کرناٹک حجاب تنازعہ: حجاب اتارنے سے انکار،لیکچرار نے استعفیٰ دے دیا،غیرمسلم طالبات کو بندی،ٹیکہ نہ لگانے کی ہدایت

کرناٹک حجاب تنازعہ، طالبات کا احتجاج جاری
حجاب اُتارنے سے انکار،لیکچرار نے استعفیٰ دے دیا
سرکاری کالج میں غیرمسلم طالبات کو بندی،ٹیکہ نہ لگانے کی ہدایت
حکومت مسلم لڑکیوں کوتعلیم سے محروم رکھنا چاہتی ہے: سابق چیف منسٹر سدرامیا
بنگلورو: 18۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
حکومت کرناٹک کی جانب سے 5 فروری کو جاری کردہ جی او کے تحت ریاست کےتعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے نفاذ کے بعد سےمسلم طالبات سمیت مسلم ٹیچرس کو بھی حجاب/برقعہ نہ پہننے کی ہدایت پر دِلبرداشتہ ایک مسلم خاتون لیکچرار نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔جبکہ آج بھی کرناٹک کے کئی تعلیمی اداروں کے باہر حجاب معاملہ پرمسلم لڑکیوں اور ان کے سرپرستوں نے احتجاج منظم کیا اور کئی طالبات حجاب اتارنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مکانات کو واپس لؤٹ گئیں۔
وہیں ایک کالج کےمسلم لڑکوں نےمسلم لڑکیوں کے ساتھ حجاب معاملہ میں جاری اس مہم کی مخالفت کرتے ہوئے کالج کا بائیکاٹ کیا۔وہیں ایک گورنمنٹ کالج میں انتظامیہ کی جانب سے غیر مسلم طالبات کواپنی پیشانیوں پر بندی،ٹیکہ اور کم کم Kum Kum لگاکر کالج نہ آنے کی ہدایت دئیے جانے کے بعد چند ساتھی طلبا نے پرنسپل سے بحث و تکرار کی کہ کس طرح ان لڑکیوں کو ان کے کلچر سے روکا جاسکتا ہے؟
تفصیلات کے مطابق ٹمکور کے جین پی یو کالج کی ایک مسلم لیکچرار محترمہ چاندنی نے جو کہ انگریزی مضمون پڑھاتی تھیں نے کالج انتظامیہ کو اپنا مکتوب استعفی روانہ کردیا ہے۔انہوں نے اپنے اس مکتوب استعفیٰ میں لکھا ہے کہ وہ گزشتہ تین سال سے اس کالج میں برقعہ پہن کر ہی طلبہ کو انگریزی پڑھاتی آئی ہیں اور اس درمیان کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔لیکن اب کالج انتظامیہ کی جانب سے انہیں برقعہ اتار دینے کی ہدایت قابل مذمت ہے۔
اس مکتوب استعفیٰ میں لیکچرار محترمہ چاندنی نے لکھا ہے کہ برقعہ پہننا ان کا مذہبی اور دستوری حق ہے۔اور ان کے اس حق کو کوئی بھی نہیں چھین سکتے۔اس حوصلہ مند خاتون لیکچرار محترمہ چاندنی نے اس معاملہ میں اپنا ایک ویڈیو بھی جاری کیاہے۔تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے کہ ٹمکور کے جین پی یو کالج کے انتظامیہ نے ان کا استعفیٰ قبول کیا ہے یا نہیں؟

اسی طرح "کوڈاگو” کے ایک کالج کی زائداز 15 طالبات نے بدستورآج بھی کالج کے گیٹ پر اپنا احتجاج رکھتے ہوئے انہیں حجاب کے ساتھ کالج میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔اس دؤران ان باحجاب طالبات نے ہمیں انصاف چاہئے،حجاب ہمارا حق ہے” کے نعرے بھی لگائے۔

اسی دؤران کرناٹک کے ہی وجئے پورہ کے اِدنی گورنمنٹ کالج کے انتظامیہ نے آج اس کالج کی غیرمسلم طالبات کو اس وقت ہدایت دی کہ وہ اپنی پیشانیوں پر بِندیا،کُم کُم اور ٹیکہ لگاکر کالج کو نہ آئیں جب وہ کلاس رومس میں داخل ہورہی تھیں۔جس پر چند طلبا نے پرنسپل سے بحث و تکرار کی کہ وہ ان غیرمسلم لڑکیوں کو ان کے مذہبی کلچر پرعمل کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟(بتایا جاتا ہے کہ ان میں وہ لڑکے بھی شامل تھے جنہوں نے زعفرانی شالوں کے ساتھ حجاب کے خلاف مہم میں حصہ لیا تھا؟جنہیں اس وقت مسلم لڑکیوں کے مذہبی کلچر کا خیال نہیں آیا تھا)؟؟
ہاسن میں بھی آج 20 مسلم طالبات نے حجاب کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہ دئی جانے کے خلاف کلاسیس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے مکانات کو واپس لؤٹ گئیں۔
اسی دؤران اُڑپی کے ملاگریس کالج کے مسلم لڑکوں نے ان لڑکیوں کی حمایت میں کلاسیس کا بائیکاٹ کیا جنہیں اس کالج میں حجاب کے ساتھ کلاسیس میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔تاہم وہاں موجود حجاب پہنیں لڑکیوں نے ان لڑکوں کے واک آؤٹ کے احترام کرتے ہوئے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں کالج عدالت اور کرناٹک حکومت کی ہدایات پر بے بس ہے۔پھر بھی یہ کالج کم از کم حجاب پہنیں طالبات کو کیمپس کے اندر آنے کی اجازت تو دے رہا ہے۔

https://twitter.com/dpkBopanna/status/1494572697879465984

دوسری جانب سابق چیف منسٹر کرناٹک و لیڈر آف اپوزیشن کرناٹک اسمبلی سدرامیا اور دیگر کانگریسی قائدین نے بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ارادہ مسلم طالبات کوتعلیم حاصل کرنے سے محروم رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپارٹمنٹ آف مینارٹی ویلفیئر گورنمنٹ آف کرناٹک کے ذریعہ جاری کردہ حکمنامہ کو سابق چیف منسٹر سدرامیا نے توہین عدالت کے دائرہ میں آتا ہے۔ 
یاد رہے کہ کرناٹک حکومت نے کل جمعرات کو حکم جاری کیا تھا کہ ریاست کے مولانا آزاد ماڈل انگلش میڈیم اسکولوں سمیت اقلیتی بہبود کے محکمہ کے زیر انتظام اسکولوں میں زیرتعلیم طلباء کو زعفرانی اسکارف،حجاب یا کوئی مذہبی نشانات نہیں پہننا چاہیے۔محکمہ اقلیتی بہبود، حج اور وقف محکمہ کے سکریٹری میجر منیوانن پی کے ذریعہ جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں تمام طلباء کو ان کے مذہب یا عقیدے سے قطع نظر اس کو روک دیا ہے۔
کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ کے دؤران قابل غور بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اگرچہ کرناٹک ہائی کورٹ کا عبوری عدالتی حکم صرف اسکولوں اور پی یو کالجوں تک ہی محدود ہے۔لیکن بیلگاؤں کے ایک پیرا میڈیکل کالج نے بھی حجاب پہنی ہوئیں مسلم طالبات کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔

KarnatakaHijabRow #Hijab#