مراٹھواڑا میں ناقص ریلوے نیٹ ورک کے لیے نظام حیدرآباد ذمہ دار : مرکزی وزیرمملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے

مراٹھواڑا میں ناقص ریلوے نیٹ ورک کے لیے نظام حیدرآباد ذمہ دار
مرکزی وزیرمملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے کا الزام
نظام 70 سال قبل چلے گئے اور وزیر اب رو رہے ہیں:رکن پارلیمان امتیاز جلیل

اورنگ آباد : 05۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

مرکز کی بی جے پی حکومت کےمتعلق مشہور ہےکہ وہ ہر اچھے کا م کا سہرا خود کے سر باندھتی ہے۔اور کچھ غلط ہوگیا تو نہرو اور کانگریس کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔اور دعویٰ کیاجاتا ہے کہ آزادی کے 75سال بعد بھی ملک کی ترقی نہیں ہوئی۔جبکہ اس میں خود واجپائی قیادت والی اور بی جے پی کی تائید والی مرکزی حکومتوں کے 11 سال بھی شامل ہیں۔!!

اب بی جے پی کی تان گھوم پھرکر سابق ریاست حیدرآباد کے حکمراں نظام پر ٹوٹی ہے۔دراصل مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے نے کل منگل کو کہاکہ مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے میں اچھے ریلوے نیٹ ورک کی کمی ہے کیونکہ یہ علاقہ کبھی نظام کے دؤر حکومت میں شامل تھا۔
مرکزی وزیرمملکت برائے ریلوے،کوچ کی دیکھ بھال کی سہولت کے لیے تعمیر کی جارہی فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ مراٹھواڑہ میں ریلوے کے خراب نیٹ ورک کی وجہ یہ ہے کہ یہ خطہ نظام کے تحت تھا نہ کہ برطانوی راج کے تحت اور نظام کو ریلوے کی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ مراٹھواڑہ آزادی سے پہلے حیدرآباد کی شاہی ریاست کا حصہ تھا۔بی جے پی لیڈر مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے نے یقین دلایا کہ نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اس خطہ میں ریلوے نیٹ ورک میں اضافہ کرے گی۔

مرکزی وزیر مملکت دانوے کے اس بیان پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کےلوک سبھا رکن اؤرنگ آباد امتیازجلیل نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نظام 70 سال قبل چلے گئے اور مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے آج بھی ان کا نام لے کر رو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اورنگ آباد ریلوے اسٹیشن کے لیے ایک نئی شکل دینے کا اعلان کیا تھالیکن جب ٹرینیں نہیں ہیں تو اس کا کیا فائدہ؟انہوں نے کہاکہ ہم مرکزی وزیرمملکت برائے ریلوے سے اؤرنگ آباد سےشمالی ہندوستان اور دیگر خطوں کے لیے مزید ٹرینوں کے اعلان کی توقع کررہے تھے۔

وہیں مرکزی وزیرمملکت برائے ریلوے دانوے نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ”رکن لوک سبھا اورنگ آباد امتیاز جلیل کےساتھ ان کے صحت مند اور دوستانہ تعلقات ہیں۔”جو آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن ایسا لگتاہے کہ وہ بی جے پی کے آدمی ہیں۔”

جس پر رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے کہا کہ” میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے ساتھ ہوں۔اور اسی کے ساتھ رہوں گا۔میں بی جے پی میں شامل ہونے کا گناہ نہیں کروں گا۔”