سووا وائرس Sova Virus سے موبائل فون صارفین ہوشیار
ایس ایم ایس کے ذریعہ آنے والے ترغیبی لنک کو ہرگز کلک نہ کریں
بینکوں کا کھاتہ داروں کو انتباہ، فیسٹیول سیز ن میں ہیکرز کا نیا جال
حیدرآباد: 05۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
سائبر جرائم انجام دینے والے دھوکہ باز اور جعلساز مختلف طریقوں سےعوام کو دھوکہ دیتے ہوئے ان کی رقم پرہاتھ صاف کرنے میں مصروف ہیں۔چند دنوں میں ہی ان کا یہ طریقہ کار تبدیل ہوتارہتا ہے۔اکثر اس طرح سائبر جرائم کاشکار ہوکر اپنی رقم سے محروم ہونےوالوں کی خبریں دیکھ کربھی ایسے کئی لوگ ہیں جو لالچ کا شکارہوکر ان دھوکہ بازوں اور جعلسازوں کے جال میں پھنس کر اپنی رقم گنواتے رہتے ہیں۔
اب چونکہ ماہ اکتوبر سے نومبر اور ڈسمبر تک دسہرہ،دیوالی اور کرسمس تہوار سیزن کا آغاز ہوگیا ہے تو مختلف شورومز سے اور آن لائن خریداری بڑھ جاتی ہے اور اب اس سیزن میں سائبر جرائم انجام دینے والے دھوکہ بازمتحرک ہوگئے ہیں کیونکہ اس سیزن کے دوران زیادہ تر گوگل پے ،فون پے یا کسی اور یو پی آئی UPI App# کے ساتھ ساتھ نیٹ بینکنگ،کریڈٹ کارڈ اور ڈیبیٹ کارڈز کےذریعہ آن لائن رقمی ادائیگی ہوتی ہے۔
ایسے میں یہ جعلساز اور دھوکہ باز نئے طریقہ سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔اور اب انہوں نے رقم منتقل کرنے کرلینے کی غرض سے ان ایپ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔اور اس کے لیے باقاعدہ ایک وائرس بھی تیار کرتے ہوئے عوام کوموبائل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعہ روانہ کیا جارہا ہے۔
ایس ایم ایس کے ذریعہ آنے والی اس لنک کو کلک کرنے کے فوری بعد اس موبائل فون میں موجود نیٹ بینکنگ اور گوگل پے،فون پے،پے ٹی ایم سمیت دیگر یوپی آئی ایپ کی مکمل اطلاعات اور پاس ورڈز ہیک کیے جارہے ہیں۔
پہلے یہ جعلساز کسی بھی ایس ایم ایس کے ذریعہ ایک لنک بھیجا کرتےتھے اور ایک وقت کے لیے ہی نشانہ بناتے ہوئے رقم اڑالیا کرتے تھے لیکن اب جو ایس ایم ایس کے ساتھ لنک بھیجاجارہا ہے اس میں ایک خفیہ وائرس پوشیدہ ہوتا ہے۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق اس وائرس کا نام”سووا وائرس Sova Virus/ #Sova Malware / #Sova Trojan# "ہے۔جسے عام ایس ایم ایس کے ذریعہ بھیجا جارہا ہے۔اور جونہی ایس ایم ایس کےذریعہ موصول ہونےوالے اس وائرس پرمشتمل لنک کوکلک کیا جاتا ہے تو ان جعلسازوں کے ذریعہ منٹوں میں ساراموبائل فون ہی ہیک کرلیاجاتا ہے۔اور ساتھ ہی اس سووا نامی وائرس کےایک بارکسی کےموبائل میں داخل ہوجانے کے بعد سارا موبائل فون ہیکرز کے قبضہ میں ہوجاتا ہے۔
اس وائرس کےذریعہ دور کہیں بیٹھے ہوئےجعلسازوں کی جانب سےموبائل فون میں موجود سارا ریکارڈ،پاس ورڈز،گھریلو و ذاتی تصاویراور ڈاکیومنٹس تک ہیک کرلیے جاتے ہیں۔اور صارف کی جانب سے اس کے موبائل فون کے استعمال پر نظر رکھی جاتی ہے۔جیسا کہ پیگاسیس کےمعاملہ کہا جاتا ہے۔یہاں تک کےصارف کے بینک اکاؤنٹ سے گوگل پے،فون پے،پے ٹی ایم کے ذریعہ منتقل کی جانے والی رقم کے میسیج تک موبائل فون کے مالک کو موصول نہیں ہوتے۔رقم کےسرقہ کا اس وقت پتہ چلتا ہےجب موبائل مالک اپنی ضرورت کے وقت اپنا بینک اکاؤنٹ خالی دیکھتا ہے۔اس سلسلہ میں بینکوں نے بھی اپنے کھاتہ داروں کو متنبہ کرنا شروع کردیا ہے۔

