تلنگانہ : ورنگل کے ٹی آر ایس لیڈر نے حمالوں میں مفت مرغ اور شراب تقسیم کی، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل، شدید تنقید

تلنگانہ: ورنگل کے ٹی آر ایس لیڈر نے حمالوں میں
مفت مرغ اور شراب تقسیم کی،سوشل میڈیا پر شدید تنقید

حیدرآباد: 04۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ایک طرف جہاں چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ قومی سیاست میں قدم رکھنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔وہیں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ ان کے چند پارٹی قائدین اپنی حرکتوں کے ذریعہ ان کی اور ٹی آر ایس پارٹی کی شبیہ خراب کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں!

گزشتہ دنوں ایک ٹی آر ایس پارٹی لیڈرنے گنیش وسرجن جلوس کےدؤران معظم جاہی مارکیٹ پر منعقدہ پروگرام کےموقع پر باقاعدہ ڈائس پر چڑھ کر چیف منسٹر آسام ہیمنتا بسوا شرما کے ہاتھ سے مائیک چھیننے کی کوشش کی تھی کہ وہ چیف منسٹر تلنگانہ کے خلاف ریمارکس کررہے ہیں۔اس معاملہ میں بی جے پی کےہاتھوں میں بٹیر لگ گیاتھاکہ ایک ریاست کےمہمان چیف منسٹر کے ساتھ یہ برتاؤ کیاگیا۔اس ٹی آر ایس لیڈرکی شناخت نندا کشور ویاس عرف نندو بلال کے طور پر ہوئی تھی جو گوشہ محل ٹی آر ایس پارٹی کے انچارج بتائے گئے۔

وہیں آج ضلع ورنگل میں ٹی آر ایس لیڈر راج نالہ سری ہری نے دسہرہ کے دن چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کی جانب سے قومی پارٹی کے اعلان اور باقاعدہ ان کے قومی سیاست میں داخلہ کی خوشی میں ورنگل کے چوراہے پر 200 زندہ مرغ اور 200 شراب کی بوتلیں مقامی حمالوں میں قطار لگاکرتقسیم کیں۔اس واقعہ کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا اور نیشنل و علاقائی میڈیا چینلوں پر موضوع بحث بن گئے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ قبل ازیں راج نالہ سری ہری نے مندر میں خصوصی پوجا کا بھی اہتمام کیا تھا۔

عام طور پر دیکھا یہ جاتا ہےکہ سیاسی قائدین کی سالگرہ یا دیگر تقاریب کے موقع پر کیک کاٹے جاتے ہیں یا پھر مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔یا ہسپتالوں میں جاکر غریب مریضوں میں پھل تقسیم کیے جاتے ہیں۔لیکن ورنگل کے اس ٹی آر ایس لیڈر نے پہلی مرتبہ کھلے عام سڑک پر ویڈیو کیمروں کےسامنے قطارلگاکر مرغ وشراب تقسیم کرتےہوئے بتادیا کہ سیاست اور سیاستدانوں کی سوچ کس حدتک گرچکی ہے ؟یہ دونوں واقعات اشارہ دے رہے ہیں کہ ٹی آرایس پارٹی کے لیے کسی اپوزیشن یا دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔ان دونوں واقعات میں ملوث ٹی آر ایس لیڈروں کے خلاف پارٹی ہائی کمان کی خاموشی معنی خیز ہے!!

سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز میں دیکھاجاسکتا ہے کہ چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ اور کارگزار صدر و ریاستی وزیر آئی ٹی،بلدی نظم نسق و صنعت کے۔تارک راماراؤ (کے ٹی آر )کے کٹ آؤٹس لگے ہوئے ہیں۔اس کے بازو ایک گاڑی کھڑی ہے اور ان کٹ آؤٹس کے سامنے ٹی آر ایس لیڈر راج نالہ سری ہری حمالوں میں ایک عدد زندہ مرغ اور ایک شراب کی بوتل تقسیم کرتے جارہے ہیں اور انہیں لینے کےلیے لوگوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعہ کےبعد ٹی آر ایس پارٹی کو شدیدتنقید کانشانہ بنایاجارہا ہے۔دوسری جانب اطلاعات کےمطابق ضلع ورنگل کے راج نالہ سری ہری نے2018کے اسمبلی انتخابات میں بحیثیت آزاد امیدوارمقابلہ کیاتھا۔شکست کےبعد وہ ٹی آرایس پارٹی میں شامل ہوگئے۔