کرناٹک حجاب تنازعہ :اگر پگڑی پہننے والے لوگ فوج میں ہوسکتے ہیں توحجاب پہننے والی لڑکیوں کو کلاس میں جانے کی اجازت کیوں نہیں؟ :ایڈوکیٹ روی ورما کمار

کرناٹک حجاب تنازعہ: ہائی کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی
اگر پگڑی پہننے والے لوگ فوج میں ہوسکتے ہیں توحجاب پہننے والی
لڑکیوں کو کلاس میں جانے کی اجازت کیوں نہیں؟
سماعت کے دؤران سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار 

بنگلورو: 16۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

کرناٹک کےتعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف داخل کی گئیں درخواستوں کی کرناٹک ہائی کورٹ میں سہءرکنی بنچ نے معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی قیادت میں جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس محترمہ زینب محی الدین قاضی کی جانب سے جاری سنوائی آج پانچویں دن بھی سماعت کے بعد ان درخواستوں کی دوبارہ سماعت کو کل 17 فروری،ڈھائی بجے دن تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

آج درخواستوں کی سماعت کے دؤران مسلم طالبات کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئرایڈوکیٹ پروفیسرروی ورما کمار نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ ریاست مسلم لڑکیوں کے ساتھ امتیاز برت رہی ہے اور یہ صرف مذہب کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ 5 فروری کے حکومتی حکم نامے میں حجاب پہننے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ دیگر مذہبی علامات کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔اس سے آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالفانہ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار نے عدالت سے کہا کہ "میری عرض یہ ہے کہ اگر پگڑی پہننے والے لوگ فوج میں ہوسکتے ہیں،تو حجاب پہننے والی لڑکیوں کو کلاس میں جانے کی اجازت کیوں نہیں”؟…انہوں نے مزید کہا کہ حجاب پر پابندی عائد کرنا ایک سخت فیصلہ ہے جو ان مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قیامت کا دن ہے جن کی کلاسوں میں موجودگی اب بہت کم ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے مستقبل میں مزید کم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن ایکٹ یا قواعد کے تحت حجاب پہننا ممنوع نہیں ہے۔سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار کی طرف سے کی گئی گزارشات کا پہلا حصہ یہ تھا کہ پری یونیورسٹی کالج کے لیے کوئی لازمی یونیفارم تجویز نہیں کیا گیا ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار نے کہا کہ”یہ صرف اس کے مذہب کی وجہ سے ہے کہ درخواست گزار کو کلاس روم سے باہر بھیجا جارہا ہے۔بندی پہننے والی لڑکی کو باہر نہیں بھیجا جاتا،چوڑی پہننے والی لڑکی کو نہیں بھیجا جاتا۔صلیب پہنے ہوئے ایک عیسائی کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔صرف یہ لڑکیاں کیوں؟یہ آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے "۔

دوسری جانب آج لڑکیوں کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔اس سماعت کے دؤران معزز چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ”کیا ہیڈ گیئر یونیفارم کا حصہ تھا”؟ تو ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے سر پر صرف ایک تہبند ڈال رہی ہیں۔جب ہم یونیفارم کہتے ہیں تو ہم سختی سے ڈریس کوڈ تک محدود نہیں رہ سکتے۔دیکھا جائے گا کہ اسکول میں کیا طرز عمل اپنایا گیا۔اسے بغیر اطلاع کے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت کو بتایا کہ یہاں اس معاملہ میں،لڑکیوں نے اسکولوں میں داخلہ کے بعد سے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا۔جس پر معزز چیف جسٹس نے پوچھا” کیا یہ یونیفارم کا حصہ ہے؟”

ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے اپنی بحث کے دؤران کہا کہ اگر لڑکی نےعینک پہن رکھی ہے تو کیااس پر اصرار کیا جاسکتا ہے کہ یہ یونیفارم کا حصہ نہیں ہے؟آپ اسے اتنی سختی سے نہیں لے سکتے؟۔معزز چیف جسٹس نے سوال کیا کہ”آپ کس تجویز پر اس فیصلے کا حوالہ دینا چاہتے ہیں؟ایڈوکیٹ مچھالا نے کہا”من مانی ظاہر کرنا”۔جس پر معزز چیف جسٹس نے کہا ٹھیک ہے۔

ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت سے کہا کہ”حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او G.O واضح من مانی کا شکار ہے۔میں سائرہ بانو (تین طلاق کیس) کے تین پیراگراف کا حوالہ دوں گا اور یہ ظاہر کروں گا کہ لڑکیوں کو اسکارف پہننے سے روکنے والا یہ جی او کس طرح صریح طور پر من مانی ہے”۔

Cartoon Credit: Satish Acharya,Cartoonist

سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے کہا کہ انصاف کو نوٹس کی ضرورت ہے۔انصاف کے لیے سننا ضروری ہوتا ہے۔پی ٹی اے کی کمیٹی اسکول میں کسی پریشانی سے بچنے کے لیے بنائی جاتی ہے،ان سے مشاورت نہیں کی جاتی۔انصاف کا تقاضا ہے کہ نوٹس دیا جائے۔انصاف کی بنیاد پر انہیں سنا جانا چاہیے تھا،ان کے والدین کو سنا جانا چاہیے تھا۔انہیں پیرنٹس ٹیچرز کمیٹی سے پوچھنا چاہیے تھا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی اے کمیٹی سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟ نفاذ کی جلدی کیا تھی؟ پہننے کا رواج اس وقت سے تھا جب سے انہوں نے اسکولوں میں داخلہ لیا تھا۔بدلنے میں کیا جلدی تھی؟۔

سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت کو بتایا کہ نفاذ والی جلدی یہ ہے کہ کچھ طلباء اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔وہ کسی مذہبی حقوق کا دعویٰ نہیں کرتے۔صرف لڑکیوں کی مخالفت،کیا یہی انصاف ہے؟ دونوں فریقین کو سن کر حل نکالنا چاہیے تھا۔یہ صریح من مانی کی بنیاد ہے۔

ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت کو بتایا کہ”مذہب کے اٹوٹ انگ سے متعلق سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آرٹیکل 26 کے تحت کسی فرقہ کے ذریعہ حق کا دعویٰ کیا جاتا ہے نہ کہ جب کوئی فرد آرٹیکل 25 کے تحت ضمیر کی آزادی کا دعویٰ کر رہا ہو”۔انہوں نے کہا کہ”ضمیر ایک بہت وسیع اصطلاح ہے۔ایسے لوگ ہیں جو خدا کو نہیں مانتے لیکن ضمیر پر یقین رکھتے ہیں۔کچھ ایسے ہیں جو تمام مذاہب کی آفاقیت پر یقین رکھتے ہیں۔معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھ چکے ہیں کہ آرٹیکل 25 کو راغب کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ یہ ایک ضروری مذہبی عمل ہو۔تو یوسف مچھالا نے کہا کہ”عقیدہ کی حفاظت کرنی ہوگی”۔

انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان لڑکیاں جو ایمانداری سے یہ مانتی ہیں کہ انہیں سر پر اسکارف پہننا چاہیے،انہیں تعلیم اور ایمان کے حوالے سے "ہوبسن کی پسند”پر کیوں رکھا جاتا ہے؟ کیا یہ منصفانہ عمل ہے؟انہوں نے جو اعتراض شروع کیا ہے وہ شہریوں کے بنیادی فرائض کے بھی خلاف ہے،کیونکہ یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے خلاف ہے۔سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالانے عدالت سے کہا کہ”ایجوکیشن ایکٹ کا مقصد ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے نہ کہ طلباء میں اختلاف پیدا کرنا۔حکومت کو اس طرح کی غیر قانونی قانون سازی کیوں کرنی چاہیے؟ کیا ہم اس سے مشترکہ بھائی چارہ کو فروغ دے رہے ہیں؟آئین ملک میں موجود تنوع کو مدنظر رکھتا ہے۔

