چیف منسٹرکے سی آر سیکولر شخصیت کے مالک، بی جے پی کی بی۔ٹیم ہونے کا الزام ایک سازش
کانگریس کے لیے مسلمان صرف ایک ووٹ بینک، میری پہلی کامیابی میں مسلمانوں کا رول ناقابل فراموش
تانڈور میں مسلم اجلاس سے چیئرمین وقف بورڈ مسیح اللہ خان، رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کا خطاب
وقارآباد/تانڈور: 20۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
محمد مسیح اللہ خان چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے کہاہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ ایک سیکولرشخصیت کے مالک ہیں اور بی آر ایس پارٹی ایک سیکولر جماعت ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام طبقات کےساتھ ساتھ ریاست تلنگانہ کےمسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کی غرض سے چیف منسٹر کے سی آر نے کئی ایک اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد گزشتہ دس سال کے دؤران ریاست کو فسادات اور کرفیو کی لعنت سے پاک رکھا گیا ہے اور یہ اس کی ایک زندہ اور واضح مثال ہے۔
محمدمسیح اللہ خان گزشتہ رات وقارآبادضلع کے تانڈور ٹاؤن میں موجود گورنمنٹ جونیئر کالج گراؤنڈ میں رکن اسمبلی و بی آرایس امیدوارحلقہ اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی زیر صدارت منعقدہ مسلمانوں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔جس میں کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ محمدمسیح اللہ خان نے اس مسلم اجلاس سے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل ہی پڑوسی ریاست کرناٹک میں بی جے پی نے مسلمانوں کے ساتھ حجاب اور حلال کے نام پرجو ظلم کیا تھا وہ دنیا جانتی ہے، لیکن اس دوران تلنگانہ میں ہندو اورمسلمان بھائی بھائی کی طرح رہتےآئے اورتلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کا پرچم بلند رکھا۔یہ بی آر ایس حکومت کاسب سے بڑا کارنامہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے درمیان بی آر ایس اور چیف منسٹرکے سی آر کی شبیہ اور مقبولیت کومتاثر کرنے کی کوشش کرتےہوئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ناکامی اور وقف اراضیات کی بربادی کا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ چیف منسٹر نے تحفظات کا مسودہ ریاستی اسمبلی میں منظور کر واکر اسے مرکزی حکومت کو منظوری کے لیے بھیجا تھا۔انہوں نے کہا کہ برسوں تک متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس دؤر اقتدار میں ہی وقف املاک کو تباہ و برباد کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ مخالفین بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا پروپگنڈہ کررہے ہیں،اگر ایسا ہوتا تو چیف منسٹر مسلم تحفظات کومنظور کروا لیتے۔جبکہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ تلنگانہ میں این آرسی پر عمل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس ریاست کا مسلمان کسی نہ کسی طریقہ سے بی آر ایس حکومت کی اسکیمات سے مستفید ہوا ہے۔
انہوں نے کانگریس کی گیارنٹی اسکیمات کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ ہمارے پاس پہلے ہی سے سب کچھ موجودہے۔چیئرمین تلنگانہ وقف بورڈ مسیح اللہ خان نے کہاکہ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی ایک سیکولر، ایماندار اور حرکیاتی قائد ہیں جو کروڑہا روپئے کا لالچ دینے کے بعد بھی فروخت نہیں ہوئے اور تانڈور کو مثالی ترقی دی۔انہوں نے کہاکہ تانڈور کی مزید ترقی کےلیے دوبارہ پائلٹ روہت ریڈی کو ہی ووٹ دیتے ہوئے کامیاب بنائیں اور جاریہ ترقی کو نہ روکیں۔
اس اجلاس سے اپنے خطاب میں رکن اسمبلی و بی آر ایس امیدوار حلقہ اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں میری کامیابی کے ذریعہ مجھے سیاسی زندگی دینے میں مسلمانوں کا رول ان کے لیے ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تانڈور میں اقلیتوں کا سیاسی استحصال کرنے اور انہیں صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنے کی غرض سے ایک سازش رچی جا رہی ہے اور اس پر فیصلہ کن انداز میں غور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

پائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ تانڈور میں امن و امان اور بھائی چارگی کی فضاء کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ان کی اور بی آر ایس کی کامیابی ضروری ہے۔پائلٹ روہت ریڈی نےکہا کہ تانڈور کی جاریہ ترقی کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پائلٹ روہت ریڈی نے کہاکہ کانگریس کے امیدوار پانچ منٹ بھی اردو میں خطاب کرنے کے اہل نہیں ہیں اوراس غیر مقامی امیدوار کو تانڈور کی ترقی اور اقلیتوں سے کوئی غرض نہیں ہے اور اقلیتوں کو ان کے خلاف ورغلانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

اس مسلم اجلاس میں حافظ و قاری محمد علی قادری صدر آل انڈیا مرکزی کونسل ائمہ مساجد،شیخ محمد مصطفی صدرمجتبیٰ ہیلپنگ فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ صدر بی آر ایس تانڈور ٹاؤن ایم اےنعیم افو، کارگزار صدر بی آر ایس سید زبیر لالہ،صدر بی آر ایس اقلیتی سیل محمد باسط علی،

ارکان بلدیہ مختار احمد ناز، محمد آصف،محمد اسلم،سابق نائب صدرنشین بلدیہ ایم اے علیم،سابق رکن بلدیہ محمد عرفان، سابق صدر مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن تانڈور محمد بابر، غلام مصطفیٰ پٹیل، بی آر ایس قائدین اکبر بابا، رافع خان، معز خان،امتیاز بابا،شبیر احمد گوپن پلی،محمدحسن پٹیل،شمس الدین کوآپشن ممبر،ایم اے رزاق بشیر آباد،محمد شبلی پدیمول کے علاوہ دیگر اقلیتی قائدین بھی موجود تھے۔


