رکن پارلیمان چیوڑلہ رنجیت ریڈی بی آر ایس پارٹی سے مستعفی، وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور انچارج دیپا داس منشی کی موجودگی میں کانگریس میں شامل

رکن پارلیمان چیوڑلہ رنجیت ریڈی بی آر ایس پارٹی سے مستعفی
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور انچارج دیپا داس منشی کی موجودگی میں کانگریس میں شامل

حیدرآباد/وقارآباد : 17؍مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

کانگریس پارٹی کی جانب سےگزشتہ سال ماہ ڈسمبر میں تلنگانہ میں 10 سالہ اقتدار سےبے دخل کیے جانے کے بعد بھارت راشٹرا سمیتی(بی آر ایس) کو لگاتار جھٹکے لگ رہے ہیں بی آر ایس کے ارکان پارلیمان،ارکان اسمبلی،سابق ارکان پارلیمان و ارکان اسمبلی،ارکان قانون ساز کونسل، صدور نشین ضلع پریشد،صدورنشین بلدیہ، کارپوریٹرس اور ارکان بلدیہ کے علاوہ کئی بڑے قائدین کانگریس پارٹی میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی سلسلہ کی ایک اور کڑی کےطور پر آج حیرت انگیز طریقہ سےحلقہ پارلیمان چیوڑلہ کے رکن پارلیمان ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی بی آر ایس سے مستعفی ہوگئے اور اپنا مکتوب استعفیٰ سابق وزیراعلیٰ و پارٹی سربراہ کے۔چندراشیکھرراؤ کو روانہ کر دیا۔

آج دوپہر مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس X (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے مکتوب استعفیٰ کےساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے لکھا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ بی آر ایس سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے اتنے دنوں تک پارٹی اورحلقہ پارلیمان چیوڑلہ کےعوام کی خدمت کا موقع دینے پرسابق وزیراعلیٰ کے سی آر اور کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی آر کےعلاوہ ان سے تعاون کرنے والے تمام افرادکا شکریہ ادا کیا ہے۔

اپنے استعفیٰ کے اعلان کے فوری بعد نامور بزنس مین و رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی رنجیت ریڈی جو کہ کے سی آر اور کے ٹی آر کے انتہائی قریبی اوربالخصوص متحدہ ضلع رنگاریڈی(اضلاع رنگاریڈی،میڑچل اور وقارآباد) میں پارٹی کے لیے ایک ٹربل شوٹر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور انچارج تلنگانہ پردیش کانگریس دیپا داس منشی کی موجودگی میں باقاعدہ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔اس موقع پر مشیر برائے حکومت تلنگانہ محمد علی شبیر،سابق وزیر و ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی اور آج ہی بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے والے رکن اسمبلی خیریت آباد دانم ناگیشور اور دیگر موجود تھے۔

جس کے بعد یہ تجسس پیدا ہوگیا ہے کہ کیا کانگریس پارٹی ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کو دوبارہ حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے ہی اپنا امیدوار بنائے گی۔؟کیونکہ گذشتہ ماہ سابق ریاستی وزیر و موجودہ ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی اور ان کی اہلیہ محترمہ مسز پی۔سنیتا مہندرریڈی نے بھی بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس کے بعد ان کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی کانگریس میں شامل ہوئی تھی۔

دوسری جانب جاریہ ماہ کانگریس کی جانب سےجاری کردہ لوک سبھا کے امکانی امیدواروں کی فہرست میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سےمسز  پی۔سنیتا مہندر ریڈی کے نام کا اعلان کیا گیا تھا۔اب ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کی بھی کانگریس میں شمولیت کے بعد تجسس پیدا ہوگیاہے کہ حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس کے امیدوار کون ہونگے۔؟حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 7 اسمبلی حلقہ جات چیوڑلہ، مہیشورم، سیری لنگم پلی،راجندر نگر، وقارآباد، پرگی اور تانڈور شامل ہیں۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے بی جے پی سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ ( 2014-2019 ) کونڈا وشویشور ریڈی کو اپنا امیدوار اعلان کرچکی ہے۔وہیں بی آر ایس پارٹی نے سابق رکن قانون ساز کونسل و سابق صدر تلنگانہ تلگودیشم کاسانی گنانیشور کے نام کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں ایسا امکان جتایا جا رہا ہےکہ کانگریس مسز پی۔سنیتا مہندرریڈی کو حلقہ پارلیمان ملکاجگیری سے اپنا امیدوار بناسکتی ہے؟ کیونکہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں حلقہ پارلیمان ملکاجگیری سے جملہ 6 لاکھ 3 ہزار 748 ووٹ حاصل کرتےہوئے اپنے مخالف ٹی آر ایس پارٹی کے امیدوار مری راج شیکھر ریڈی کو شکست دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔حلقہ پارلیمان ملکاجگیری میں 7 اسمبلی حلقہ جات میڑچل، ملکاجگیری، کوکٹ پلی، اوپل، قطب اللہ پور، سکندرآباد کنٹونمنٹ اور ایل بی نگر شامل ہیں۔

2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی امیدوار رام چندر راؤ 3 لاکھ 4 ہزار 282 ووٹ حاصل کرتےہوئے تیسرے نمبر پرتھے۔ اس کامیابی کے بعد ریونت ریڈی کی سیاسی طاقت میں اضافہ اور انہیں سیاسی عروج حاصل ہواتھا اور وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنےکے بعد ریونت ریڈی نے ملکاجگیری کی پارلیمانی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اب 2024 کے انتخابات میں حلقہ پارلیمان ملکاجگیری سے بی جے پی نےسابق ریاستی وزیر ایٹالا راجندر کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔یا پھرکانگریس کی جانب سے ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کو ملکاجگیری سے امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔؟

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/1059284595152021

رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کا شمار صاف و صفاف شخصیت کےمالک اور لوک سبھامیں سب سے زیادہ سوالات پوچھنے والے ارکان پارلیمان میں ہوتا ہے۔جنہوں نے 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے ٹی آر ایس پارٹی امیدوار کے طور پر 5 لاکھ 28 ہزار 148 ووٹ حاصل کرتےہوئے اس وقت کے اپنے کانگریس کے حریف امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی کو شکست دی تھی جو اسی حلقہ سے 2014کے پارلیمانی انتخابات میں ٹی آر ایس کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنےکے بعد دوسری مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں "

گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل میں نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران غیر ملکی طلباء پرہجوم کا حملہ، 5 زخمی، پتھراؤ اور ہاسٹل رومس میں توڑ پھوڑ

 

ملک میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے، اپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم اور زیورات نہ لے جائیں

لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا اعلان، 7 مرحلوں میں رائے دہی : چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی پریس کانفرنس