ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تانڈور میں پانچ سرکاری قاضیوں کا تقرر

ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تانڈور میں پانچ سرکاری قاضیوں کا تقرر
رکن پارلیمان چیوڑلہ اور رکن اسمبلی تانڈور کے ہاتھوں کاغذات نامزدگی حوالے

وقارآباد/تانڈور: 17۔فروری (سحرنیوز ڈاٹ کام))

محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ کی جانب سے تانڈور میں قضاءت سے متعلق امور اور مسلمانوں کی آبادی کے پیش نظر قاضی ایکٹ 1880 کی دفعہ نمبر 12 کے تحت وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن کے بلدی حدود میں امور نکاح وعقود کی انجام دہی کی غرض سے تانڈور کے پانچ علماکرام کا سرکاری قاضیوں کے طور پر تقررعمل میں لایا گیا ہے۔تقرری کے بعد سے ہی ان قاضیوں کی خدمات کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔

ان میں قاضی مولانا حافظ سیدسلیمان ہاشمی و قاسمی،قاضی مولانا مفتی حسین احمد مظاہری،قاضی مولانا محمد عامر نورخان نظامی،قاضی مولانا محمدشکیل احمد عمری اور قاضی مولوی حافظ محمد رحمت علی فیضی شامل ہیں۔

ان پانچوں مقررہ سرکاری قاضیوں کے مطابق انہیں اپنے ماتحت دو، دو نائب قاضیوں کے تقررات کے اختیارات بھی دئیے گئے ہیں۔ اس طرح اب تانڈور میں جملہ دس قاضی صاحبان کی خدمات حاصل رہیں گی۔

اس سلسلہ میں رکن پارلیمان حلقہ چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی اور رکن اسمبلی تانڈورپائلٹ روہت ریڈی نے کاغذات نامزدگی ان پانچوں قاضی حضرات کے حوالے کئے۔اس موقع پر صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین تانڈور عبدالہادی شہری اور صدر ٹاؤن ٹی آر ایس ایم اے نعیم افو بھی موجود تھے۔

نونامزد قاضی مولانا حافظ سید سلیمان ہاشمی و قاسمی،قاضی مولانا مفتی حسین احمد مظاہری،قاضی مولانامحمد عامر نورخان نظامی، قاضی مولانامحمد شکیل احمد عمری اور قاضی مولوی حافظ محمد رحمت علی فیضی نے مسلمانان تانڈور ٹاؤن سے خواہش کی ہے کہ ان کے پاس طئے پانے والے نکاح وعقد کے اطلاع نامہ،یا رقعہ جات،آدھار کارڈ کی زیراکس کے ساتھ ایک ہفتہ قبل مذکورہ بالا سرکاری قاضیوں یا ان کے نائبین سے رجوع ہوں تاکہ نکاح کے امور باآسانی و حسب سہولت انجام دئیے جاسکیں۔