھی ان ویڈیوز میں سنے جاسکتے ہیں۔

وہیں زیادہ ترمسلم طالبات اسکولوں اور کالجوں کے گیٹ پر اپنا حجاب اور برقعہ اتار دینے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مکانات کو واپس ہورہی ہیں یا پھر وہاں احتجاج منظم کیا جارہا ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹائٹر پر ایک کنڑا نیوز چینل کا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس کی ہر طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔اس وائرل شدہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کمسن طالبہ جب اپنے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کرتی ہے تو وہاں موجود اس اسکول کے ٹیچرس اور دیگر اس طالبہ کو واپس بھیج دیتے ہیں۔

جب وہ معصوم لڑکی پلٹ کر وہاں موجود کیمروں سے بچنے کی غرض سے بھاگنے لگتی ہے تو ایک "رپورٹر” کیمرہ لے کر اس کمسن لڑکی کا بری طرح تعاقب کرتا ہے کہ جیسے وہ لڑکی اس کی نظر میں ایک مجرم ہو!! تاکہ وہ اس خوفزدہ بھاگ رہی لڑکی کے چہرہ کی ویڈیو یا ٖفوٹوز لے سکے!! 

See how a School kid with Hijab is being followed/Chased by a "REPORTER" in Karnataka. 🤢#KarnatakaHijabRow pic.twitter.com/DSNDxXRcJW

— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 15, 2022

ٹوئٹر پر” فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews#"کے معاون فاؤنڈرمحمد زبیر Mohammed Zubair@ کی جانب سے”دیکھیں کہ کس طرح کرناٹک میں ایک "رپورٹر” کے ذریعہ حجاب والی ایک اسکولی بچی کا پیچھا کیا جارہا ہے”کے کیاپشن کے ساتھ پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں اس رپورٹر کی اس صحافت جیسے پیشہ کی تذلیل کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

اسی طرح ٹوئٹر پر ہی Naanu Gauri@ نے بھی ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”شیموگہ کے ایس ایس ایل ایل سی کالج” میں کس طرح ایک حجاب پہنی طالبہ کو رپورٹرس بات کرنے کے لیے زبردستی کررہے ہیں جبکہ وہ طالبہ ان سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی”۔

Shivamogga: SSLC ಬಾಲಕಿ ತನಗೆ ಮಾತನಾಡಲು ಇಷ್ಟವಿಲ್ಲ ಎಂದರೂ ಬಿಡದೇ ಕಾಡುತ್ತಿರುವ @tv9kannada, @AsianetNewsSN, @publictvnews, @NewsFirstKan ಪತ್ರಕರ್ತರು. @UNICEF Plz do watch here. Thise is Karnataka! @zoo_bear @RanaAyyub @ravishndtv pic.twitter.com/wCEbHi1sO4

— Naanu Gauri (@naanugauri) February 16, 2022

وہیں کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ کے متعلق چند صحافیوں کی ان شرمناک اور گھناؤنی حرکتوں کے خلاف گزشتہ رات ٹوئٹر پر باقاعدہ ٹوئٹر صارفین نے Vulturejournalism# " گِدھ صحافت” کے ہیش ٹیگ کے ذریعہ ایک ٹرینڈ چلاتے ہوئے مذمت کی گئی۔اس ہیش ٹیگ کے ساتھ 50،000 ٹوئٹ کیے گئے۔  

No words are needed to explain…!!!#vulturejournalism#HijabIsOurPride #HijabisOurRight pic.twitter.com/6N3t6wSgLy

— Adv Athavulla punjalkatte (@Adv_Athavulla) February 16, 2022

ٹوئٹر پر جاری اس Vulturejournalism# ہیش ٹیگ ٹرینڈ کے دؤران ان تصاویر کو بھی پوسٹ کیا جارہا ہے۔جس میں چند صحافتی قواعد اور اُصولوں سے ناواقف اور مسلم دشمنی کے نشہ میں غرق صحافیوں کی جانب سے انجام دی گئیں مذموم حرکتوں کی عکاس ہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ 24 ستمبر 2021 کو آسام میں ایک مسلم شخص کو پولیس کی جانب سے گولی مارے جانے کے بعد پولیس کے ساتھ موجود ایک فوٹو گرافر نے اس مسلم شخص کی نعش پر جوتوں سمیت کئی مرتبہ اچھل کود کرتے ہوئے نعش کی بے حرمتی کی تھی۔اس واقعہ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اس پر وائرل ہوا تھا اور دنیا بھر میں اس کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

” اس لرزہ خیز واقعہ کی تصاویر اور مکمل تفصیلات سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں”

https://sahernews.com/assam-photographer-seen-in-video-desecrating-body-of-protestor-moin-ul-haq-killed-in-police-firing-arrested/8862/