جس پر معزز چیف جسٹس نے کہا ٹھیک ہے مسٹر یوسف صاحب،آپ جو کہہ رہے ہیں ہم سمجھ گئے ہیں۔آپ آج ختم کر سکیں گے؟۔ تفصیل کے لیے کوئی اور نکتہ؟ تو یوسف مچھالا نے تناسب پر بحث کرنے کے لیے کل کچھ وقت مانگا۔معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ عبوری یا آخری مرحلہ کے لیے دلائل دے رہے ہیں۔ہم نے کسی عبوری درخواست کو نہیں نمٹا دیا ہے۔یہ واضح ہونے دیں۔ہم نے صرف عبوری حکم پاس کیا ہے۔

اسی دؤران آج بھی کرناٹک کے مختلف اضلاع کے تعلیمی اداروں میں حجاب کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔وجئے پورہ کے کالج میں حجاب پہن کر بڑی تعداد میں کالج پہنچیں۔طالبات نے پرنسپل سے شکایت کی کہ انہیں کالج کے واٹس ایپ گروپ میں ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی کہ حجاب کے ساتھ کالج نہ آئیں۔تاہم پرنسپل نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے احکام کی پابندی کررہے ہیں۔لڑکیاں کئی گھنٹوں تک کالج گیٹ کے باہر ہی کھڑی رہیں۔جبکہ آج ان کے امتحانات ہونے والے تھے۔

(نوٹ عدالتی سماعت پرمشتمل اس خبر کی ترتیب میں ” لائیو لاء” کے "لائیو ٹوئٹس” سے بھی مدد لی گئی ہے)

ادھر کوڈاگو کے اسکول میں بھی طالبات نے بنا حجاب کے اسکول میں داخل ہونے سے انکار کرکے بدستور اسکول کے باہر بیٹھی رہیں۔

گورنمنٹ ہائی اسکول شیموگہ کی طالبات نے بھی حجاب اتارنے سے انکارکردیا۔انہیں اسکول کے اندر جانے کی اجازت نہ دینے پر ان کی اسکول کے حکام سے بحث بھی ہوئی۔اسکول کے عہدیداروں نے اصرار کیا کہ انہیں ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا۔دوسری جانب ٹمکور حجاب اور برقعہ پوش طالبات نے اسکول میں داخلہ کی اجازت نہ دئیے جانے کے خلاف اللہ اکبر اور ہمیں انصاف چاہئے کہ نعروں کے ساتھ ریالی کی شکل میں احتجاج منظم کیا۔

کرناٹک میں حجاب تنازعہ جو کہ اب ساری دنیا میں ایک موضوع بحث بن گیا ہے۔ایسے میں چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ” ایک بہت متحرک سول سوسائٹی وقت کی ضرورت ہے،یہ اس شہر کا خاصہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ غائب ہو گیا۔اسے دوبارہ زندہ کرنے اور نمما بنگلورو NammaBengaluru# کی نامیاتی ترقی کو فروغ دینے کا وقت ہے”۔تقریب سے اپنے خطاب میں چیف منسٹر بسواراج بومائی نے کہا کہ”آنے والے سالوں میں بنگلورو ایک ایسا شہر ہوگا جس کی جانب ملک کے دوسرے شہر دیکھیں گے اور اس کی تقلید کرنا چاہیں گے۔اس کے لیے ہمیں اس عمل کے ایک شراکت دار بنانے کی ضرورت ہے”۔

کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہ دئیے کے خلاف پیوپلس فرنٹ آف انڈیا(PFI)نے 17 فروری کو شیموگہ میں جمہوریہ بچاؤ یونٹی مارچ،ریالی اور اجتماع عام کا اعلان کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

"کرناٹک ہائی کورٹ میں آج حجاب معاملہ پر ہوئی سماعت اس دو گھنٹے طویل” کرناٹک ہائی کورٹ کے آفیشل یوٹیوب لائیو چینل” پر دیکھی اور سنی جاسکتی ہے”

KarnatakaHijabRow #KarnatakaHighCourt #Hijab#