اہم خبر : تلنگانہ میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جائے گا: چیف منسٹر کے سی آر
حیدرآباد :06مئی (سحرنیوزڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔ چندرا شیکھر راؤ نے آج واضح طور پر کہاہے کہ ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے جہاں عوامی زندگی پر اثر پڑے گا وہیں ریاست کی معیشت کے بھی تباہ ہوجانے کا خطرہ ہے۔ماضی کا تجربہ اور دیگر ریاستوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باوجود کورونا معاملات میں کمی نہ ہونے کے باعث چیف منسٹر نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

ریاست میں کورونا معاملات پر آج شام دیر گئے چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے پرگتی بھون میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔جس میں نائب صدر ریاستی منصوبہ بندی بوئنا پلی ونود کمار،ریاستی چیف سیکریٹری سومیش کمار، پرنسپل سیکریٹری محکمہ فینانس راما کرشنا راؤ، چیف منسٹر کےسیکریٹری بھوپال ریڈی، اسپیشل سیکریٹری محکمہ صحت رضوی، ہیلتھ ڈائرکٹر سرینواس راؤ،ڈی ایم ای رمیش ریڈی،کرونا کرریڈی،چندراشیکھر ریڈی اور گنگادھر کے علاوہ دیگر متعلقہ عہدیدار شریک تھے۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے کورونا وائرس کی وباء اور موجودہ حالات پر تفصیلی جائزہ لیا اور عہدیداروں سے فی الوقت حاصل ہونے والی آکسیجن کی مقدار،مزید آکسیجن کی ضرورت،کوویڈ ویکسین کی موجودہ تعداد،موصولی اور درکار تعداد، ریمیڈیسیور کی حصولی کی تعداد اور ریاست کو درکار تعداد اور ریاست میں جملہ آکسیجن بیڈس کی موجودگی اور دیگر اہم امور سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔
چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندرمودی سے فون پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریاست تلنگانہ کو ویکسین، آکسیجن اور ریمیڈیسیور روانہ کیے جائیں۔

چیف منسٹر نے وزیراعظم کو بتایا کہ ٹاملناڈو کے سری پیرمبدور اور کرناٹک کے بیلاری سے ریاست کیلئے مختص کی گئی آکسیجن نہیں مل رہی ہے چیف منسٹر نے وزیراعظم کو بتایا کہ حیدرآباد کے میڈیکل ہب بننے کے باعث دیگر ریاستوں بشمول آندھراپردیش، کرناٹک،مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ کے مریض بھی علاج کی غرض سے حیدرآباد کا رخ کررہے ہیں اور ان دیگر ریاستوں کے مریضوں کی بڑی تعداد میں حیدرآباد آمد کے باعث حیدرآباد کے ہسپتالوں پر کام کا بوجھ زائد ہوگیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کو چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے فون پر بتایا کہ تلنگانہ کی آبادی سے زائد دیگر ریاستوں کے کوروناوائرس متاثرین کی نصف تعداد کے علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل ہونے کے باعث حیدرآباد میں آکسیجن، ویکسین اور ریمیڈیسیور جیسے اہم ادویات کے حصول میں حکومت تلنگانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
فون پر بات چیت کے دؤران چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو روزآنہ 440 میٹرک ٹن آکسیجن حاصل ہورہی ہے اور اس میں اضافہ کرتے ہوئے ریاست کو 500 میٹرک ٹن آکسیجن فراہم کی جائے۔
اسی طرح ریاست تلنگانہ کو روزآنہ صرف 4,900 ہی ریمیڈیسیور حاصل ہورہی ہیں اور کم ازکم ریاست کیلئے روزآنہ 25,000 ریمیڈیسیور فراہم کی جائے چیف منسٹر نے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے اب تک ریاست کو 50 ڈوز ہی فراہم کیے ہیں تاہم حالات کے مطابق مزید ریمیڈیسیور کی ریاست کو ضرورت ہے۔

چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو فون پر بتایا کہ ریاست تلنگانہ کو روزآنہ دو تا ڈھائی لاکھ کوویڈ ویکسین کی ضرورت ہے اور مطالبہ کیا کہ فوری طورپر ریاست کو ویکسین فراہم کی جائے۔
چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ کے ان مطالبات کے بعد وزیراعظم نریندرمودی کی ہدایت پر مرکزی وزیر پیوش گوئل نے چیف منسٹر کے۔ چندرا شیکھر راؤ سے فون پر بات کرتے ہوئے تیقن دیا کہ وزیراعظم سے کی گئیں ان کی تمام نمائندگیوں پر فوری عمل آوری کی جائے گی اور ریاست تلنگانہ کو آکسیجن،ویکسین اور ریمیڈیسیور کی فوری سربراہی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ساتھ ہی مرکزی وزیر پیوش گوئل نے چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ کو تیقن دیا کہ ٹاملناڈو اور کرناٹک کے علاوہ ملک کی مشرقی ریاستوں سے بھی ریاست تلنگانہ کو آکسیجن کی سربراہی کے اقدامات کیے جائیں گے۔
بعدازاں چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے ریمیڈیسیور تیار کرنے والی کمپنیوں کے انتظامیہ سے فون پر بات کرتے ہوئے خواہش کی کہ ریمیڈیسیور کی ضرورت کے حساب سے ان کی تیاری میں اضافہ کیا جائے۔
چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے ہدایت دی کہ ریاست میں فی الوقت 9,500 آکسیجن بیڈس موجود ہیں اسکے ساتھ ساتھ اندرون ایک ہفتہ مزید 5,000 آکسیجن بیڈس قائم کیے جائیں۔
اس اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے ریاستی چیف سیکریٹری سومیش کمار کو ہدایت دی کہ بہتر آکسیجن کی فراہمی کی غرض سے 12 کریوجینک ٹینکر چین سے مال بردار طیاروں کے ذریعہ ہنگامی طورپر برآمد کیے جائیں اس فی ٹینکر کی قیمت ایک کروڑ روپئے ہے۔
اس جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ روزآنہ شام کو پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے میڈیا کو تمام تفصیلات سے واقف کروائیں اور اس کے لیے ڈائرکٹر آف ہیلتھ ذمہ داری لیں۔ ساتھ ہی ریاست میں کوروناوائرس سے متعلق محکمہ صحت کی جانب سے کیے جارہے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی عہدیدار کا تقرر عمل میں لایا جائے۔
چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں موجود پرنسپل سیکریٹری محکمہ فینانس راما کرشنا راؤ کو ہدایت دی کہ محکمہ صحت کو درکار فنڈس فوری طور پر جاری کیے جاتے رہیں اور فنڈس کی بلاء کسی روک ٹوک کے فوری طورپر جاری کرنے کیلئے ایک خصوصی عہدیدار مقرر کیا جائے۔
آکسیجن کی سربراہی سے متعلق جائزہ کے بعد چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے ریاست میں آکسیجن کی مقدار میں اضافہ کی غرض سے ڈائرکٹر آئی آئی سی ٹی چندراشیکھر سے فون پر بات کی اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ فوری طور پر ریاست میں آکسیجن کے ذخیرہ کیلئے کیا اقدامات کیے جائیں ان کے مشورہ کے بعد چیف منسٹر نے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ فوری طور پر 500 آکسیجن انریچر خریدے جائیں۔
چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے ریاست کے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا وائرس کے معاملہ میں ہرگز پریشان یا خوفزدہ نہ ہوں۔

اور اگر کسی کو شبہ ہو تو وہ خود اپنے طور پر ٹسٹنگ کیلئے آگے آئیں اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی "کوویڈ میڈیکل کِٹ” کا استعمال کریں۔
چیف منسٹر کے۔ چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ ” آشا ورکرس ” اور ” ایے این ایم ” ملازمین کے ذریعہ کوویڈ میڈیکل کِٹ گھر گھر پہنچائی جائے گی۔جس میں کورونا وائرس سے محفوظ رہنے پر مشتمل طبع کیے گئے بروچر کیساتھ ساتھ تمام ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔