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد اداکارہ ریہا چکرورتی کے میڈیا ٹرائل اور ان کی گرفتاری کے موقع پرمختلف اہانت آمیز سوالات کے ساتھ”گِدھوں” کی طرح ان پر ٹوٹ پڑنے والے رپورٹرس کی تصاویر بھی اس ٹرینڈ کے دؤران ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئیں۔

سوشل میڈیا پر کرناٹک کی دو برقعہ پوش مسلم طالبات کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جس میں وہ دکھنی اور عام زبان میں بتارہی ہیں کہ کیسے کالج کے باہر جب وہ لنچ کررہی تھیں تو چند رپورٹرس نے ان کے کھانے کی فوٹوز اور ویڈیوز لے کر چینلوں پر دکھایا اور چند ایک مقامی اخباروں نے "بریانی پارٹی” کی سرخی کے ساتھ چھاپ دیا۔

جس کے ذریعہ اس جھوٹ کو عام کیا گیا کہ یہ لڑکیاں احتجاج کے نام پر تفریح کرتے ہوئے”بریانی” کھارہی ہیں!جبکہ ان طالبات کا کہنا ہے کہ وہ بریانی نہیں تھی بلکہ "پلاؤ” تھا۔یہ ہیں ان چند مکروہ ذہن رپورٹرس کی حرکتیں جن سے حساس اور ایماندار صحافیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں!! جن کا کام صرف جھوٹ کے ذریعہ نفرت پھیلانا اور عوام کے درمیان کھائی کو گہری کرنا!!  

Such sweet spoken Daccani Urdu of Mangalorean dialect. May Allah bless & protect our sister’s & daughters.#AllahuAkbar #Hijab #Udupi
pic.twitter.com/TX6SPGOjTy

— Sam Khan (@SamKhan999) February 16, 2022

 

Share this post:
Tagged#karnatakahijabrow-how-a-School-kid-with-Hijab-is-being-Chased-by-a-reporter-vulture-journalism-twitter-trend-watch-videos-

Related Posts

نیپال میں منعقدہ شوٹنگ بال مقابلہ میں تانڈور کے محمد معز نے گولڈ میڈل حاصل کیا

09/04/202609/04/2026

تانڈور کے محمد معز نیپال میں منعقدہ شوٹنگ بال مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرینگے

05/04/202605/04/2026

تلنگانہ حکومت نے نفرت انگیز، اشتعال انگیز تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹس کی روک تھام کے لیے بِل کو منظوری دے دی، پیرنٹس بِل بھی منظور

24/03/202624/03/2026

پوسٹوں کی نیویگیشن

Previous Article طلبہ کے داداؤں نے کیوں پاکستان نہ جانے اور ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیا: بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی
Next Article ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تانڈور میں پانچ سرکاری قاضیوں کا تقرر

About سحر نیوز

View all posts by سحر نیوز →

تازہ خبریں

  • تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات کے نتائج کی تاریخ کا اعلان!
  • مینارٹی طبقہ کے نوجوانوں کے لیے بیرون ممالک ملازمتوں کے بہترین مواقع، استفادہ کرنے مینارٹی ویلفیئر آفیسر وقارآباد ضلع راجیشوری
  • نیپال میں منعقدہ شوٹنگ بال مقابلہ میں تانڈور کے محمد معز نے گولڈ میڈل حاصل کیا
  • تانڈور کے محمد معز نیپال میں منعقدہ شوٹنگ بال مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرینگے
  • تلنگانہ کے وزیر معدنیات وویک وینکٹ سوامی سے تانڈور اسٹون مرچنٹس اور کواری اونرس اسوسی ایشن کے عہدیداروں کی نمائندگی
  • تلنگانہ حکومت نے نفرت انگیز، اشتعال انگیز تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹس کی روک تھام کے لیے بِل کو منظوری دے دی، پیرنٹس بِل بھی منظور
  • مرکزی وزیر سیاحت و معدنیات جی۔کشن ریڈی سے تانڈور اسٹون مرچنٹس اور کواری اونرس کے عہدیداروں کی ملاقات
  • حیدرآباد : معین آباد کے فارم ہاؤز پر ایگل ٹیم اور ایس او ٹی کا دھاوہ، منشیات ضبط!، سابق رکن اسمبلی اور ایم پی پولیس تحویل میں!!
  • تلنگانہ میں پکوان گیس کی کوئی قلت نہیں، سوشل میڈیا کے پروپگنڈہ سے عوام پریشان نہ ہوں : وزیر سول سپلائز اُتم کمار ریڈی
  • تلنگانہ میں موسم گرما کے پیش نظر 15 مارچ سے نصف دن کا اسکول، 24 اپریل سے 12 جون تک گرمائی تعطیلات
Copyright © 2026 Saher News.
Powered by WordPress and HitMag.
Designed by Haysky.com