طلبہ کے داداؤں نے کیوں پاکستان نہ جانے اور ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیا: بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی

 طلبہ کے داداؤں نے کیوں پاکستان نہ جانے اور ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیا؟
جہاں حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے: بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی کا ٹوئٹ

دہلی/بنگلورو :17۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

اب جبکہ کرناٹک کے چند اضلاع میں حجاب مخالف اور موافق مہم میں شدت کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ریاست کے تعلیمی اداروں میں سختی کے ساتھ ڈریس کوڈ کے نفاذ کا جی او 5 فروری کو جاری کردیا ہے۔اس کے بعدمسلم طالبات کی جانب سے اس جی او کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ کی قیادت میں سہء رکنی بنچ سماعت کررہی ہے اس سلسلہ میں فریقین کے وکلاء دلائل پیش کرتے ہوئے بحث میں مصروف ہیں۔

پانچ دنوں سے سماعت کے بعد آج 17 فروری کو ڈھائی بجے دن ان درخواستوں کی دوبارہ سماعت ہونے والی ہے۔

ایسے میں بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی جو کہ اپنی سیاسی سوچ اور کسی بھی مسئلہ پر دوٹوک تنقید کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں نے ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ لکھا ہے کہ”مسلم طلباء حجاب تنازعہ پر کلاسوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پہلے حجاب اور پھر پڑھائی۔یہ سب دیکھ کر میں حیران ہوں کہ ان کے داداؤں GrandFathers نے پاکستان جانے کے بجائے ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیوں کیا؟ سبرامنین سوامی نے لکھا ہے کہ وہاں حجاب سے کوئی مسئلہ نہیں ہے”۔

رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی کے اس ٹوئٹ پر ایک ٹویٹ صارف Shit@ نے کمنٹ کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ”کیوں کہ دادا نے گاندھی کے ہندوستان کا انتخاب کیا تھا گوڈسے کے نہیں”۔!!

اس کمنٹ میں جواب میں بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی نے لکھا ہے کہ”گوڈسے نے گاندھی کو گولی مار کر نہرو کو مکمل طاقت دی اور پٹیل کو کمزور کر دیا،گوڈسے بیوقوف تھا!! "۔

سبرامنین سوامی کے اس ٹوئٹ پر Nagarajan# نامی ٹوئٹر صارف نے کمنٹ کیا ہے کہ”نفرت کو فروغ دینے کے سوا کچھ نہیں۔کسی علم رکھنے والے شخص سے یہ توقع نہیں کی جاتی۔”

سوامی کے اس ٹوئٹ پر Nikhil Gupta@ نے کمنٹ کیا ہے کہ”وہ یہاں ایک اور پاکستان چاہتے ہیں.. وہ سناتنیوں کو اقلیت میں لانا چاہتے ہیں اور پھر جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ انہوں نے پاکستان میں کیا ہے..تقسیم کے وقت یہی پروپیگنڈہ پیش کیا گیا تھا”۔

جس کی تائید کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی نے اس ٹوئٹ کا جواب یوں دیا ہے کہ”ہاں! جو نعرہ میں نے ایک 7 سال کے بچے سے سنا تھا وہ یہ تھا کہ” ہنس ہنس کے ملا پاکستان،اب لڑلڑ کے لیں گے ہندوستان”۔ مجھے غصہ آگیا”۔(پتہ نہیں سبرامنین سوامی نے کہاں اور کس بچے سے یہ نعرہ سنا تھا؟)۔

سبرامنین سوامی کے اس ٹوئٹ پر "عادل مغل” نامی صارف نے کمنٹ کیا ہے کہ”اپنی بیٹی سے پوچھیں کہ وہ اس کی وضاحت کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان سے شادی کی ہے”۔

بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی کے اس ٹوئٹ کو34،600نے لائیک اور7،930نے ری۔ٹوئٹ کیا ہے۔جبکہ 1،464 ٹوئٹر صارفین نے تائید اور مخالفت میں کمنٹ کیے ہیں۔