بینکوں کی جانب سے کھاتہ داروں کی سہولت کی غرض سے گوگل پے،فون پے،پے ٹی ایم اور دیگر منی ٹرانسفر ایپ کی سہولت فراہم کی گئی تھی لیکن اب یہ دھوکہ باز و سائبر جعلسازوں نے ان کے نقلی ایپ بھی تیار کرلیے ہیں جو کہ ہو بہو ان جیسے ہی نظرآتے ہیں۔
اب یہ جعلساز ان بینکنگ ایپ کے ذریعہ رقمی لین دین کی تفصیلات”سووا موبائل بینکنگ مال ویر(وائرس)” کی مدد سے حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اور اس کےلیے عوام کے موبائل فون پر کسی نہ کسی پیغام کےساتھ اس سووا وائرس کی لنک روانہ کی جارہی ہے۔
موبائل فون استعمال کرنے والے اور بینک صارفین اس بات کو دھیان میں رکھیں کہ کسی بھی پیغام کے ساتھ ایس ایم ایس کے ذریعہ آنے والی کسی بھی غیر مصدقہ لنک کوغلطی سے بھی ہرگز کلک نہ کریں اور فوری اس ایس ایم ایس کو ڈیلیٹ کردیں۔اور ساتھ ہی جس موبائل نمبر سے بھی اس قسم کے ایس ایم ایس یا کال موصول ہورہے ہیں انہیں فوری بلاک کردیں۔
موبائل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعہ آنے والی لنک کو کلک کردیا گیاتو اس کے ذریعہ اینڈرائیڈ ٹروجن خودکار طریقہ سے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ ہوجائے گا۔اس کےبعد موبائل بھلے ہی آپ کے ہاتھ میں موجود ہولیکن اس کی مکمل تفصیلات اس وائرس کے ذریعہ ہیکرز تک پہنچنا شروع ہوجائیں گی اور منٹوں میں جہاں آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی ہوجائے گا وہیں آپ کے موبائل فون کی آپریٹنگ ہمیشہ ہیکرز کی گرفت میں ہوگی۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق ” انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم "نے اس”سووا وائرس"کے متعلق اطلاع تمام بینکوں کو فراہم کرچکی ہے۔اور اس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے اور کس طرح کی احتیاط کی جاسکتی ہے؟اس کے طریقہ کاربھی بتاچکی ہے۔اطلاع ہےکہ اس کےبعد اسٹیٹ بینک آف انڈیا،ایچ ڈی ایف سی،کینرا بینک،پنجاب نیشنل بینک،آئی ڈی بی آئی اور دیگر بینکوں نے ایس ایم ایس کےذریعہ اپنے کھاتہ داروں کو چوکس کرتے ہوئے کسی بھی ایس ایم ایس کے ذریعہ آنے والی لنک کو کلک نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق یہ سووا وائرس (مال ویر Malware#) فون میں داخل ہوکر اس میں موجود تمام ذاتی معلومات حاصل کرلیتا ہے اور نیٹ بینکنگ یا ایپ کو استعمال کیے جانے کے دؤران پاس ورڈز Password# کی چوری کرلیتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایک مرتبہ جب یہ سووا وائرس کسی موبائل فون میں داخل ہوجاتا ہے تو پھر اس کو نکالنا ناممکن بن جاتا ہے۔اور یہ وائرس زیادہ تر ایس ایم ایس کے ذریعہ ہی موبائل فونس پر روانہ کیا جاتا ہے۔اور موبائل فون کا مکمل کنٹرول ہائیکرز کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہے۔اور ایسی جعلسازی و دھوکہ دہی کے واقعات کی بھی اطلاع ہے۔
ماہرین کے مطابق سووا وائرس اتنا خطرناک اور طاقتور ہوتا ہے کہ ایک ساتھ 200 سے زائد نیٹ بینکنگ،گوگل پے، فون پے، پے ٹی ایم اور دیگر یوپی آئی سسٹم کے بشمول دیگر مالی لین دین کے ذرائع پر اثر اندازہوتا ہے۔اور ساتھ ہی یہ کریپٹو کرنسی کے لین دین پر بھی اثر انداز ہوکر صارفین کے بینک کھاتوں کو خالی کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
