کرناٹک: گلبر گہ ،سیڑم اور تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں آج رات 4.1شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ ،عوام میں خوف کا ماحول

گلبرگہ،سیڑم اور تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں آج رات 4.1 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ کیا گیا
دو دنوں کے دؤران زلزلے کے دو جھٹکےریکارڈ، دیہی عوام میں خوف کا ماحول

گلبرگہ/وقارآباد: 11۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام) 

تلنگانہ کی پڑوسی ریاست کرناٹک کے ضلع گلبرگہ (کلبرگی) سمیت تعلقہ سیڑم اور دیگر مقامات پر آج 11 اکتوبر کی رات 9 بج کر 54 منٹ پر 4.1 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں زلزلوں کے جھٹکوں کا ریکارڈ رکھنے والی قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ان علاقو میں زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.3 ریکارڈ کی گئی ہے 

Volcano Discovery کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زلزلہ پیر 11 اکتوبر 2021 کو مقامی وقت کے مطابق رات 9:54 بجے مرکز کے نیچے 5 کلومیٹر کی انتہائی گہرائی میں آیا۔

زلزلے کی حقیقی شدت،مرکز اور گہرائی سے متعلق اگلے چند گھنٹوں یا منٹوں میں نظر ثانی کی جا سکتی ہے کیونکہ زلزلہ کے ماہرین اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کے حساب کو بہتر بناتے ہیں، یا دوسری ایجنسیاں اپنی رپورٹ جاری کرتی ہیں۔Volcano Discovery کے مطابق اس زلزلہ کے جھٹکے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

تاہم اس زلزلہ کا خفیف جھٹکا زلزلہ کے مبدا سے 18 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود کرناٹک کے سیڑم تعلقہ،19 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود تعلقہ چنچولی، 33 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود چیتاپور،32 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ریاست تلنگانہ کے تانڈور ،44 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود کرناٹک کے شاہ آباد،45 کلومیٹر دور واقع واڈی،48 کلومیٹر کے فاصلہ پرموجود گلبرگہ (کلبرگی) اور زلزلہ کے مبدا سے 67 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود میں بیدر میں بھی زلزلہ کا خفیف جھٹکا محسوس کیا گیا ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ کل 10 اکتوبر بروز اتوار کو 5-6 بجے صبح بھی کرناٹک کے گلبرگہ (کلبرگی)ضلع میں موجود چنچولی تعلقہ کے موضع گڑھی کیشور کے علاوہ اس کے اطراف دس کلومیٹر تک کے مواضعات میں زلزلہ کا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا تھا اور حواس باختہ موضع کے عوام اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔

اس سلسلہ میں قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ کرناٹک کے اس علاقہ میں زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ریاست تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی تانڈور سے زلزلہ سے متاثر مواضعات کا فاصلہ 50 کلومیٹر ہے۔جبکہ ان زلزلہ سے متاثرہ مواضعات سے گلبرگہ (کلبرگی) کا فاصلہ 60 کلومیٹر ہے۔

کل کرناٹک کے گڑھی کیشور کے ساتھ ساتھ دس کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود موضع ہل چیر کے علاوہ قریبی مواضعات کوڑلی،ہوسلی،کوروی،بیرنلی، تیگل چٹی کے علاوہ کئی قریبی مواضعات میں بھی زلزلہ کا جھٹکا محسوس کیا گیا تھا اور مکانات میں موجود مختلف اشیاء بھی بکھر گئی تھیں۔

اس علاقے کے متاثرہ مواضعات کے عوام کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ تا چھ دنوں سے زمین کے اندر سےمختلف آوازوں کے ساتھ زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے جارہے ہیں اور عوام زلزلہ کے خوف سے اپنے مکانات کے باہر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔اور ان مواضعات کے عوام شدید پریشان ہیں کہ مستقبل میں کوئی بڑا زلزلہ کا جھٹکا نہ آجائے۔

ان کا حکومت کرناٹک اور پڑوسی ریاست تلنگانہ کی حکومتوں سے شدید مطالبہ ہے کہ ماہرین اراضیات کی ٹیموں کو ان علاقوں میں روانہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان سے قبل منصوبہ بندی کی جاسکے!

دوسری جانب ریاست تلنگانہ کے تانڈور سے کرناٹک کا چنچولی تعلقہ صرف 30 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور تانڈور سے 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہی کرناٹک کی سرحد کا آغاز ہوتا ہے۔

جبکہ ریاست تلنگانہ کے ظہیرآباد اور کوہیر سے بھی کرناٹک کی سرحدات بہت قریب ہیں انہی کے قریبی کرناٹک کے مقامات کنچاورم اور چندا پور میں بھی وقفہ وقفہ سے زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

گلبرگہ ضلع کے کالگی کے ساکن وجئے کمار چینگٹے نے رات دس بج کر سات منٹ پر "سحرنیوز ڈاٹ کام” کے نمائندہ کو واٹس ایپ پر کنڑا زبان میں ایک پیغام روانہ کیا کہ "آج سب سے زیادہ زمین کانپی ہے،چنچولی اور کالگی کے لوگ شدید خوف و ہراساں ہیں”۔

جبکہ ٹوئٹر پر چندو ہولی Chandu Holi# نے اپنے دو ٹوئٹ میں باقاعدہ چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی کے دفتر اور دیگر کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” آج 11 اکتوبر کی رات 10-10بجے ضلع گلبرگہ کے ہل چیرا،ہوسلی،گڑھی کیشور کے علاوہ دیگر قریبی مواضعات میں زلزلہ کا جھٹکا محسوس کیا گیا ہے۔

چندرا ہولی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور میری اپیل ہے کہ فوری طور پر ان تمام مواضعات کوماہرین اراضیات کی ٹیم روانہ کی جائے کیونکہ ان تمام مواضعات کے عوام گھبرائے ہوئے ہیں اور وہ اپنے گھروں میں جانے سے ڈر رہے ہیں اور وہ شدید پریشان ہیں کہ رات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔”

یاد رہے کہ جاریہ سال 20 اگست کی شام ساڑھے سات بجے بھی چنچولی تعلقہ کے انہی مواضعات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

” کل 10 اکتوبر کو تعلقہ چنچولی،ضلع گلبرگہ کے مختلف مواضعات میں ریکٹر اسکیل پر 3.4 شدت کے ریکارڈ کیے گئے زلزلہ کے جھٹکے کی تفصیلی رپورٹ سحرنیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے ” 

تلنگانہ۔کرناٹک سرحدپر: تعلقہ چنچولی،ضلع گلبرگہ کے مواضعات میں 3.4 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