این ڈی اے اتحاد 400 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گا، تلنگانہ میں بی جے پی کی لہر
ہر ماں اور بیٹی شکتی کی شکلیں ہیں، شکتی کو تباہ کرنے والے بیان تنقید
تلنگانہ کے جگتیال میں وجئے سنکلپ سبھا سے وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب
حیدرآباد/جگتیال: 18۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ )
وزیراعظم نریندر مودی نے ممبئی میں منعقدہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے شیواجی پارک میں منعقدہ اختتامی جلسہ میں راہول گاندھی کی جانب سے شکتی کی تباہی والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے کہ ان کی لڑائی اقتدار کے خلاف ہے۔میرے لیے ہر ماں اور بیٹی شکتی کی شکلیں ہیں۔میں انہیں شکتی کے طور پر پوجتاہوں اور ان کی حفاظت کےلیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔انہوں نے کہاکہ چندریان کی کامیابی کی بھی شکتی کو شیوشکتی کا نام دے کر وقف کیا گیا۔نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک جانب وہ لوگ ہیں جو اقتدار کی تباہی کی باتیں کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے لوگ ہیں جوشکتی کی پوجا کرتےہیں۔یہ مقابلہ 4 جون کوہوگاکہ کون شکتی کو تباہ کرسکتا ہے اور کس کو شکتی کا آشیرواد مل سکتا ہے اور میں اس چیلنج کو قبول کرنے تیار ہوں۔
ریاست تلنگانہ کے ضلع جگتیال مستقر میں موجود گیتا ودیالیم گروانڈ میں منعقدہ بی جے پی کی جئے سنکلپ سبھاسے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج سارا ملک کہہ رہا ہے کہ این ڈی اے اتحاد 4 جون کو 400 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 جون کو آنے والے لوک سبھا کے انتخابی نتائج میں این ڈی اے 400 سیٹیوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔انہوں نے اپوزیشن اتحاد انڈیا الائنس پر تنقیدکرتے ہوئےکہاکہ ان میں کوئی اتحاد نہیں ہے۔اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتیں ایک دوسرے پرتنقید میں مصروف ہیں۔
نریندر مودی نے اپنے خطاب میں ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہےاور تلنگانہ کے رائے دہندے 13 مئی کو تاریخ رقم کرتے ہوئے وہ ترقی کے لیے بی جے پی کو ووٹ دیں گے۔انہوں نے اپیل کی کہ تلنگانہ کی ترقی کے لیے کانگریس اور بی آر ایس کو شکست دیتے ہوئے بی جے پی کو ووٹ دیں۔
وزیر اعظم مودی نے بھارتیہ راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) اور کانگریس پر اقربا پروری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ سے لوٹا ہوا پیسہ دہلی میں خاندان والوں کے خزانے میں جاتا ہےاور وہ انہیں نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کانگریس پارٹی ہے، جس نے تلنگانہ کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔دوسری طرف بی آر ایس پارٹی ہے جس نے تلنگانہ کےعوام کے جذبات کا استحصال کرتےہوئے اقتدار حاصل کیا اور بعد میں عوام کو دھوکہ دیا۔وزیراعظم مودی نے الزام عائد کیاکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کےبعد 10 سال تک بی آر ایس نے تلنگانہ کو مختلف طریقوں سے لوٹا اور اب کانگریس حکومت بھی یہی کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے بھی تلنگانہ کو اے ٹی ایم ریاست بنا دیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خاندان پرستوں کی پوری تاریخ پر ایک نظر ڈالیں ملک میں جتنے بھی بڑے گھوٹالے ہوئے ہیں ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی خاندانی پارٹی ضرور ملے گی۔ بی آر ایس اور کانگریس ایک دوسرےکو اندرونی طورپر جتنابھی بچانے کی کوشش کرلیں ان کی لوٹ مار کا حساب لیا جائے گا اور تلنگانہ کے عوام کو لوٹنے والوں کو وہ نہیں بخشیں گے اور ” یہ مودی کی گیارنٹی ہے۔”
رکن قانون ساز کونسل و دختر سابق وزیراعلیٰ تلنگانہ کے سی آر کے۔ کویتا کی گرفتاری پر پہلی مرتبہ اپنا ردعمل ظاہر کرتےہوئے نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس بی آر ایس کی بدعنوانی کی تحقیقات نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت پر کالیشورم پراجیکٹ میں بدعنوانی اور دہلی شراب گھوٹالہ معاملہ میں کمیشن لینے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کالیشورم کرپشن کو بی آر ایس اور کانگریس کی ملی بھگت قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ بی آر ایس نے شراب گھوٹالے میں بھی کمیشن لیا لیکن کانگریس حکومت بی آر ایس کے کرپشن کی تحقیقات نہیں کر رہی ہے۔بی آر ایس اور کانگریس دونوں پارٹیوں نے مجھے بدنام کرنا اپنا کاروبار بنا لیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی کی اس وجئے سنکلپ سبھا سے اپنے خطاب میں کہا کہ 13 مئی کو تلنگانہ میں ہونے والی رائے دہی ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ہوگی۔جب ہندوستان ترقی کرے گا تو تلنگانہ بھی ترقی کرے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہےاور لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ میں بی جے پی کی لہر کانگریس اور بی آر ایس کو شکست سے دو چار کر دے گی۔

” یہ بھی پڑھیں "