آئی ٹی ماہرین ہمیشہ مشورہ دیتے ہیں کہ کوئی بھی ایپ صرف گوگل ایپ کے ذریعہ ہی ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کیا جائے۔کسی اور کے ذریعہ روانہ کی جانے والی AKP# لنک کے ذریعہ ہرگز کوئی ایپ موبائل میں ڈاؤن لوڈ نہ کی جائے۔اور ان ایپ کو باقاعدہ اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے۔ماہرین نے سخت مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ایس ایم ایس کے ذریعہ موصول ہونے والی لنک کو ہرگز کلک نہ کیا جائے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہر موبائل صارف کو روز دو تا تین اجنبی نمبروں سے کالز آتے ہیں۔اور ساتھ ہی دو تا تین ایس ایم ایس بھی موصول ہوتے ہیں۔جن میں لکھا جاتا ہے کہ "آپ کا بینک اکاؤنٹ منجمد(بلاک) کردیا گیا ہے اس لنک کو کلک کرکے تفصیلات دیں۔
"کبھی ایسا ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے کہ”آج آپ کے مکان کی برقی سربراہی منقطع ہونے والی ہے فوری اس لنک کے ذریعہ بل کی رقم ادا کریں۔”
یا پھر ایک ایس ایم ایس ایسا آتا ہے کہ”آپ کو لاٹری میں 5 لاکھ روپئے کی رقم حاصل ہوئی ہے۔اسےحاصل کرنےکےلیے اس لنک کو کلک کریں۔تو ایسے کسی بھی ایس ایم ایس SMS# پر ہرگز یقین نہ کریں۔اور نہ ہی لنک کو کریں۔
دوسری جانب چونکہ تہواروں کاموسم ہے توہمیشہ کی طرح اب واٹس ایپ پر بھی مختلف لنکس پرمشتمل میسیج وائرل ہوتے ہیں۔کئی افراد کی جانب سے یہ میسیج واٹس ایپ کے کئی گروپس کے ساتھ ساتھ اپنے دوست احباب کو بھی روانہ کیا جاتا ہے۔
یا پھر یہ میسیج روانہ کرنے والوں کی جانب سے کلک کرنے کے فوری بعد ان کے موبائل میں موجود تمام واٹس ایپ گروپس اور نجی طور پر کئی افراد کے واٹس ایپ پرآٹومیٹک پہنچ جاتا ہے۔اور اس پر Forwarded نظرنہیں آتا ہے۔
اور یہ لنک DMart 20th Anniversary,Free Gift For Everyone پر یا پھر آمیزان یا کسی اور کمپنی کے خوبصورت تحفہ کی شکل پرمشتمل اور اس کے ساتھ ایک لنک بھی موجود ہوتی ہے۔یہ بھی ایک مالویر/وائرس ہی ہوتا ہے۔ایسے میسیج کو بھی فوری طور پر ڈیلیٹ کردینا ہی سب کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

دوسری جانب لون ایپ کی وجہ سے بھی سینکڑوں موبائل صارفین پریشان ہیں،حتیٰ کہ ان لون ایپس کی ہراسانی اور کےباعث کئی افرادخودکشی بھی کرچکے ہیں۔ان لون ایپس سے بھی دور رہیں اور انہیں بھول کر بھی اپنے موبائل فون میں ڈاؤن نہ کریں۔ماہرین کے مطابق یہ لون ایپ زیادہ تر چین سے چلائے جارہے ہیں۔اور ان کا نشانہ ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری ہیں۔

یہ لون ایپ صارف کے موبائل کا مکمل ریکارڈ ہیک کرتے ہوئے پہلے تو یہ بناء کسی اطلاع چند ہزار روپئے آپ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں،پھر اس کو قرض قرار دیتے ہوئے ہزاروں روپیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے موبائل فونس سے اڑائی گئیں صارف کی تصاویر کو مورفنگ کے ذریعہ برہنہ کرتے ہوئے واٹس ایپ پر روانہ کرکے بلیک میل کرنا شروع کردیتے ہیں۔ایسے کئی واقعات منظر عام پر آچکے ہیں۔اور زیادہ تر موبائل صارفین اپنی عزت کے خوف سے ان دھوکہ بازوں کو ہزاروں روپئے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
نوٹ:اس وائرس،ایس ایم ایس میسیجس اور لون ایپ کے ذریعہ جاری اس دھوکہ دہی سے ان عام لوگوں کو بھی واقف کروائیں جو میڈیا کے ذریعہ واقف نہیں ہوپاتے۔اپنے تمام رشتہ داروں اور احباب کو بھی اس جعلسازی سے واقف کروائیں۔تاکہ وہ اپنی رقم اور ذہنی اذیت سے محفوظ رہ پائیں۔

